1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عالمی اقتصادی فورم میں اوباما پر تنقید

28 جنوری 2010

امریکی صدر اوباما نے بدھ کی رات امریکی مالیاتی اداروں اور بڑی بڑی کاروباری کمپنیوں پر جو تنقید کی، اس پرجمعرات کو داووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران قدرے سخت رد عمل دیکھنے میں آیا۔

https://p.dw.com/p/Lj4y
باراک اوباما بدھ کی رات امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: AP

صدر باراک اوباما نے بدھ کی رات امریکی کانگریس سے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ملکی معیشت کو درپیش مسائل اور روزگار کی منڈی کی صورت حال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ امریکی صدر اوباما نے کانگریس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی تحریک جاری رہے گی۔

Sarkozy Rede in Davos beim Weltwirtschaftsgipfel
فورم کے پہلے روز مقررین میں فرانسیسی صدر سارکوزی بھی شامل تھےتصویر: AP

سینیٹ کے حالیہ ضمنی انتخاب میں لگنے والے سیاسی دھچکے کے باوجود امریکہ میں صحت عامہ کے شعبے میں جامع اصلاحات کے لئے جدوجہد میں بھی کمی نہیں آئے گی۔ باراک اوباما نے اپنی تقریر میں امریکی بجٹ میں 1.4 ٹریلین ڈالر کے ریکارڈ خسارے کو کم کرنے کا عہد بھی کیا اور یہ بھی کہا کہ امریکی سٹاک مارکیٹس کی شفاف تر کارکردگی کے لئے نئے سخت قوانین بھی بنائے جائیں گے۔ اس موقع پر امریکی صدر نے ملکی مالیاتی شعبے کی کارکردگی اور طریقہ کار پر بھی تنقید کی تھی۔

صدر اوباما کے اس مؤقف پر اپنے رد عمل میں سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر امریکی ایوان صنعت و تجارت کے مرکزی عہدیداروں کی طرف سے یہ کہا گیا کہ امریکی صدر ملکی بینکوں اور بڑے بڑے کاروباری اداروں پر غیر منصفانہ تنقید کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

داووس میں موجود امریکی ایوان صنعت و تجارت کے صدر ٹامس جے ڈَونَو ہوئے نے کہا کہ اوباما ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوششوں کو، چھوٹے پیداواری اداروں کی برآمدات میں اضافے کے ساتھ مشروط کرنے کی جو بات کرتے ہیں، وہ درست ہے۔ تاہم باراک اوباما نے امریکی بینکوں، توانائی کی صنعت اور صحت کے شعبے میں خدمات مہیا کرنے والے ملکی اداروں پر جو تنقید کی ہے، وہ ایک غلطی ہے اور اس حوالے سے دی گئی توجیہات بھی مناسب نہیں ہیں۔

Schweiz Davos Weltwirtschaftsforum Josef Ackermann
داووس فورم مین شامل جرمنی کے ڈوئچے بینک کے سربراہ یوزیف آکرمنتصویر: AP

امریکی ایوان صنعت و تجارت کے صدر کے مطابق باراک اوباما نے جو کچھ کہا ہے، اُس کی روشنی میں امریکی آجرین کو ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے آئندہ ’’ناقابل یقین حد تک غیر یقینی صورت حال‘‘ میں جدوجہد کرنا پڑے گی۔

اسی دوران داووس میں جمع عالمی کاروباری شخصیات نے آج جمعرات کے روز حکومتوں سے اپیل کی کہ انہیں عالمی تجارت میں زیادہ کھلے پن سے متعلق اپنے وہ مذاکرات بالآخر مکمل کرنے چاہیئں جو ایک طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم میں شامل ان کاروباری رہنماؤں نے کہا کہ یہ تجارتی مذاکرات اسی سال مکمل ہو جانے چاہیئں تاکہ حالیہ بین الاقوامی معاشی بحران کے بعد عالمی معیشت کی بحالی کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر انٹرنیشنل بزنس کونسل نے مطالبہ کیا کہ عالمی سطح پر تجارتی مذاکراتی دور کی تکمیل سے متعلق بیس کے گروپ میں شامل ملکوں کو اپنا وہ وعدہ پورا کرنا چاہیے، جو انہوں نے پچھلے سال ستمبر میں Pittsburgh میں ہونے والے اپنے سربراہی اجلاس میں کیا تھا۔ تب جی ٹونٹی کے ان رہنماؤں نے عہد کیا تھا کہ عالمی تجارتی مذاکرات کے نتیجے میں حتمی معاہدہ سن 2010 تک طے پا جائے گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ