1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صوماليہ ميں بھوک کے مقابلے کے بعد امن ضروری

2 ستمبر 2011

صوماليہ ميں لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہيں۔ وہ شديد مايوسی ميں مبتلا ہيں۔ اُن کے پاس زندہ رہنے کو کچھ بھی نہيں بچا ہے۔ اُن ميں سے بہت سے کسی نہ کسی طرح کينيا ميں مہاجرين کے بہت بڑے کيمپ داداب تک پہنچ گئے ہيں۔

https://p.dw.com/p/12S4j
داداب کيمپ ميں ايک صومالی گھرانہ
داداب کيمپ ميں ايک صومالی گھرانہتصویر: dapd

والٹر لنڈنر جرمن وزارت خارجہ کے نمائندہ برائے افريقہ ہيں۔ وہ حال ہی ميں افريقہ کے دورے سے واپس آئے ہيں۔ اُنہوں نے کہا: ’’چار لاکھ 50 ہزار افراد کيمپوں ميں رہ رہے ہيں۔ وہ کام نہيں کر سکتے اور کيمپوں سے باہر بھی نہيں جا سکتے۔ اس طرح وہ اگلی نسل تک اسی طرح سے زندگی گذارنے پر مجبور ہيں۔ يہ ايک بہت بری صورتحال ہے، جو کسی کے ليے بھی قابل قبول نہيں ہے۔‘‘

والٹر لنڈنر برسوں تک افريقہ کے مختلف ممالک ميں اپنے ملک کے سفير کے فرائض انجام دے چکے ہيں۔ وہ ايک غير روايتی قسم کے سفارتکار ہيں۔ غربت کبھی بھی اُن کے ليے کوئی اچھوت چيز نہيں رہی اور وہ ہميشہ انسانوں کی مدد کے ليے تيار رہتے ہيں۔ کئی برسوں سے صوماليہ کے مشکل حالات کے باوجود انہوں نے کبھی اس ملک سے منہ نہيں موڑا۔ صوماليہ سے اُنہيں دلی لگاؤ بھی ہے: ’’نظر انداز کردينا اور يہ کہنا کہ صوماليہ 20 برسوں سے ناقابل حل مسئلہ ہے، صحيح نہيں ہوگا۔ کوئی بھی متبادل اس سوچ سے بہتر ہے۔‘‘

صوماليہ ميں قحط
صوماليہ ميں قحطتصویر: picture alliance/dpa

صوماليہ ميں پچھلے دو عشروں سے تشدد، لاقانونيت اور خانہ جنگی جاری ہے۔ کوئی باقاعدہ حکومت نہيں ہے اور فوجی گروپوں، خاندانی گروہوں اور اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کا راج ہے۔ قرن افريقہ کے سمندروں ميں صومالی بحری قزاق جہاز اغوا کرکے رقوم وصول کر رہے ہيں۔

قحط کے شکار صومالی
قحط کے شکار صومالیتصویر: dapd

 صوماليہ ميں بھوک اور قحط کا مقابلہ اولين ترجيح ہے۔ اس کے بعد اس ملک کو امن کی ضرورت ہے۔ صرف اسی طرح ايک ايسے ملک کے ليے اميد کی کرن پيدا ہو سکتی ہے، جو اس وقت نا اميدی کے اندھيروں ميں غرق ہے۔

 

 

رپورٹ: فولکر وٹنگ / شہاب احمد صديقی

ادارت: امتياز احمد

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں