1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں شرح پیدائش میں ریکارڈ کمی

13 نومبر 2010

جرمنی میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں ریکارڈ حد تک کمی ہوئی ہے۔ جرمن دفتر شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ برس پیدا ہونے والے بچوں کی سالانہ تعداد 1945ء کے بعد سے لے کر اب تک کی اپنی کم ترین سطح پر رہی۔

https://p.dw.com/p/Q7eS
تصویر: AP

قریب 83 ملین کی آبادی والے ملک جرمنی میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی کی وجہ سے اوسط عمر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت کی شرح نمو کے لئے شدید خطرے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

Deutschland Gesundheit Kind beim Arzt U7
جرمنی کی مجموعی آبادی تقریبا 83 ملین یےتصویر: picture-alliance/ dpa

دوسری عالمی جنگ کے دوران شرح پیدائش میں ہونے والی ریکارڈ کمی کے باعث جرمنی میں یہ خلاء تب تارکین وطن کو بلا کر پر کیا گیا تھا تاہم اب جبکہ جرمنی میں غیر ملکی تارکین وطن سے متعلق سخت ضوابط موجود ہیں، یہ صورتحال خاصی تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔

جرمن شہر ویزباڈن میں قائم وفاقی دفتر شماریات کے مطابق گزشتہ برس جرمنی میں مجموعی طور پر چھ لاکھ 65 ہزار ایک سو 26 بچے پیدا ہوئے جبکہ سن 2008ء میں یہ تعداد چھ لاکھ 82 ہزار پانچ سو 14 تھی۔ دفتر شماریات کے مطابق اگر سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو گزشتہ دس برسوں میں جرمنی میں بچوں کی پیدائش میں ایک لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔ سن 1999ء میں جرمنی میں مجموعی طور پر سات لاکھ 70 ہزار سات سو 74 بچے پیدا ہوئے تھے۔

Deutschland Geburten Statistik Baby auf Geburtsstation
جرمنی میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہےتصویر: AP

ویزباڈن کے اس وفاقی دفتر کے مطابق سن 2009ء میں پیدا ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد دوسری عالمی جنگ کے اختتام یعنی سن 1945ء میں پیدا ہونے والے بچوں کی کُل تعداد کے بعد سب سے کم رہی ہے۔ سن 1945ء میں جرمنی میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ یورپ بھر میں جرمنی سب سے کم شرح پیدائش والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کی پیدائش کی شرح میں یہی کمی جاری رہی تو سن 2050ء میں جرمنی کی کل آبادی کم ہو کر 50 ملین تک رہ جائے گی۔

انہی خدشات کو دیکھتے ہوئے سن 2007ء میں جرمن حکومت کی طرف سے Elterngeld یا ’والدین کے لئے رقم‘ کے نام سے ایک پروگرام بھی شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت ملازمت پیشہ جوڑوں کو کسی بچے کی پیدائش پر کئی ماہ تک مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں