1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکی فیصلہ: ایک سو برس بعد فلسطینیوں پر ایک اور کاری وار

نوید احمد
9 دسمبر 2017

آج سے ٹھیک ایک سو برس قبل برطانوی فوج نے یروشلم کا قبضہ حاصل کیا تھا اور اس سے ایک ماہ قبل ہی برطانوی حکومت نے بالفور ڈیکلیئریشن جاری کیا تھا۔ مشرق وُسطیٰ امور کے ماہر نويد أحمد کا اس صورتحال پر خصوصی تجزیہ۔

https://p.dw.com/p/2p4Es
Felsendom Jerusalem
تصویر: picture-alliance/Zumapress/S. Qaq

دو نومبر 1917ء  کو جاری کیے جانے والے بالفور ڈیکلیئریشن میں برطانوی حکومت نے فسلطین میں یہودیوں کے لیے ایک وطن بنانے کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا۔

سقوط یروشلم کے ایک سو برس بعد سات دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہودیوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کے لیے مذہبی حوالے سے اس انتہائی مقدس شہر کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔ اوسلو معاہدے کے بعد سے واشنگٹن، دباؤ کے باوجود تل ابیب سے سفارتخانہ منتقل کرنے پر قطعی راضی نہیں تھا۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے کیے گئے وعدے کو وفا کیا ہے۔

USA Präsident Donald Trump
تصویر: Reuters/J. L. Duggan

یروشلم کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلے کے مضمرات

ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد سے مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ کسی بھی حلیف ملک نے امریکہ کے فیصلے کو خوش آئند قرار نہیں دیا۔ البتہ روس کی وزارت خارجہ کی طرف سے رواں برس چھ اپریل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اس بات کا عندیہ دیا جا چکا ہے کہ روس مغربی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت سمجھتا ہے۔ مگر اس فیصلے کے باوجود روسی سفارتخانہ ابھی تک تل ابیب سے یروشلم منتقل نہیں کیا گیا۔

یروشلم مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور یہ شہر اور یہاں موجود مسجد الاقصیٰ، مکہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ کے بعد مسلمانوں کے لیے مقدس ترین مقام قرار دیا جاتا ہے۔ اسی باعث عرب لیگ اور اسلامی ممالک کی تنظیم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور مزید اقدامات کے لیے قائدین کی مجالس کا اعلان بھی کیا جاچکا ہے۔ قریب تمام ہی مسلم ممالک اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یروشلم وجہ تنازعہ کیوں؟
صدیوں پرانا یہ شہر تمام ابراہیمی مذاہب کا مسکن ہے۔ عیسائی، یہودی اور مسلمان اس شہر سے خصوصی عقیدت رکھتے ہیں۔ آج بھی اس قدیمی شہر میں تینوں مذاہب نے اپنے تاریخی اور مذہبی ورثے کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ یروشلم دنیا کی تمام بستیوں سے ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1967ء سے آج تک یروشلم میں مقیم فلسطینی بھلے وہ مسیحی ہوں یا مسلمان ہیجان اور اندیشے کا شکار رہے ہیں۔ 1949ء سے 1967ء تک سبز لکیر یا گرین لائن مقبوضہ مغربی یروشلم کو اردن کے منتظم مشرقی یروشلم سے تقسیم کرتی تھی۔ 1967ءکی جنگ میں عرب ممالک کی پسپائی کے بعد یروشلم  پر اسرائیلی تسلط مضبوط ہو گیا اور شہر کی انتظامی تقسیم تبدیل کرتے ہوئے یہودیوں نے مشرقی یروشلم کو مغربی یروشلم کے ساتھ ضم کرنے کے اقدامات کیے۔ جہاں مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے مقامات کو یروشلم شہر میں شامل کیا گیا وہاں فلسطینی اکثریت کے قدیمی علاقوں جیسے ابو دس اور آرم وغیرہ کو شہری حدود سے نکال دیا گیا۔ نتیجتاً کچھ فلسطینیوں کو یروشلم کے رہائشی قرار دیا گیا مگر اکثریت کو ویسٹ یا مغربی کنارے کی بلدیات میں شامل کیا گیا۔ کچھ فلسطینیوں کے پاس یروشلم کی شہریت کے کارڈ تھے۔ مزید برآں یروشلم کے رہائشی ہی صرف اسرائیلی شہریت کے حقدار قرار پائے جنہوں نے شاید ہی کبھی اس حق کا استعمال کیا ہو کیونکہ فلسطینی یہودی قبضے کو غیر قانونی گردانتے ہیں جبکہ مغربی کنارے میں مقیم فلسطینیوں کو اسرائیلی ٹینکوں کی آڑ میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا۔ 1994ء میں قائم کردہ فلسطینی اتھارٹی سے قبل ان پر یروشلم میں داخلے پر بھی پابندی تھی۔ یوں اس مقدس شہر کے رہائشیوں کی مذہبی اور نسلی بنیادوں پر منظم طریقے سے جلاوطنی کی گئی اور یروشلم کے قانونی شہریوں کے علاوہ یہاں کوئی فلسطینی نہ قیام کرسکتا ہے اور نہ ہی روزگار حاصل کرسکتا ہے۔ مزید برآں جو فلسطینی 1967ءکی مردم شماری کے وقت شہر میں موجود نہ تھے وہ ہمیشہ کے لیے شہری اندراج سے محروم کر دیے گئے اور یوں وہ اپنے آبائی گھروں، کاروباروں اور مذہبی مقامات سے ہمیشہ کے لیے محروم یا منقطع کردیے گئے۔ 1990ء کی دہائی، جھڑپوں اور انتفادہ کی دہائی تھی جس میں مزید فوجی چوکیوں کے قیام نے غزہ اور مغربی کنارے پر مقیم فلسطینیوں کا یروشلم میں داخلہ مزید مشکل کردیا۔ یوں نفرتیں ور فاصلے مزید شدت اختیار کرگئے۔

Gaza - Proteste der PFLP gegen Jerusalem-Status
تصویر: picture-alliance/Zumapress/M. Dahman

نفرتوں کی دیوار
دوسری مزاحمت یا سیکنڈ انتفادہ کے بعد اسرائیل نے دیوار بنا کر غزہ اور مغربی کنارے کو علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 25 فٹ اونچی اس دیوار کے بننے کے بعد نفرتوں اور فاصلوں میں مزید گہرائی آئی اور ان تمام اقدامات کے باعث یروشلم کی آبادی کا اب محض صرف 37 فیصد حصہ فلسطینی عربوں پر مشتمل ہے جو تعلیم، صحت، روزگار کے محدود مواقعوں کے باعث شدید غربت کا شکار ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے یہودی بستیوں کے قیام کے سلسلے کو مزید تقویت دی۔ اقوام متحدہ کی بیشتر قراردادوں نے ان بستیوں کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی ہمیشہ مذمت کی۔ مگر مغربی ممالک کے ویٹو کے اختیار کے باعث کوئی مؤثر قدم نہ اُٹھایا جاسکا اور اسرائیل بدستور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا نا قابل قبول کیوں؟

مشرقی یروشلم میں یہودی آبادکاری کا منصوبہ عالمی قانون کے سراسر خلاف ہے۔ چوتھے جنیوا کنونشن سے متصادم اس عمل کے ذریعے صدیوں سے مقیم قبائل کو دربدر کرکے عددی برترین حاصل کرنے کی اسرائیلی کاوشیں عالمی طور پر ناقابل قبول قرار پائی ہیں۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا اس کے قبضے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ فلسطینی عربوں کے مطابق اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ عارضی اور غیر قانونی ہے جس کو فوجوں کی بندوقوں کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے اور فلسطینی وسائل پر اسرائیل کا اختیار ایک نقبہ یا چوری ہے۔ امریکی صدر کے اس حالیہ فیصلے کے باعث اسرائیلی عزائم کو بے انتہاء تقویت مل سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلم ممالک سنجیدہ اقدامات کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایران، شام اور لبنان میں ایران کی فوجی مداخلت کے باعث عرب ممالک میں کشیدگی کے دوران کیا گیا ہے۔

Gaza Proteste gegen Anerkennung USA Jerusalem
ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد غزہ میں امریکا اور اسرائیل مخالف مظاہرے جاری ہیںتصویر: Reuters/M. Salem

مسلم ممالک کے نفاق سے فائدہ اٹھانے کی یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ مسلم ممالک کے بیانات سے آگے عملی کارروائی کرنے کی سیاسی قوتِ ارادی دکھائی نہیں دیتی۔ اگرچہ تمام مسلمان ممالک بشمول سعودی عرب، ایران، ترکی اور پاکستان نے ٹرمپ کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے لیکن شاید ہی کوئی اس معاملے پر واضح منصوبہ بندی کرسکے گا۔ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کیا یہ دھمکی عملی شکل اختیار کرسکے گی؟ کیا اردن اور مصر بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کریں گے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک ہمیشہ سے امریکا پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنے اقتصادی قوت کا حالیہ دہائیوں میں کبھی استعمال کرنے کی محض دھمکی بھی نہیں دی۔ حزب اللہ کے ذریعے تصادم ایران کی فوجی منصوبہ بندی کا حصہ رہا ہے مگر اس پر مسلم دنیا کا اتفاق نہیں ہے۔ حزب اللہ کی شام میں فوجی مداخلت اس کے اسرائیل کے ساتھ تصادم کی صلاحیت کو مزید کم کرتی ہے۔

کیا مسلم ممالک کچھ کر پائیں گے؟
مسلم ممالک کی تنظیم ہو یا عرب لیگ میں اس قراردادوں کے ذریعے اسرائیل پر یروشلم  پر قبضے کی امریکی توثیق کی کوشش کو شکست دینا محض دیوانے کا خواب ہے۔ یورپی برادری یروشلم کو دارالحکومت ماننے پر تیار نہیں تو کیا او آئی سی یورپی ممالک کو اسرائیلی کی تجارتی بندش کے لیے آمادہ کرسکتی ہے؟ یورپ میں موجود فلسطینی اور مسلم آبادی میں تشویش ان ملکوں کے اندرونی حالات پر منفی انداز میں اثر انداز ہوگی ۔دریں اثناءاسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی مظاہروں اور مزاحمت میں مزید شدت آنا ایک لازمی امر ہے۔ یوں مسلمان ممالک کے لیے اسرائیل کے خلاف یورپی معاشی بائیکاٹ کی کوشش دور رس نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔ لیکن کیا جرمنی، فرانس او اسپین اسرائیل کے خلاف اس حد تک جانے کے حامی ہوں گے؟ اس سوال کا خوش آئند جواب بظاہر موجود نہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کی فوجی برتری اور مسلمان ممالک کے انتشار کے باعث جنگی اعتبار سے کسی کامیابی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ لبنان، شام اور مصر اندرونی خلفشار کا شکار ہیں جبکہ اردن شدید معاشی بحران میں مبتلا ہے۔ جنگ یروشلم کے مسئلے کا حل نہ رہی ہے اور نہ ہوسکتی ہے اور مذاکرات ہی اس پیچیدہ تنازعے کو ختم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں لیکن ٹرمپ نے روس کے ساتھ روابط کے حوالے سے روبرٹ مُلر کی تفتیش سے توجہ ہٹانے کے لیے یروشلم پر جو غیر دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے اس میں مذاکرات کے لیے موجود خفیف امکانات کو بھی ختم کردیا ہے۔

Naveed Ahmed
نويد أحمد خلیج میں مقیم پاکستانی تحقیقاتی صحافی ہیں ۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عسكرى، سفارتى اور ریاستى امور پر تحقیق اور رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔Twitter @naveed360تصویر: privat