1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تھائی لینڈ میں خونریز تصادم، کم ازکم دس افراد ہلاک

14 مئی 2010

تھائی لينڈ ميں کئی ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہرين کی فوج اور پوليس کے ساتھ جھڑپوں میں جمعے کے روز خونریز شدت دیکھنے میں آئی اور پولیس کی اپوزیشن مظاہرین پر فائرنگ سے کم ازکم دس افراد ہلاک اور 125 کے قریب زخمی ہو گئے۔

https://p.dw.com/p/NNl4
وسطی بنکاک میں تھائی فوج کی طرف سے مظاہرین کو روکنے کے لئے کھڑی کردہ رکاوٹیںتصویر: AP

جمعے کے روز بنکاک میں پولیس اور فوج کی حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کے ساتھ شروع ہونے والے شدید حد تک خونریز واقعات رات گئے تک جاری رہے اور کئی رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی ہے۔

تھائی لينڈ کے دارالحکومت بنکاک ميں تین اپريل کو ملک کے ديہی علاقوں اور غريب طبقے سے تعلق رکھنے والے، سرخ قميضوں ميں ملبوس مظاہرين نے شہر کے مرکزی علاقے پر قبضہ کرليا تھا۔ حالات کے بگڑنے کے بعد سات اپريل کو بنکاک ميں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی تھی۔

مظاہرين، سن 2006 ميں فوجی بغاوت کے نتيجے ميں اقتدار سے ہٹائے جانے والے جلاوطن سابق وزير اعظم تھاکسن شناوترا کے حامی ہيں۔ اُن کا مطالبہ ہے کہ پارليمنٹ توڑ دی جائے اور وزير اعظم ابھيست ویجاجیوا مستعفی ہوجائيں۔

ویجاجیوا نے پچھلے ہفتے اس شرط پر 14 نومبر کو نئے انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی کہ آمريت کا مخالف متحدہ عوامی جمہوری محاذ UDD اپنا احتجاج ختم کر دے۔ اگرچہ UDD نے شروع ميں وزير اعظم کی اس پيشکش کو سراہا تھا، تاہم بعد ميں اُس کی قيادت نے مزيد شرائط پيش کرديں جن سے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ ابھيست ویجاجیوا اب اپنی قبل از وقت انتخابات کی پيشکش واپس لے چکے ہیں۔

Thai.jpg
فوجی دستوں نے بنکاک کو مظاہرین سے آزاد کروانے کے لئے پیش قدمی شروع کر دی ہےتصویر: AP

تھائی لينڈ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بنکاک کا مرکزی علاقہ ميدان جنگ ميں تبديل ہو چکا ہے، جہاں فوج علاقے کو مظاہرين سے خالی کرانے کے لئے کارروائی ميں مصروف ہے۔

فوج امريکی اور جاپانی سفارتخانوں کے قريب احتجاج کرنے والے حکومت مخالف مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گيس اور ربڑ کی گوليوں سے کام لے رہی ہے اور اُس نے فائرنگ بھی کی ہے۔

جمعے کے روز غروب آفتاب کے بعد بنکاک پر اندھيرا چھا جانے کے بعد بھی متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازيں آ رہی تھیں۔ سلوم روڈ پر بنکاک کے مالياتی مرکز ميں چھ زوردار دھماکے ہوئے۔ دارالحکومت کے مرکزی حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے فوج اور مظاہرين کے درميان تصادم کی شدت ميں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

’پوليٹیکل رسک کنسلٹينسی‘ نامی ايک يورو ايشيائی گروپ کے مطابق فوجی طاقت کی مدد سے بنکاک کی سڑکوں کو صاف کرانے ميں کاميابی کے امکانات تو کافی ہيں، ليکن اس سے موجودہ عدم استحکام ختم نہيں ہوگا۔ حکومت کے مخالفين کا دباؤ بر قرار رہے گا اور تھائی لينڈ میں مستقبل قريب ميں سکون دیکھنے میں نہیں آئے گا۔

اس بحران کی وجہ سےجنوب مشرقی ايشيا کی دوسری بڑی معيشت تھائی لينڈ کی اقتصادی حالت بھی مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں