حالات حاضرہ

امن کا نوبل انعام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی مہم کے نام

ناروے کی نوبل کمیٹی نے اس برس امن کا نوبل انعام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی خاطر چلائی جانے والی ایک بین الاقوامی مہم (ICAN) کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

Friedensnobelpreis - Medaille (picture-alliance/dpa/Scanpix Norway/B. Roald)

اس برس امن کا نوبل انعام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی خاطر چلائی جانے والی ایک بین الاقوامی مہم کو دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ناورے کی نوبل کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عالمی مہم‘ (ICAN) کے تحت جو کام کیا گیا، اس سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ہونے والے تباہ کن اثرات کی طرف توجہ دلائی گئی۔

نوبل انعام برائے ادب جاپانی نژاد برطانوی ناول نگار کے نام

 

قبل ازیں ایسے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ اس سال یہ انعام شامی رضا کار تنظیم ’وائٹ ہیلمٹ‘ کو دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے امکانات بھی تھے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری ڈٗیل ممکن بنانے کی وجہ سے یہ انعام ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کو بھی دیا جا سکتا ہے۔

آئی سی اے این کی جانب سے امن کا نوبل انعام دیے جانے کے فیصلے کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی معاہدے میں ہمارے کردار پر ہمیں اس برس امن کا نوبل انعام دیا جانے ہمارے لیے عزت کا باعث ہے۔‘‘

ICAN یعنی دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم دراصل دنیا کے سو ممالک سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کا نام ہے۔

تنظیم کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایسی دنیا اور ایسے وقت، جب دنیا کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کا سامنا ہے، ایک سو بائیس ممالک کی حمایت و تائید کی بدولت اس برس سات جولائی کے روز طے پانے والا معاہدہ ایک اچھا متبادل اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

Friedensnobelpreis 2017 ICAN

ICAN یعنی دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم دراصل دنیا کے سو ممالک سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کا نام ہے

نوبل کمیٹی نے بھی ICAN کو امن کا نوبل انعام دیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’اس وقت دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ طویل عرصے بعد ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ کچھ ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنا رہے ہیں اور یہ حقیقی خطرہ ہے کہ مزید ممالک جوہری ہتھیاروں کی تیاری شروع کر دیں گے، جس کی ایک مثال شمالی کوریا بھی ہے۔‘‘

زندگی کے مالیکیول دیکھنے والوں کے لیے کیمیا کا نوبل انعام

DW.COM

Albanian Shqip

Amharic አማርኛ

Arabic العربية

Bengali বাংলা

Bosnian B/H/S

Bulgarian Български

Chinese (Simplified) 简

Chinese (Traditional) 繁

Croatian Hrvatski

Dari دری

English English

French Français

German Deutsch

Greek Ελληνικά

Hausa Hausa

Hindi हिन्दी

Indonesian Bahasa Indonesia

Kiswahili Kiswahili

Macedonian Македонски

Pashto پښتو

Persian فارسی

Polish Polski

Portuguese Português para África

Portuguese Português do Brasil

Romanian Română

Russian Русский

Serbian Српски/Srpski

Spanish Español

Turkish Türkçe

Ukrainian Українська

Urdu اردو