1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انور العولقی کو ہلاک کر دیا گیا: یمنی اور امریکی ذرائع

30 ستمبر 2011

یمنی وزارت دفاع نے امریکہ کو مطلوب امریکی نژاد انتہا پسند مبلغ العولقی کے ایک کارروائی میں ہلاک ہو جانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ العولقی القائدہ کے اہم لیڈر خیال کیے جاتے تھے۔

https://p.dw.com/p/12jac
انور العولقیتصویر: dapd

یمنی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق امریکہ کو مطلوب القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے دہشت گرد اور سابقہ امام مسجد انور العولقی کو ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ان کے ہمراہ ان کے کئی ساتھی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ چالیس سالہ انتہا پسند مذہبی اسکالر امریکی شہری امریکہ کی ہٹ لسٹ پر تھا اور ان دنوں یمن میں روپوش تھا۔ العولقی نے کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں شریک ہونے والوں کو اپنی تعلیمات سے متاثر کیا تھا۔

یمنی نژاد امریکی مبلغ اور امام مسجد کی ہلاکت کے حوالے سے امریکہ کے انسدداد دہشت گردی کے ایک اہلکار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پرالعولقی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ امریکی اہلکار کے مطابق مطلوب امریکی شہری کو دارالحکومت صنعاء سے تقریباً 140 کلومیٹر کی دوری پر خشیف نامی قصبے کے نواح میں ہلاک کیا گیا۔ اسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ سے تعلق رکھنے والی وہ اہم ترین شخصیت قرار دی گئی ہے۔

یمنی وزارت دفاع نے العولقی کی ہلاکت کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔ البتہ یمتی قبائل اور دوسرے سکیورٹی ذرائع کے مطابق العولقی کی ہلاکت ایک فضائی کارروائی کے دوران ہوئی۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی امریکی جنگی ہوائی جہازوں کی ہو سکتی ہے۔ جنگی ہوائی جہازوں نے یمن کے مشرقی صوبے مارب اور الجوف کے درمیان روانہ موٹر گاڑیوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔

Screenshot Anwar Al Awlaki
انور العولقی کا اسکرین شاٹتصویر: www.youtube.com

 نیوز ایجنسی AFP کے مطابق جنگی ہوائی جہازوں کی کارروائی آج جمعے کے روز علی الصبح کی گئی تھی۔ یمن کے اخبار یمن پوسٹ کے ایڈیٹر انچیف حکیم المسماری نے نیوز چینل الجزیرہ کو بتایا کہ موٹر گاڑیوں کے قافلے کو تین بار جنگی ہوائی جہازوں نے نشانہ بنایا۔ المسماری کے مطابق العولقی کی ہلاکت سے یمن کے جنوبی حصے میں یقینی طور پر منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس علاقے میں اُن کے حامیوں کی اکثریت ہے۔

انور العولقی نے اپنی تعلیمات سے کئی افراد کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں شرکت کرنے پر مائل کیا۔ ان متاثرہ افراد میں خاص طور پر سن 2009 میں کرسمس کے موقع پر ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز پر کیے جانے والے ناکام خود کش حملہ میں شریک حملہ آور عمر فاروق عبدالمطلب، امریکی سرزمین پر واقع فوجی مرکز فورٹ ہڈ میں امریکی فوجیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کرنے والے فلسطینی نژاد امریکی میجر ندال اور نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ناکام کار بم حملے میں ملوث ایک پاکستانی فیصل شہزاد بھی شامل ہیں۔

انور العولقی کو انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا انگریزی بولنے والا کلیدی نمائندہ خیال کیا جاتا تھا۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر باراک اوباما نے اس کی ہلاکت کے فرمان پر دستخط کیے تھے۔ وہ بیک وقت یمنی اور امریکی شہریت کا حامل تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں