1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بن لادن کا سراغ لگانے ميں شريک مکلاگين کا انٹرويو

2 اگست 2011

جان مکلاگلين نے 30 سال تک امريکی خفيہ ادارے سی آئی اے ميں مختلف اعلٰی عہدوں پر کام کيا ہے۔ ڈوئچے ويلے کو ديئے گئے ايک انٹرويو ميں انہوں نے اسامہ بن لادن کو پکڑنے کی مشکلات پر روشنی الی۔

https://p.dw.com/p/11vJu
جان مکلاگلين
جان مکلاگلينتصویر: AP

جان مکلاگلين اس وقت بالٹی مور کی جان ہوپکنس يونيورسٹی ميں فلپ ميرل سينٹر فار اسٹريٹيجک اسٹڈيز سے منسلک ہيں۔ انہوں نے ڈوئچے ويلے کو ديئے گئے ايک انٹر ويو ميں اس متنازعہ مسئلے پر بھی بات چيت کی کہ تورا بورا ميں کيا ہوا تھا۔ ڈوئچے ويلے سے اُن کے اس انٹر ويو کے کچھ اقتباسات پيش کئے جاتے ہيں:

ڈوئچے ويلے: آپ نے 30 سال سے بھی زيادہ عرصے تک سی آئی اے کے ليے کام کيا ہے۔ آپ نے اسامہ بن لادن کے بارے ميں پہلی بار کب سنا تھا؟

جان مکلاگلين: ذاتی طور پر ميں نے بن لادن کا ذکر سن 1990 کے عشرے کے وسط ميں سنا تھا۔ تقريباً سن 1996 ميں ہم نے محسوس کيا کہ اسامہ بن لادن القاعدہ کو رقم فراہم کرنے کا ايک اہم ذريع تھا۔ وہ اُس وقت سوڈان سے افغانستان منتقل ہو رہا تھا اور اُس وقت ميں امريکی حکومت کے ليے ايک جائزہ تيار کر رہا تھا اور سن 1997 ميں ہم نے اپنے ايک بڑے جائزے ميں يہ کہا کہ بن لادن امريکہ کے ليے ايک شديد خطرہ تھا۔ القاعدہ نے سن 1998 ميں امريکی سفارتخانے پر اور سن 2000 ميں امريکی بحريہ کے جہاز يو ايس ايس کول پر اور پھر 11 ستمبر سن 2001 کو امريکہ ميں دہشت گردانہ حملے کيے۔

ڈوئچے ويلے: امريکہ نے 11 ستمبر سن 2001 سے پہلے بھی بن لادن کو گرفتار کرنے کی کوشش کی ليکن وہ اس ميں ناکام رہا۔ 11 ستمبر کے بعد اسامہ کی تلاش کے طريقہء کار ميں کيا تبديلی آئی؟

جان مکلاگلين: 11 ستمبر امريکہ کے ليے ايک ايسا شديد دھچکہ تھا کہ اس کے بعد بن لادن کے تعاقب ميں نماياں اضافہ ہو گيا۔ اس کے ليے زيادہ رقم اور عملہ مہيا کيا گيا اور ہم اس مسئلے پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تعداد ميں ڈرامائی اضافہ کرنے ميں کامياب ہو گئے۔

ڈوئچے ويلے: افغانستان پر امريکی حملے کے بعد القاعدہ کی قيادت فرار ہو کر تورا بورا کے پہاڑوں ميں چھپ گئی تھی۔ وہاں سے بن لادن کس طرح امريکی فوجی دستوں کے ہاتھ سے نکل گيا؟

جان مکلاگلين: تورا بورا ميں جو کچھ ہوا اُس کے بارے ميں ابھی تک بہت زيادہ متضاد باتيں پھيلی ہوئی ہيں۔ اس مسئلے سے وابستہ ميرے بہت سے اچھے دوست يہ سمجھتے ہيں کہ ہميں بن لادن کو وہيں پکڑ لينا چاہيے تھا۔ لیکن بعض دوسرے دوست يہ پوچھتے ہيں کہ کيا يہ ممکن تھا؟ ميرا ذاتی خيال يہ ہے کہ افغانستان کے اس علاقے ميں زمينی صورتحال اس قدر دشوار ہے کہ ہميں بن لادن کو پکڑنے کے امکانات ميں نماياں اضافہ کرنے کے ليے بہت بڑی تعداد ميں امريکی فوجی بلانا پڑتے۔ ميں وہاں فوجی تعينات کرنے يا نہ کرنے کے فيصلے ميں شريک نہيں تھا، اس ليے مجھے علم نہيں کہ ہمارے کمانڈرز کی سوچ کيا تھی۔ ليکن دوسروں کے مقابلے ميں مجھے اس پر اتنا زيادہ يقين نہيں کہ ہم بن لادن کو وہاں گرفتار کر سکتے تھے۔ ميرے خيال ميں وہاں کی زمين بہت دشوار گذار ہے اور ہماری اُس وقت کی خفيہ معلومات بھی ايسی نہيں تھيں کہ اُن کی مدد سے ہم اسامہ کو گرفتار کر سکتے تھے۔

ڈوئچے ويلے: کيا يہ عام خيال درست ہے کہ تورا بورا کے بعد امريکہ کو کبھی بھی بن لادن کو پکڑنے يا ہلاک کرنے کا اتنا اچھا موقع نہيں ملا تھا جتنا کہ پچھلے سال اس کا سراغ ملنے کے بعد اور چند ہفتے قبل اُس کی ہلاکت کے وقت؟

جان مکلاگلين: ہاں، يہ عام خيال عمومی طور پر صحيح ہے۔

انٹرويو: ميشائيل کنگے، ڈوئچے ويلے

ترجمہ: شہاب احمد صديقی

ادارت: امتياز احمد