امن کا نوبل انعام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی مہم کے نام

ناروے کی نوبل کمیٹی نے اس برس امن کا نوبل انعام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی خاطر چلائی جانے والی ایک بین الاقوامی مہم (ICAN) کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس برس امن کا نوبل انعام جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی خاطر چلائی جانے والی ایک بین الاقوامی مہم کو دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ناورے کی نوبل کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عالمی مہم‘ (ICAN) کے تحت جو کام کیا گیا، اس سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ہونے والے تباہ کن اثرات کی طرف توجہ دلائی گئی۔

نوبل انعام برائے ادب جاپانی نژاد برطانوی ناول نگار کے نام


قبل ازیں ایسے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ اس سال یہ انعام شامی رضا کار تنظیم ’وائٹ ہیلمٹ‘ کو دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے امکانات بھی تھے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری ڈٗیل ممکن بنانے کی وجہ سے یہ انعام ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کو بھی دیا جا سکتا ہے۔

کھاد بھی اور کیمیائی ہتھیار بھی

نوبل انعام کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اختلافی فیصلہ جرمن کیمیا دان فرٹز ہابر کو نوبل انعام سے نوازنہ تھا۔ انہیں 1918ء میں کیمیا کا نوبل انعام دیا گیا۔ انہوں نے امونیا کا ایسا مرکب ایجاد کیا، جسے کھاد بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ہابر کو’’ کیمیائی ہتیھاروں کا خالق‘‘ بھی کہاجاتا ہے۔ ان کی ایجاد کردہ کلورین گیس پہلی عالمی جنگ میں بڑی تباہی کا باعث بنی تھی۔

ہلاکت خیز ایجاد

جرمن سائسندان اوٹو ہان (درمیان میں) کو جوہری انشقاق کی دریافت پر 1945ء میں کیمیا کا نوبل انعام دیا گیا۔ انہوں نے اپنی اس ایجاد کو عسکری شعبے میں استعمال کرنے کے حوالے سے تحقیق نہیں کی تھی تاہم اسے براہ راست جوہری بم بنانے میں استعمال کیا گیا۔ نوبل کمیٹی انہیں 1940ء میں نوبل انعام دینا چاہتی تھی لیکن انہیں ہیروشیما اور ناگاساکی میں کیے جانے والے حملوں کے بعد 1945ء میں یہ اعزاز دیا گیا۔

ایک ایجاد پر پابندی

سوئس محقق پاؤل مؤلر کو 1948ء میں ’ڈی ڈی ٹی‘ بنانے پر طب کو نوبل انعام دیا گیا۔ ’ڈی ڈی ٹی‘ کیڑے مار دوا ہے، جو ملریا جیسی دیگر بیماریوں پر قابو پانے میں قدرے مددگار ثابت ہوئی۔ اس نے دوسری عالمی جنگ اور بعد کے دور میں بہت لوگوں کی جان بچائی لیکن تحفظ ماحول کی تنظیموں کا خیال ہے کہ یہ ایجاد انسانی صحت اور جنگلی حیات کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کے بعد ڈی ڈی ٹی کے زرعی استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔

پریشان کن ایوارڈ

جرمن امن پسند کارل فان اوسیتزکی کو اسلحہ سازی کےخفیہ جرمن منصوبے کو فاش کرنے پر 1935ء میں امن کے نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے نوبل کمیٹی کے دو ارکان مستعفی ہو گئے تھے۔ کارل فان اوسیتزکی کو غداری کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا جبکہ ہٹلر نے نوبل کمیٹی پر جرمن معاملات میں دخل اندازی کا الزام عائد کیا۔

شدید تنقید اور احتجاجاً استعفے

سابق امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنگر اور شمالی ویتنام کے رہنما ’لے ڈک تھو‘ کو امن کا نوبل انعام دینے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 1973ء کے اس فیصلے پر نوبل کمیٹی کے دو ارکان مستعفی ہو گئے تھے۔ ان دنوں کو فائر بندی کی کوششوں پر یہ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ تھو نے تو اسے لینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ کسنگر کے ایک نمائندے نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔ اس فیصلے کے بعد بھی جنگ مزید دو سال جاری رہی تھی۔

آزاد خیال اور آمر سے روابط

آزاد منڈیوں کی وکالت کرنے والے ملٹن فریڈمین کو معاشیات کا نوبل انعام دینے کو متنازعہ ترین فیصلوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ فریڈمین کے چلی کے آمر آگستو پینوشے کے ساتھ روابط کی وجہ سے دنیا بھر میں بائیں بازو کے حلقوں نے 1976ء کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی نظریات سے متاثر ہو کر چلی کی حکومت نے لوگوں پر تشدد شروع کیا اور کئی ہزار افراد لاپتہ ہو گئے۔

مبہم امن انعام

1994ء میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات، اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن اور وزیر خارجہ شیمون پیریز کو مشترکہ طور پر امن کے نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس کا مقصد مشرقی وسطٰی امن منصوبے میں تیزی لانا تھا۔ تاہم اس سے بات چیت کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ایک سال بعد ایک اسرائیلی قوم پرست نے رابن کو قتل کر دیا۔ نوبل کمیٹی کے ایک رکن نے یاسر عرفات کو’ دہشت گرد‘ کہتے ہوئے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

فرضی یادداشت اور نوبل انعام

قدیم مایا نسل کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی ریگوبیرتا مینچُونے 1992ء میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا۔ انہیں سماجی انصاف اور نسلی و ثقافتی مفاہمت کے لیے ان کی کوششوں پر اس ایوارڈ کا حق دار ٹھہرایا گیا۔ تاہم یہ فیصلہ اس وقت کافی متنازعہ ثابت ہوا، جب یہ خبر منظر عام پر آئی کہ شائع ہونے والی ان کی یادداشت جزوی طور پر فرضی ہے۔ بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ وہ اس ایوارڈ کی بالکل بھی حقدار نہیں تھیں۔

قبل از وقت امتیاز

امریکی صدر باراک اوباما کو 2009ء میں ملنے والے امن کے نوبل انعام نے بہت سے حلقوں کو حیران کر دیا تھا اور حیران ہونے والوں میں اوباما خود بھی شامل تھے۔ انہیں بین الاقوامی سفارت کاری اور اقوام کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنے کے ان کے ارادوں پر یہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔ ناقدین اور اوباما کے حامیوں کا موقف تھا کہ انہیں یہ ایوارڈ اس وقت دینا چاہیے تھا کہ جب ان کے منصوبوں کے نتائج سامنے آتے۔

بعد از مرگ اعتراف

2011ء میں طب کا نوبل انعام جولیس ہوف، بروس بؤٹلر اور رالف اشٹائن مین کو نئے’ امیون سسٹم سیل‘ کی دریافت پر مشترکہ طور پر نوبل انعام برائے طب دیا گیا۔ اعلان سے چند دن قبل اشٹائن مین کا سرطان کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا۔ قانون کے مطابق بعد از مرگ کوئی بھی نوبل انعام وصول نہیں کرسکتا۔ تاہم نوبل کمیٹی یہ کہتے ہوئے اشٹائن مین کے حق میں فیصلہ کیا کہ نامزدگی کے وقت انہیں اس سائنسدان کی موت علم نہیں تھا۔

ایک بڑی غفلت

نوبل انعام اپنی نامزدگیوں اور اصل حقداروں کو نظر انداز کیے جانے کے حوالوں سے متنازعہ رہے ہیں۔ بھارت میں پر امن تحریک کے بانی گاندھی کو پانچ مرتبہ اس انعام کے لیے نامزد کیا گیا مگر ایک مرتبہ بھی فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہوا۔ 2006ء میں ناروے کی نوبل کمیٹی کے گیئر لنڈےسٹاڈ نے کہا ’’ نوبل انعام کی 106 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ مہاتما گاندھی کو امن کا نوبل انعام نہیں دیا گیا۔‘‘

آئی سی اے این کی جانب سے امن کا نوبل انعام دیے جانے کے فیصلے کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی معاہدے میں ہمارے کردار پر ہمیں اس برس امن کا نوبل انعام دیا جانے ہمارے لیے عزت کا باعث ہے۔‘‘

ICAN یعنی دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم دراصل دنیا کے سو ممالک سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کا نام ہے۔

تنظیم کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایسی دنیا اور ایسے وقت، جب دنیا کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کا سامنا ہے، ایک سو بائیس ممالک کی حمایت و تائید کی بدولت اس برس سات جولائی کے روز طے پانے والا معاہدہ ایک اچھا متبادل اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

Friedensnobelpreis 2017 ICAN

ICAN یعنی دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم دراصل دنیا کے سو ممالک سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کا نام ہے

نوبل کمیٹی نے بھی ICAN کو امن کا نوبل انعام دیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’اس وقت دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ طویل عرصے بعد ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ کچھ ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنا رہے ہیں اور یہ حقیقی خطرہ ہے کہ مزید ممالک جوہری ہتھیاروں کی تیاری شروع کر دیں گے، جس کی ایک مثال شمالی کوریا بھی ہے۔‘‘

زندگی کے مالیکیول دیکھنے والوں کے لیے کیمیا کا نوبل انعام

سن 2015 : سویٹلانا الیکسیوِچ

بیلاروس کی ادیبہ اور صحافی سویٹلانا الیکسیوِچ کو رواں برس کا نوبل انعام برائے ادب دیا گیا ہے۔ ان کی تخلیقات کو ’دور حاضر کے دکھوں اور حوصلے کی یادگار‘ قرار دیا جاتا ہے۔ وہ ایسی 14 ویں خاتون ہیں، جنہیں 1901ء کے بعد اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

سن 2014 : پیٹرک مودیانو

فرانسیسی ناول نگار پیٹرک مودیانو کو گزشتہ برس نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا تھا۔ ان کی تصانیف میں دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریاں موجودہ کرداروں کے ساتھ سفر کرتی نظر آتی ہیں۔ ان تمام کہانیوں کا تعلق زیادہ تر پیرس یا اس کے گرد و نواح سے ہی ہے۔ فرانس پر نازیوں کے قبضے کی تلخ اور دہلا دینے والی یادیں مودیانو کی کہانیوں میں جا بجا بکھری پڑی ہیں۔

سن 2013 : ایلس منرو

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی اس خاتون ادیبہ کو عصر حاضر میں افسانہ نگاری کا استاد قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں سویڈئش رائل اکیڈمی نے 2013ء میں اس معتبر انعام سے نوازا تھا۔ وہ ’میَن بکر انٹرنیشنل پرائز‘ اور تین مرتبہ ’کینڈین گورنر جنرل ایوارڈ‘ کے حق دار بھی قرار دی جا چکی ہیں۔

سن 2012 : مو یان

گوان موئی کا قلمی نام مو یان ہے، وہ زیادہ تر اسی نام سے جانے جاتے ہیں۔ سوئڈش رائل اکیڈمی کے مطابق اس لکھاری کی تحریروں میں ’ لوک کہانیوں میں التباسی حقیقت نگاری‘ کا رنگ انتہائی پکا ہے۔ ان کی تخیلقات کئی دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انہیں سن 2012 میں نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا۔

سن 2011 : ٹوماس ٹرانس ٹرومر

سال 2011 کے نوبل انعام برائے ادب کے لیے سویڈش شاعر، مترجم اور ماہر نفسیات کو چنا گیا تھا۔ رائل سوئڈش اکیڈمی کے مطابق ٹرانس ٹرومر نے اپنی شاعری میں استعمال ہونے والے الفاظ کو تصاویری رنگ میں پیش کیا، جس کے نتیجے میں قاری کے ذہنوں میں ایک تازگی کا احساس پیدا ہوا۔ ساٹھ کی دہائی میں وہ بطور سائیکالوجسٹ کام کیا کرتے تھے۔ ان کی شاعری ساٹھ زبانوں میں ترجمہ کی جا چکی ہے۔

سن 2010 : ماریو وارگاس لوہسا

پیرو کے ناول نگار للوسا کو 2010ء میں اس اہم انعام سے نوازا گیا۔ ان کی کہانیوں میں طاقت کے ایوانوں کے خلاف انفرادی مزاحمت، انقلاب اور شکست جیسے موضوعات عام ہیں۔

سن 2009 : ہیرٹا ملر

جرمن۔ رومانئین ادیبہ ہیرٹا ملر نے اپنی شاعری اور نثر میں رومانیہ میں استحصال کے شکار افراد کو موضوع بنایا۔ وہ رومانیہ کی چاؤشیسکو حکومت کی سخت ناقد تھیں۔ وہ 1987ء میں رومانیہ کو خیر باد کہہ کر مغربی برلن منتقل ہو گئی تھیں۔ انہیں جرمن زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

سن 2008 : جے ۔ایم۔ جی لی کلیزیو

ژاں ماری لی کلیزیو کو سن 2008 میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایڈونچر اور حسیائی لطف جیسے موضوعات کی آمیزش سے اپنے اسلوب کو ایک نئی جہت فراہم کی۔ وہ انیس سو چالیس میں فرانس کے شہر نیس میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد فرانسیسی جبکہ والدہ موریطانیہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہوں نے موریطانیہ کی شہریت بھی اختیار کر رکھی تھی۔

سن 2007 : ڈورس لیسنگ

برطانوی لکھاری ڈورس مئے لیسنگ نے ناول، افسانہ نگاری اور ڈرامے جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی۔ 93 برس کی عمر میں انہیں نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں اور جنوبی افریقہ میں نسلی عصیبت کے خلاف ایک مہم چلا رکھی تھی۔

سن 2006 : اورھان پاموک

فیرِٹ اورھان پاموک نے بین الاثقافتی تصادم کی کھوج کے لیے نئی علامتیں دریافت کی۔ وہ ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے ترک مصنف تھے۔ ان کی 11 ملین سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں اور وہ ترکی کے ’بیسٹ سیلر‘ لکھاری ہیں۔ استنبول میں پیدا ہونے والے پاموک اب نیویارک کی کولمبیا یونیوسٹی میں پڑھاتے ہیں۔

سن 2005 : ہیرالڈ پِنٹر

ہیرالڈ پِنٹر جگر کے سرطان میں مبتلا تھے اور انہیں ان کی وفات سے تین برس قبل ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ وہ سن 2008ء میں کرسمس کی شام کو انتقال کر گئے۔ اس برطانوی فنکار نے کئی ریڈیو اور فلم پروڈکشنز کے لیے کہانیاں لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی ہدایات بھی دیں اور اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ انہیں مجموعی طور پر 50 ایوارڈز ملے۔

سن 2004 : ایلفریڈے ژیلینک

ژیلینک کو ان کے ناولوں میں گنگناتی آوازوں اور ان کی جوابی آوازوں کی اچھوتی تخلیقات پر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے معاشرتی رویوں کی عکاسی کرنے والے ڈراموں نے بھی انہیں اس اعزاز کا حق دار بنایا۔ ان کی تصنیفات میں بنیادی حیثیت عورت کی جنس کے موضوع کو حاصل رہی ہے۔ ان کا ناول ’پیانو ٹیچر‘ سن 2001ء میں اسی نام سے بننے والی ایک فلم کی بنیاد بھی بنا۔