1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی: حکومت سازی ’سیاست‘ کی نذر ہو گئی

عدنان اسحاق اینس پوہل
20 نومبر 2017

ڈوئچے ویلے کی مدیر اعلٰی اینس پوہل کے مطابق کسی کو امید نہیں تھی کہ جرمنی میں حکومت سازی کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔ اب نئے انتخابات سے لے کر اقلیتی حکومت کی تشکیل تک تمام امکانات موجود ہیں۔ برلن نے پوہل کا تبصرہ۔

https://p.dw.com/p/2nvno
Berlin Scheitern der Jamaika-Sondierungen
تصویر: picture-alliance/dpa/M. Kappeler

ڈوئچے ویلے کی مدیر اعلیٰ اینس پوہل اپنے تبصرے میں لکھتی ہیں کہ بریگزٹ اور ٹرمپ کے بعد اب یہ:  یعنی کم از کم کچھ عرصے کے لیے انگیلا میرکل کی حکومت بنانے میں ناکامی۔ انتخابات کے آٹھ ہفتوں بعد مستحکم معیشت اور یورپی یونین کی موٹر کہلانے والے جرمنی جیسے کامیاب ملک کی صورتحال انتہائی غیر واضع ہے۔ نصف شب سے کچھ قبل فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) کے سربراہ کرسٹیان لنڈنر نے حکومت سازی کے لیے جاری مذاکرات سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔ ان کے بقول کسی غلط حکومتی اتحاد سے بہتر ہے کہ حکومت کا حصہ ہی نہ بنا جائے۔

پوہل مزید لکھتی ہیں کہ لنڈنر کا یہ سخت بیان حکومت کی تشکیل کے لیے کئی ہفتوں سے جاری مذاکراتی عمل کے بعد سامنے آیا۔ یہ بات چیت ہر قسم کےجذباتی تعلق سے عاری تھی اور اس کا مقصد صرف ایک دوسرے کو سہولت فراہم کرنا تھا۔ آخر کار یہ مذاکرات اس قدر تفصیلات میں جکڑ گئے کہ اس موقع پر کسی بھی جماعت کی جانب سے نظریاتی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کوئی اضافی کوششیں نہیں کی گئیں۔

Herbsttreffen der Medienfrauen 2017 Ines Pohl
تصویر: DW/P. Böll

دائیں بازو کی قدامت پسند ’اے ایف ڈی‘ پارلیمان میں

یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم اور مہاجر مخالف دائیں بازو کی قدامت پسند جماعت اے ایف ڈی پارلیمان تک رسائی حاصل کر پائی ہے اور اس وجہ سے  ممکنہ اتحاد کے روایتی امکانات بھی کم ہو گئے تھے۔ پوہل کے خیال میں سات جماعتوں کی نمائندگی والی پارلیمان میں کوئی حل تلاش کرنا آسان نہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کی جانب سے مخلوط حکومت میں شامل نہ ہونے کے اعلان کے بعد گزشتہ بارہ برسوں کے دوران چانسلر انگیلا میرکل کو ایک ایسے مذاکراتی عمل میں شامل ہونا پڑا، جس میں سب سے زیادہ پارلمیانی نشستیں حاصل کرنے کے باوجود ان کے پاس کوئی حقیقی اختیار نہیں تھا۔

اینس پوہل مزید لکھتی ہیں کہ ستمبر کے انتخابات میں چانسلر کی جماعت کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے میرکل کا کردار  صرف ایک ثالث کا ہی رہ گیا تھا اور وہ اس میں بھی ناکام ہو گئیں۔ بظاہر یہ ایف ڈی پی ہی ہے، جو انگیلا میرکل کے ایک نئے بیانیے کی تلاش  اور ایک ایسے حکومتی اتحاد کو ترتیب دینے کے خیال کی راہ میں رکاوٹ بنی، جو آزمائے گئے پرانے طریقوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ پوہل کے خیال میں اس موقع پر انہیں اس نئے سیاسی ماحول کا نئے جرات مندانہ خیالات سے مقابلہ کرنا چاہیے تھا۔

پناہ گزین پالیسیاں مرکِز توجہ

حکومت سازی کی کوشش میں پناہ گزین سے متعلق پالیسیاں ہمیشہ سے ہی آڑے آئی ہوئی تھیں۔ میرکل کی مہاجر دوست سیاست کی وجہ سے اے ایف ڈی کے زور میں اضافہ ہوا اور آخر میں مذاکرات میں ناکامی کی وجہ بھی یہی ہو سکتی ہے۔ بہرحال مشکلات میں گھرے افراد کی مدد کرنا کوئی غلط فیصلہ نہیں تھا تاہم میرکل اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے دوسروں کا تعاون حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

Deutschland Angela Merkel Scheitern der Sondierungsgespräche
تصویر: picture alliance/dpa/B. von Jutrczenka

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار پوہل مزید لکھتی ہیں کہ حکومت سازی میں ناکامی اس امر کی جانب اشارہ ہے کہ جرمنی کو ایک فیصلہ کن صورتحال کا سامنا ہے۔ اقتصادی شعبے میں ہونے والی ترقی کے باوجود مستقبل کے حوالے سے عوام کے اس خوف میں کمی نہیں آئی ہے، جس میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی میں مہاجرین کو ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس وجہ سے آج صبح اٹھ کر حکومت سازی کے مذاکرات کی ناکامی کی خبر صرف جرمنی کے لیے ہی نہیں بلکہ یورپ کے لیے بھی ایک دھچکہ ہے۔ کیونکہ شاید اب ہمیں کئی ہفتوں یا کئی مہینوں تک غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہے۔