1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

طورخم سرحد بند، عبور کرنے کے لیے دستاویزات کا ہونا لازمی

فرید اللہ خان، پشاور1 جون 2016

پاکستان نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں طورخم بارڈر پر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے سرحد عبور کرنے والوں کے پاس مطلوبہ دستاویزات کا ہونا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1IyL1
تصویر: Tanveer Mughal/AFP/Getty Images)

انتظامیہ نے دو ماہ قبل ہی سے طورخم سرحد بند کرنے کے فیصلے سے تمام متعلقہ افراد کو آگاہ کر دیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز باقاعدہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعے مختلف علاقوں میں اعلانات بھی کروائے گئے تھے۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے ایک روز قبل دونوں ممالک کی فلیگ میٹنگ کے موقع پر افغان حکام نے رمضان کے دوران آمدورفت میں نرمی کی درخواست کی تھی، جسے پاکستانی حکام نے مسترد کر دیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدوں پر سکیورٹی سخت کرنا اور آمد و رفت پر نظر رکھنے کا فیصلہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے، جو آرمی پبلک سکول میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد بنایا گیا تھا۔ طورخم سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سرحد پر سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔

Nach der Schließung zweier Grenzübergänge zwischen Pakistan und Afghanistan
تصویر: dapd

پاکستانی تاجر برادری نے ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزے کی شرط کے فیصلے کو سراہا ہے۔ پختونخوا چیمبر آف کامرس کے صدر ذوالفقار علی خان سے جب اس سلسلے میں ڈوئچے ویلے نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا ’’بحثیت پاکستانی شہری میری رائے میں یہ اقدام بہت پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔ آج ہمیں سکیورٹی کے جن مسائل کا سامنا ہے یہ سب افغانستان سے بلا روک ٹوک آمد و رفت کی وجہ سے ہے۔ آج بھی افغانستان کے فون نمبرز سے بھتے کی کالیں موصول ہو رہی ہیں لیکن افغان حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کرتی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک دونوں ممالک کے مابین تجارت کا تعلق ہے تو ہم قانونی تجارت کو ہر فورم پر سپورٹ کرتے ہیں،’’ اگر سرحد پر تعینات کوئی بھی ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرے تو کسی کو قانونی تجارت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

پاکستان میں اس وقت سترہ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں جبکہ غیر قانونی افغان مہاجرین کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے تاریخ طے کی گئی تھی تاہم عالمی اداروں اور افغانستان کی جانب سے درخواست کے بعد اس میں جون 16 تک توسیع کر دی گئی۔

اس سلسلے میں عوامی نیشنل کے مرکزی سیکر‌ٹری اطلاعات سینٹر زاہد خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس طرح سرحد کو بند کرنے سے دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ دونوں ممالک مل بیٹھ کر کوئی درمیانی راستہ نکالتے تو اچھا ہوتا۔ ویسے بھی افغانستان کے عوام پاکستان کی پالیسیوں سے زیادہ خوش نہیں۔ اس یکطرفہ فیصلے سے دونوں کے درمیان مزید دوریاں پیدا ہوں گی۔‘‘ زاہد خان کا مزید کہنا تھا اس فیصلے سے عوام کے مسائل بڑھیں گے۔ لاکھوں افغان یہاں موجود ہیں۔ ان کے رشتہ دار تقریبات میں شرکت کے لیے آتے جاتے رہتے ہیں،’’ایسے میں پاکستان کا امیج مزید خراب ہو گا اور یہ مسلئہ بین الااقوامی شکل اختیار کرے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید تھی۔ ان کے بقول کچھ عرصہ تعلقات ٹھیک رہے لیکن پھر دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا، ’’چالیس سال تک پاکستان نے جو قربانیاں دی ہیں اسے ضائع کیا جارہا ہے۔‘‘

Afghanische Flüchtlingsfamilie
تصویر: AP

پاکستان نے خیر سگالی کے طور انگور اڈہ میں پاک افغان سرحد کے انتظامات افغانستان کے حوالے کیے ہیں لیکن یہ خیر سگالی بھی دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں کمی نہ لا سکی۔ پشاور میں افغان قونصل جنرل کی نجی گاڑی حساس علاقے میں داخل ہونے پر سکیورٹی اہلکاروں نے روک دی، جس پر افغان قونصل جنرل نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پشاور کے افغان قونصل خانے کو ایک دن کے لیےاحتجاجاً بند کردیا جبکہ سفارتخانے کو بھی آگاہ کردیا ہے۔