1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکہ کے بجائے پاکستان کا ساتھ دیں گے، حامد کرزئی

23 اکتوبر 2011

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے مابین عسکری تنازعہ جنم لیتا ہے تو کابل حکومت اسلام آباد کا ساتھ دے گی۔

https://p.dw.com/p/12x6z
ا
تصویر: AP/DW-Montage

صدر کرزئی نے یہ بات ایک نجی پاکستانی ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ افغان صدر نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’خدانخواستہ اگر پاکستان اور امریکہ کے مابین جنگ چھڑ گئی تو افغانستان پاکستان کا ساتھ دے گا‘۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فی الحال پاکستان اور امریکہ کے مابین اس طرح کی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات خاصے کم ہیں اور دونوں ممالک عدم اعتماد کی فضاء کو بہتر کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی اپنے حالیہ دورہ ء اسلام آباد کے دوران پاکستان میں امریکی فوجی مداخلت کے امکان کو رد کرچکی ہیں۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان پر موجود امریکی دباؤ کے باعث کابل اور اسلام آباد کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

Burhanuddin Rabbani Afghanistan getötet
سابق افغان صدر برہان الدین ربانیتصویر: dapd

واضح رہے کہ افغانستان میں سابق صدر برہان الدین ربانی سمیت متعدد اہم شخصیات کی ہلاکت اور دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کی جاتی ہے۔

ایک موقع پر صدر کرزئی نے پاکستانی اعلیٰ قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’مہربانی کرکے ایسے کام کرنا اب بند کردیں جن سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے اور جو اب آپ کی تکلیف کا سبب بن رہے ہیں‘۔ پاکستان کے نجی ٹیلی وژن جیو کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں افغان صدر کا کہنا تھا، ’اگر امریکہ نے پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستانی عوام کو ضرورت پڑی تو وہ افغانستان کو اپنے ساتھ پائیں گے‘۔

اٰفغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بعد صدر کرزئی نے کہا تھا کہ قیام امن کے لیے طالبان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ اب اس حوالے سے براہ راست طور پر پاکستان سے بات کی جائے گی۔

کابل کے صدارتی محل سے جاری ایک حالیہ بیان میں صدر کرزئی نے پاکستان کے اندر عسکریت پسندوں کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ بیان کے مطابق، ’طالبان کی شوریٰ پاکستان میں ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ حقانی گروپ پاکستان میں ہے، اس لیے ہم نامعلوم طالبان کے بجائے واضح طور پر پاکستان میں موجود اپنے بھائیوں کے ساتھ مذاکرات پر اصرار کرتے ہیں‘۔  

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بہت سے افغان قیام امن کے لیے پاکستان کی نیت پر شک کرتے ہیں۔ افغان صدر کرزئی کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان متعین غیر ملکی افواج کی متنازعہ کارروائیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور ان کے زیر انتظام جیلوں کی بندش کا مطالبہ کیا  ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ