1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکا: سفری پابندیوں کا نیا حکم نامہ مؤخر

23 فروری 2017

وائٹ ہاؤس نے مسلم اکثریت والے سات ممالک کے شہریوں کے خلاف سفری پابندیوں سے متعلق ترمیم شدہ صدارتی حکم نامے کے اجراء کو مؤخر کر دیا ہے۔ کچھ ماہرین کو توقع ہے کہ نئے حکم نامے میں بھی کچھ ’نیا‘ نہیں ہو گا۔

https://p.dw.com/p/2Y7BN
USA Proteste gegen Donald Trump in Chicago
تصویر: Getty Images/S. Olson

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان مشائیل شورٹ  نے صحافیوں کو بتایا کہ سفری پابندیوں کے حوالے سے نیا حکم نامہ اگلے ہفتے تک جاری کر دیا جائے گا۔ شورٹ کے مطابق، ’’سب سے اہم چیز یہ ہو گی کہ صدر کس مسودے پر دستخط کرتے ہیں۔ حتمی طور پر جب ہمیں اس بارے میں علم ہو گا تو ہم آپ کو مطلع کر دیں گے۔‘‘

ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر جان کیلی نے اسی تناظر میں گزشتہ ہفتے میونخ میں سلامتی کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کے موقع پر کہا تھا، ’’صدر ٹرمپ حکم نامے کے مسودے پر غور کر رہے ہیں تاکہ پرانے حکم نامے کو مزید سخت اور بہتر بنا کر پیش کیا جائے۔‘‘ ان کے بقول اس سلسلے میں ماہرین بھی گزشتہ آرڈر کے کچھ حصوں پر کام کر رہے ہیں۔

US-Präsdient Donald Trump ohne Krawatte in Melbourne
تصویر: Reuters/K. Lamarque

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جاری کیے جانے والے ابتدائی حکم نامے میں عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں پر 90 دن کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ستائیس جنوری کو جاری کیے جانے والے اس حکم نامے کو تاہم ایک وفاقی عدالت نے معطّل کر دیا تھا۔ تاہم اس حکم نامے پر فوری عمل درآمد شروع ہوتے ہی امریکا اور دنیا کے مختلف ہوائی اڈوں پر افراتفری کی سی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ ان سات ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کو جو امریکا کے سفر کے لیے جہازوں میں بیٹھ چکے تھے، انہیں واپس اتارا گیا اور جو امریکا پہنچ چکے تھے، انہیں واپس بھیجا گیا۔

ٹرمپ کے سفری پابندیوں کے فیصلے کو امریکا میں کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا،’’امریکا کی ’وفاقی عدالتیں جانبدار نہیں ہیں لیکن وہ بہت زیادہ سیاسی ہو چکی‘ ہیں۔‘‘