1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکی وزیر خارجہ آج بھارت پہنچ رہی ہیں

رپورٹ:ندیم گِل، ادارت:عابد حسین17 جولائی 2009

ہلیری کلنٹن بھارت اور تھائی لینڈ کے پانچ روزہ دورے کے پہلے مرحلے میں جمعہ کو نئی دہلی پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے رواں برس پاکستان اور روس کے دورے کا امکان بھی ظاہر کیا۔

https://p.dw.com/p/Iqa8
امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹنتصویر: AP

امریکی سیکریٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ان کے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی کے ساتھ دو جوہری سمجھوتے طے پائیں گے۔ اوباما انتظامیہ ہلیری کلنٹن کے آئندہ دورہ بھارت کو جنوبی ایشیا میں استحکام کے لئے اہم قرار دے رہی ہے۔

نائب امریکی سیکریٹری خارجہ رابرٹ بلیک نے بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ہلیری کلنٹن کے حالیہ دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی کے ساتھ حساس ٹیکنالوجی اور آلات کے تحفظ کے لئے ایک جوہری معاہدہ کیا جائے گا جبکہ دوسرے معاہدے کے مقصد دو مختلف مقامات پر امریکی کمپنیوں کو بھارتی کمپنیوں کو نیوکلیئر ری ایکٹرز فروخت کرنے کے خصوصی حقوق دلوانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے امریکہ کے لئے 10 بلین ڈالر کی نئی برآمدات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

سیکریٹری خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے حالیہ جامع پالیسی خطاب میں ہلیری کلنٹن نے کثیرالشراکتی دُنیا کے قیام پر زور دیا۔ انہوں نے دیگر ممالک کے لئے معاملہ سازی کی اوباما پالیسی کا دفاع کیا۔

Hillary Clinton gegen Barak Obama
ہلیری کلنٹن اور صدر باراک اوباماتصویر: AP

تاہم انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ تہران حکومت کے جوہری تنازعے پر واشنگٹن سے براہ راست مذاکرات کے لئے امریکی پیش کش کو قبول کرنے کے لئے اس کے پاس وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کو دھمکانہ بند کر دے تو خطے میں مثبت اور انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک ناگزیر ملک ہے اور اس کی شراکت کے بغیر دُنیا میں کسی چیلنج سے نمٹا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے عرب ریاستوں پر بھی زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن کے لئے 2002 کی تجاویز سے آگے بڑھیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے خطے میں یہودی ریاست کی موجودگی کے لئے ان کی قبولیت ظاہر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب امریکہ مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی تعمیر رکوانے کے لئے کوشاں ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ تنازعے کے دوریاستی حل پر زور دے رہا ہے۔