1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایئر فرانس کے طیارے کی تباہی، ملبے کی تلاش جاری

4 جون 2009

اس ہفتے پیر کے روز حادثے کا شکار ہونے والے ایئر فرانس کے طیارے کے ملبہ ملنے کے جتنے بھی اندازے لگائے گئے تھے وہ غلط قرار دے دیئے گئے ہیں۔ اِس مناسبت سے برازیل کے ایک اعلیٰ افسر کا نصدیقی بیان سامنے آ یا ہے۔

https://p.dw.com/p/I3XB
ائیر فرانس کا ہنگامی کاؤنترتصویر: AP

برازیلی فضائیہ اور بحری افواج سمندری طوفان کے باوجود ایئر فرانس کے تباہ ہونے والے جہاز کے حصے دھونڈنے میں مصروف ہیں۔ برازیل کے ہوائی ٹریفک کنٹرول کے ڈائریکٹر بریگیڈئر Ramon Cardoso نے بتایا ہے کہ ملبہ تلاش کرنے والی ٹیمیں ہوائی جہاز کا صحیح اور درست ملبہ تلاش کرنے میں ابھی تک ناکام ہیں۔ جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ سمندری کاٹھ کباڑ ہے اور امکاناًکسی بحری جہاز کے ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔ جس ایندھن کی پٹی کا حوالہ پہلے دیا گیا تھا وہ بھی بحری جہاز کی نکلی ہے۔ اِس سے پہلے برازیل کی بحری جہاز کو ہوائی جہاز کا ملبہ ملنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

Vermisstes Air France Flugzeug
ائیرفرانس کا ہوائی جہازتصویر: AP

اسپین کی ایک ایئرلائن کے ایک کپتان نے اخبار El Mundo سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ائیرفرانس کا طیارہ فضا میں جہاں سے غائب ہواتھا، اس پائلٹ نے اسی مقام پر نہایت تیز سفید روشنی کا ایک جھماکہ دیکھا تھا۔ ایئر کومٹ نامی فضائی کمپنی کے اس کپتان نے فرانسیسی شہری ہوا بازی کے محکمہ کواپنی رپورٹ ارسال کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کپتان کے ساتھ ساتھ ان کے ایک معاون پائلٹ اور کئی مسافروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے لیما سے لزبن جانے والی پرواز کے دوران اپنے جہاز سے یہ اچانک سفید روشنی دیکھی تھی۔ ہسپانوی ائیرلائن کے پائلٹ کے مطابق بہت تیز قسم کی یہ سفید روشنی چھ سیکنڈ تک دیکھی گئی۔

اس ہسپانوی پائلٹ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ وہ فضا میں اتفاقیہ طور پراس جگہ ہونے کی وجہ سے یہ تمام تفصیلات فرانسیسی حکام کے علم میں لانا چاہتے ہیں تا کہ اس مسافر بردار ہوائی جہاز کی تباہی کے واقعے کی چھان بین میں ممکنہ مدد کی جاسکے۔

Ölspur im Absturzgebiet der Air France Maschine
بحر اوقیانوستصویر: picture-alliance/ dpa

اس سے قبل برازیل کے وزیر دفاع Nelson Jobim نے بتایا تھا کہ جائے حادثہ کے نیچے سمندر میں پانی کی سطح پر پھیلے ہوئے تیل سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ طیارہ غالبا آگ لگنے یا کسی دھماکے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔

ائیر فرانس کا یہ طیارہ پیر کے روز حادثے کے وقت ریو ڈی جینیرو سے پیرس کی طرف پرواز پر تھا۔ اس میں عملے کے ارکان سمیت کل 228 افراد سفر کر رہے تھے۔

فرانس کے صدرنکولا سارکوزی نے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں بدھ کے روز منعقدہ ایک تعزیتی تقریب میں پاپائے روم بینیڈکٹ شانزدہم کا تعزیتی پیغام پڑہ کرسنایا تھا اور اتنی زیادہ انسانی جانوں کے ضیاع پر ذاتی افسوس کا اظہار بھی کیا تھا۔

اس طیارے کی تباہی کے نتیجے میں سب سے زیادہ فرانسیسی شہری ہلاک ہوئے جن کی تعداد 72 بنتی ہے۔ اس حادثے کے اتنے روز بعد اب طیارے کے مسافروں میں سے کسی ایک کے بھی زندہ بچ رہنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی لئے یہ حادثہ ابھی سے ایئر فرانس کی ستر سالہ تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حادثہ قرار دیا جارہا ہے۔

اس حادثے سے قبل گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران سب سے ہلاکت خیز فضائی حادثہ 2001 ء میں پیش آیا تھا جب امریکن ائرلائن کے ایک طیارے کی تباہی کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 260 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹ عروج رضا

ادارت عدنان اسحاق