1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اوباما نئی دہلی میں، تیسرے دن کی مصروفیات

8 نومبر 2010

امریکی صدر باراک اوباما نے مسقبل میں امن و خوشحالی کے لئے بھارت کے ساتھ دوستی کو ’ناگزیر‘ قرار دیتے ہوئے اپنے میزبانوں کے ہاں توقعات بہت بڑھا دی ہیں۔ آج اپنے دَورے کے تیسرے روز وہ بھارتی پارلیمان سے خطاب کرنے والے ہیں۔

https://p.dw.com/p/Q18Y
اوباما ہمایوں کے مقبرے پرتصویر: AP

آج پیر کو اوباما نئی دہلی میں پارلیمان سے اپنے اِس اہم خطاب کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات بھی کریں گے اور اُس سرکاری ڈنر میں بھی شرکت کریں گے، جو اُن کے اعزاز میں دیا جائے گا۔ پارلیمان سے اپنے خطاب میں اوباما امریکہ بھارت تعلقات کے مستقبل سے متعلق اپنا تصور بیان کریں گے۔

Obama in Indien
اوباما اور ان کی بیگم، ہمایوں کے مقبرے کی تمیر نو کرنے والے ورکروں کے بچوں کے ساتھتصویر: AP

امریکی صدر سے توقع کی جا رہی ہے کہ پارلیمان سے اپنے خطاب میں وہ اپنے کل اتوار کے اُس بیان کی مزید وضاحت کریں گے، جس میں اُنہوں نے ایک دوسرے کی حریف ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان پر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنے باہمی مسائل کرنے اور پاکستان پر اُن انتہا پسندوں کے خلاف مزید اقدامات کے لئے زور دیا تھا، جو اُس کے ہمسائے کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔

بھارت خود کو ایک ابھرتی ہوئی بڑی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور اِسی لئے اقوام متحدہ کی عالمی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا بھی خواہاں ہے۔ آج جب اوباما پارلیمان سے خطاب کریں گے تو بھارتی قائدین سلامتی کونسل میں اپنی مستقل نشست کی خواہش کے حوالے سے بھی اوباما کا موقف جاننا چاہیں گے۔

Obama in Indien
نئی دہلی میں اوباما کا استقبال کرتے ہوئے من موہن سنگھتصویر: AP

عالمی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لئے بھارتی خواہش کب پوری ہو سکتی ہے، اِس بارے میں امریکی حکام خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اُن کا موقف یہ ہے کہ بھارت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اُن مذاکرات کا حصہ ہونا چاہئے، جو اِس بین الاقوامی ادارے کے ڈھانچے میں اصلاحات کے سلسلے میں جاری ہیں۔ تاہم بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سے اوباما بہت پُر جوش ہیں۔ اتوار کو ممبئی میں اوباما نے کہا، ’اکیسویں صدی کے خاکے میں رنگ بھرنے کے لئے امریکہ بھارت تعلقات ناگزیر ہیں‘۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے امریکی مہمان کے ساتھ گزشتہ رات بھی ڈنر پر ملاقات کی۔ اُن کی گفتگو کے ایجنڈے میں بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات بھی شامل ہیں جبکہ اوباما امریکہ میں ملازمتوں کے مزید مواقع کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان میں بھارت کے زیادہ بڑے سیاسی کردار کے خواہاں ہیں۔

اوباما نے اپنے دَس روز کے دَورہء ایشیا کا آغاز ہفتے کے روز ممبئی سے کیا تھا۔ بھارت کے بعد وہ انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں