1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اوباما کا دورہء بھارت اور بڑھتے دفاعی تعلقات

27 اکتوبر 2010

آئندہ مہینے امریکی صدر باراک اوباما بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اِس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی کوششیں کی جائیں گی تاہم اِن کوششوں کو بہت سی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔

https://p.dw.com/p/Pofd
امریکی صدر باراک اوباما اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھتصویر: AP

بھارتی فوج آج کل جن ہتھیاروں اور دیگر دفاعی ساز و سامان سے لیس ہے، وہ روس کا فراہم کردہ ہے اور بھارت اور روس کے درمیان اُس شراکت کا آئینہ دار ہے، جو سرد جنگ کے دور میں اِن دونوں ملکوں کے درمیان موجود رہی۔ اوباما کے نومبر میں اس دورے کے دوران بھارتی فوج کو امریکی اسلحے سے لیس کرنے کے لئے اربوں ڈالر کے کاروباری معاہدے طے کرنے کی کوششیں کی جائیں گی، جو امریکی صدر کے لئے ایک بڑا چیلنج بھی ہوں گی۔

اس سلسلے میں اوباما انتظامیہ کے راستے میں جو سب سے بڑی مشکل حائل ہے وہ یہ ہے کہ نئی دہلی حکومت امریکی فوج کے ساتھ دور رس تعاون سے ہچکچا رہی ہے کیونکہ ان معاہدوں کے نتیجے میں امریکہ بھارت کے ساتھ قریبی عسکری تعاون بھی چاہتا ہے۔

لاجیسٹک سپورٹ نامی ایک معاہدے کے تحت امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ خطے میں اپنے عسکری کارروائیوں کے دوران ایندھن کی ضرورت کو پورا کرنے لئے بھارتی سر زمین کو استعمال کر سکے۔ ایسے معاہدوں سے بھارت کو خوف ہے کہ واشنگٹن حکومت اپنی عسکری کارروائیوں کے لئے اس کی عسکری تنصیبات کا استعمال کر سکتی ہے۔

Russland Indien Ministerpräsident Manmoham Singh in Moskau bei Dmitri Medwedew
روس اور بھارت سرد جنگ کے دور کے ساتھی ہیںتصویر: AP

دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت کو نہ صرف اپنی پارٹی کے اندر بلکہ اپوزیشن سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایسے معاہدے نہ کریں، جس کے نتیجے میں گزشتہ تین سالوں سے ایسے بہت سے معاہدے حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما کی خواہش صرف یہی نہیں ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ان معاہدوں کو حتمی شکل دے دیں بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ نئی دہلی حکومت علاقائی سطح پر امریکی حکمت عملی کو قبول کرے۔ امریکی حکومت ایک طرف تو اس خطے میں دہشت گردی کےخلاف جنگ میں سرگرم عمل ہے تو دوسری طرف وہ چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثر ورسوخ کو بھی کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ بھارتی سیاسی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ ان معاہدوں کو حتمی شکل دینے سے قبل ان پر وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے کیونکہ ان معاہدوں کے دور رس اثرات ثابت ہو سکتے ہیں۔

Indischer Soldat mit Bofor Waffe
بھارتی فوج آج کل جن ہتھیاروں اور دیگر دفاعی ساز و سامان سے لیس ہے، وہ روس کا فراہم کردہ ہےتصویر: AP

کئی سکیورٹی تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارت امریکہ سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ واشنگٹن حکومت، نئی دہلی کے مفادات کا خیال کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر اپنا ایک سنجیدہ پارٹنر بنائے۔ کئی دوسرے ماہرین کے خیال میں امریکہ کے ساتھ بھارت کے ایسے معاہدوں کی صورت میں نئی دہلی حکومت اپنے اہم حلیف ملک روس اور کئی یورپی ممالک سے سٹریٹیجک سطح پر دور ہو سکتی ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک خارجہ امور کی کونسل CFR سے وابستہ ایوان فیگن باؤم کے خیال میں امریکہ اور بھارت کو ایک دوسرے کے قریب آنے کے لئے یہ پرکھنا ہو گا کہ مستقبل میں ان ممالک کا تعلق کس نوعیت کا ہو گا۔ ان کے خیال میں سکیورٹی صرف معاہدوں سے ہی ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانے ہوتے ہیں۔ فیگن باؤم کے مطابق اگر باراک اومابا، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بھارت کی مستقل سیٹ کے لئے اپنی بھر پور حمایت کا اعلان کریں تو دونوں ممالک کے مابین مزید قربت پیدا ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں