1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی سپریم کورٹ کا گائے ذبح کرنے پر ملکی پابندی سے انکار

مقبول ملک
27 جنوری 2017

بھارتی سپریم کورٹ نے پورے ملک میں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دینے کی ایک قانونی درخواست مسترد کر دی ہے۔ گائے کو گوشت کے لیے ذبح کرنا ملک کی ہندو اکثریتی آبادی کے لیے بہت حساس معاملہ ہے، جو اس جانور کو مقدس سمجھتی ہے۔

https://p.dw.com/p/2WVUu
Kühe und Milchproduktion in Indien
کئی بھارتی ریاستوں میں گائے ذبح کرنا اور بیف بیچنا یا اپنے قبضے میں رکھنا قانوناﹰ منع ہےتصویر: AP

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے جمعہ ستائیس جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ مقدمہ گائے ذبح کرنے یا ’گاؤ ہتیہ‘ کے خلاف سرگرم ایک معروف سیاسی کارکن کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جس نے مطالبہ کیا تھا کہ عدالت عظمیٰ کو پورے بھارت میں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دینا چاہیے۔

بھارت میں گائیں ٹرانسپورٹ کرنے پر قتل، سولہ ہندو ملزم گرفتار

’گائے کی حفاظت یا جرائم کا ارتکاب؟: مودی بھی بول اُٹھے

ہندو انتہا پسندوں کا بیف کی افواہ پر مسلمان خواتین پر تشدد

اگر عدالت یہ قانونی درخواست منظور کرتے ہوئے پابندی لگا دیتی تو سوا ارب نفوس پر مشتمل اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس دوسرے سب سے بڑے ملک میں گائے کا گوشت یا بیف کھایا جانا عملاﹰ ممنوع ہو جاتا۔

بھارت میں اکثریتی ہندو آبادی گائے کو اپنی مذہبی روایات کے مطابق ’تہذیب کی ماں‘ سمجھتی ہے اور اس جانور کو ہندوؤں کی طرف سے عام طور پر ’گاؤ ماتا‘ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ اسی لیے ہندو مت کے احکامات پر عمل کرنے والے بہت سے افراد کے مطابق بیف کے لیے گائے کو ذبح کرنا ’توہین مذہب‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

Flash-Galerie Religion und Essen Hinduismus
بھارت کی ہندو اکثریتی آبادی کے لیے گائے ایک مقدس جانور ہےتصویر: AP

لیکن بھارت ہی میں مختلف مذہبی اقلیتوں کی مجموعی آبادی بھی کئی کروڑ بنتی ہے اور ان میں مسلمانوں کے علاوہ مسیحی اور نچلے سماجی طبقات کے ہندو بھی شامل ہیں، جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ بھارت میں بیف ہر یونین ریاست میں نہیں بیچا جاتا اور کئی صوبوں میں تو گائے ذبح کرنا قانوناﹰ منع بھی ہے۔

بھارت کے 29 صوبوں میں سے صرف آٹھ اسے ہیں، جہاں گائے ذبح کرنا، بیف بیچنا اور کھانا قانوناﹰ منع نہیں ہے۔ اس حوالے سے نئی دہلی میں ملکی سپریم کورٹ نے جمعے کے روز مقدمہ خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا، ’’کوئی ریاست چاہے تو گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا سکتی ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو ایسا نہ کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ اس سلسلے میں ریاستی قوانین میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔‘‘

بھارت میں کئی بنیاد پرست ہندو مذہبی گروپوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی اپنی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی کی طرف سے طویل عرصے سے یہ مہم چلائی جاتی رہی ہے کہ پورے ملک میں گائے ذبح کرنے اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کی جانا چا ہیے۔

Indien Neu Delhi Hindu Protest gegen Rindfleisch-Konsum
بھارت میں بنیاد پرست ہندو مظاہرین گائے کو ذبح کرنے اور بیف کھانے کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئےتصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Das

2014ء کے ملکی الیکشن میں تو بی جے پی نے جو بہت بڑی کامیابی حاصل کی تھی، اس کی ایک وجہ جزوی طور پر کیے جانے والے یہ عوامی وعدے بھی تھے کہ گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اب تک لیکن مودی حکومت صوبائی حکومتوں کو اس امر کا قائل کرنے میں ناکام رہی ہے کہ انہیں اپنے ہاں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگانا چاہیے۔

حالیہ برسوں میں بی جے پی کی حکومتوں والی چند بھارتی ریاستیں ایسے سخت قانون بھی متعارف کرا چکی ہیں، جن کے تحت مثال کے طور پر نہ صرف گائے کو ذبح کرنا ممنوع ہے بلکہ اگر کسی شہری پر بیف کھانے یا گائے کے گوشت کو اپنے قبضے میں رکھنے کا الزام ثابت ہو جائے، تو اسے دس سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں