1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکہ میں عراقی شہری پر عزت کے نام پر قتل کا الزام

23 فروری 2011

امریکہ میں ایک عراقی تارک وطن کی گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہونے والی ایک خاتون اس غیر ملکی کے خلاف استغاثہ کی طرف سے ان الزامات کے سلسلے میں گواہی دے گی کہ یہ عراقی شہری عزت کے نام پر اپنی بیٹی کے قتل کا مرتکب ہوا تھا۔

https://p.dw.com/p/10OAG
عزت کےنام پر قتل کے واقعات کئی ملکوں میں بار بار دیکھنے میں آتے ہیںتصویر: DW-TV

یہ عراقی باشندہ امریکی شہر Phoenix کی ایک عدالت کی طرف سے پہلے ہی اس جرم میں سزا یافتہ ہے کہ اس نے اپنی گاڑی اپنی ہی بیٹی پر چڑھا دی تھی۔

اب ایک جیوری اس بارے میں صالح حسن المالکی نامی عراقی باشندے کے خلاف اس سلسلے میں الزامات کی سماعت کرے گی کہ اس نے اپنی 20 سالہ بیٹی پر اپنی جو گاڑی چڑھا دی تھی، وہ عزت کے نام پر قتل اور یوں اور بھی شدید نوعیت کا ایک جرم تھا۔

Protest gegen Ehrenmord im Iran
ایران میں عزت کے نام پر قتل کے واقعات کے خلاف ایک مظاہرے کی تصویر

المالکی کے خلاف اسی ہفتہ یہ جرم ثابت ہو گیا تھا کہ وہ نہ صرف اپنی بیٹی کے غیر ارادی قتل کا مرتکب ہوا تھا بلکہ وہ اس واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے فرار بھی ہو گیا تھا۔

دفتر استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ المالکی نے اپنی بیٹی کو اکتوبر 2009ء میں اس لیے اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا تھا کہ وہ بہت ’مغرب زدہ‘ زندگی گزار رہی تھی۔ مقتولہ کا نام نور المالکی تھا۔

اب جس خاتون نے عزت کے نام پر قتل کے آئندہ مقدمے میں صالح المالکی کے خلاف گواہی دینے کا اعلان کیا ہے، وہ نور کے ایک عراقی دوست کی والدہ ہے۔ یہ خاتون نور کے قتل کے وقت اس کے ساتھ تھی اور اس واقعے میں شدید زخمی ہو گئی تھی۔

اس مقدمے میں نور کے والد کے خلاف فیصلے سے پہلے تک اس کے وکیل صفائی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملزم کی بیٹی نور کی موت اور اس کے دوست کی والدہ کا زخمی ہو جانا محض ایک حادثہ تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں