1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان، مشرق وسطیٰ اور ویسٹر ویلے

رپورٹ:شہاب احمد صدیقی ، ادارت : امجد علی29 ستمبر 2009

جرمنی کے عام انتخابات ميں فری ڈيموکريٹک پارٹی ايف ڈی پی کی شاندار کاميابی کے بعد اس کے قائد گِیڈو ويسٹر ويلے، کرسچین ڈيموکريٹک پارٹی کے ساتھ بننے والی مخلوط حکومت ميں وزير خارجہ کا عہدہ سنبھالنا چاہتے ہيں۔

https://p.dw.com/p/JslT
ویسٹر ویلے اور چانسلر میرکلتصویر: AP

جرمنی کی آئندہ حکومت تشکيل دينے والی جماعتوں سی ڈی يو اور ايف ڈی پی ميں خارجہ اور سلامتی کی حکمت عملی کے سلسلے ميں بہت سے نکات پر اتفاق رائے پايا جاتا ہے ليکن سب پر نہيں، مثلاً افغانستان کے بارے ميں وہ متفق نہيں ہيں۔ ايف ڈی پی کا کہنا ہے کہ سی ڈی يو اور ايس پی ڈی کی سابقہ مخلوط حکومت نے افغانستان کی تعمير نو کے سلسلے میں کوتاہی کی ہے۔

ايف ڈی پی کے قائد اور وزارت خارجہ کے عہدے کے طلبگار گيڈو ويسٹر ويلے کہتے ہيں کہ جرمن حکومت نے خاص طور پر افغان پوليس کی تربيت کے حوالے سے اپنے وعدے پورے نہيں کئے۔ اُن کا خیال ہے کہ جرمنی نے ان ذمے داريوں ميں سے تقريباًصرف آدھی پوری کر رہے ہيں، جو جرمن حکومتوں نے عالمی سطح پر قبول کی ہيں۔ ویسر ویلے کے خیال میں افغانستان کی اپنی پوليس کی تربيت کے کام ميں ايسی لا پرواہی نہيں کی جانی چاہئے۔

Deutschland Bundestagswahlen 2009 Elefantenrunde FDP Guido Westerwelle Flash-Galerie
ایف ڈی پی پارٹی کے چیرمین گیڈو ویسٹر ویلےتصویر: AP

ويسٹر ويلے نے افغانستان کے ايک دورے کے موقع پر اس بات پر حيرت ظاہر کی تھی کہ اس بڑے ملک ميں پوليس کو تربيت دينے کا کام انجام دينے والے غير ملکی ماہرين کی تعداد کتنی کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نيٹو اور غيرملکی افواج تب ہی افغانستان سے واپس آ سکتی ہيں، جب افغان پوليس اور فوج کو اچھی تربيت دی جا چکی ہو۔ ان کے مطابق افغانستان سے جرمن فوج کے عجلت ميں انخلاء سے افغانستان کے علاوہ جرمنی کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔ اس پر ويسٹر ويلے اور چانسلر ميرکل کے مابين اتفاق رائے ہے۔ ويسٹر ويلے نے کہا کہ وہ جرمن فوج کو جلد ازجلد افغانستان سے واپس بلانا چاہتے ہيں ليکن ايسا بدحواسی ميں نہيں کيا جانا چاہيے۔

کرسچین ڈيموکريٹک يونين سی ڈی يوکے ساتھ مل کر جرمنی کی اگلی مخلوط حکومت بنانے والی پارٹی ايف ڈی پی یا فری ڈيموکريٹک پارٹی يہ سمجھتی ہے کہ تخفيف اسلحہ کے سلسلے ميں بھی جرمن خارجہ پاليسی بہت ڈھيلی ڈھالی ہے۔ ويسٹر ويلے نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پُر اعتمادی سے کہا تھا کہ جرمنی ميں نصب بقيہ امريکی ايٹمی ہتھيار اگلی آئين ساز مدت کے دوران ہٹا لئے جائيں گے اور تخفيف اسلحہ کی سياست بھی ايک بار پھر جرمنی کا طرہء امتياز بن جائے گی: ویسٹر ویلے کا کہنا ہے کہ اسلحہ بندی والے برسوں کے بعد اب پھر وہ دور شروع ہونا چاہيئے، جس ميں جرمن اور يورپی خارجہ سياست کی طرف سے دنيا بھر کو اسلحے ميں تخفيف کا پيغام ديا جائے۔ يہ ہم فری ڈيموکريٹس کی خارجہ اور يورپی پاليسی کا بنيادی نکتہ ہے۔

ويسٹر ويلے يہ سمجھتے ہيں کہ جرمن حکومت امريکی صدر اوباما کے بارے ميں کچھ زيادہ جوش و خروش کا مظاہرہ نہيں کرتی اور پولينڈ کے ساتھ بھی جرمن روابط کو اور بہتر بنايا جا سکتا ہے۔ تاہم جرمنی کے اگلے ممکنہ وزير خارجہ ويسٹر ويلے خارجہ سياست ميں عالمی سطح پر کافی تجربہ نہيں رکھتے۔