خبریں | DW

اہم عالمی خبریں | 22.02.2018 | 16:09

شام: حکومتی فورسز کی بمباری سے مزید 36 افراد ہلاک

شام میں حکومتی فورسز کی بمباری سے مزید چھتیس شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ صدر بشارالاسد کی فورسز باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی غوطہ میں شدید بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق شدید بمباری کی وجہ سے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا مشکل ہے۔ اتوار سے جاری بمباری کی وجہ سے مشرقی غوطہ میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ غوطہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آج اقوام متحدہ میں ایک اجلاس کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے نو ایرانی ماہی گیروں کو رہا کر دیا

سعودی عرب نے نو ایرانی ماہی گیروں کو رہا کر دیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ان ماہی گیروں کو ایک برس پہلے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اس وقت اس کارروائی کے دوران ایک ماہی گیر ہلاک بھی ہو گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ماہی گیروں کو بدھ کے روز رہا کیا گیا تھا جبکہ ان کی اپنے خاندان والوں سے ملتے ہوئے تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔ اس پیش رفت کے حوالے سے سعودی عرب نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مصر: سات فوجی اہلکار ہلاک

مصری فوج کے سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ اہلکار رواں ماہ جزیرہ نما سینائی میں عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے کریک ڈاؤن مارے گئے۔ رواں ماہ شروع ہونے والے اس آپریشن میں نو فوجی زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ ان کارروائیوں میں اکہتر عسکریت پسندوں کو ہلاک جبکہ پانچ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ عسکریت پسندوں کی حمایت کرنے کے الزام میں اٹھارہ سو سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

مصر، اکیس افراد کو موت اور سات کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی

مصر کی ایک عدالت نے اکیس افراد کو موت اور سات کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ ان تمام ملزمان کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں یہ سزائیں سنائی گئی ہیں۔ مصری میڈیا کے مطابق ملزمان اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔ قبل ازیں کالعدم اخوان المسلمون کے چھ اراکین کو تفتیش کے لیے پندرہ روزہ حراست میں لینے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ ان پر بھی دہشت گردوں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مصر کی حکومت سن دو ہزار تیرہ میں صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے اخوان المسلموں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔

جنوبی افریقہ: لسٹیریا کی وباء پھیلنے سے 172 افراد ہلاک

جنوبی افریقہ میں لسٹیریا کی وباء پھیلنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 172 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بیماری بوسیدہ خوراک میں پیدا ہونے والے ایک مخصوص بیکڑیا کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے طبی حکام کے مطابق گزشتہ برس جنوری سے اب تک نو سو پندرہ ایسے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ بیماری کا سبب بننے والا بیکڑیا زمین، پانی اور پودوں میں بھی ملا ہے۔

جرمنی: بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، سابق پادری مجرم قرار

جرمنی میں ایک علاقائی عدالت نے نو عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے جرم میں ایک سابق پادری کو ساڑھے آٹھ برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ جرمنی کے جنوب مشرق میں واقع شہر ڈیگن ڈورف کی عدالت نے بائیس فروری بروز جمعرات سنایا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق مجرم نے سن انیس سو نوے کے بعد سے پانچ بچوں کو ایک سو سے زائد مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ سن دو ہزار آٹھ میں چرچ کی ایک عدالت نے بھی ملزم سے پادری کا عہدہ واپس لے لیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے یہ جنسی سرگرمیاں میونخ کے قریبی علاقے ڈیگن ڈورف، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور پولینڈ میں کی تھیں۔

یورپ کو عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا، میرکل

جرمن چانسلر میرکل نے یورپ کو عالمی سطح پر درپیش اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے خلاف خبردار کیا ہے۔ انہوں نے یہ تنبیہ آج جمعرات کو برلن میں جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں سے اپنے ایک پالیسی خطاب میں کی۔ انگیلا میرکل نے کہا کہ یورپی ادارے اب دنیا بھر میں سبھی شعبوں میں قائدانہ کردار ادا نہیں کر رہے۔ میرکل نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر، خاص کر جنگ زدہ شام جیسے مسلح تنازعات کے شکار خطوں اور ممالک سے متعلق یورپ کو آئندہ اپنے اب تک کے کردار کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا۔

مشتبہ سکھ علیحدگی پسندوں کی بھارتی فہرست کینیڈین وزیر اعظم کے حوالے

بھارت نے نو مشتبہ سکھ علیحدگی پسندوں کے ناموں کی ایک فہرست کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے حوالے کر دی ہے۔ ان دنوں کینیڈین وزیر اعظم اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھارت کے دورے پر ہیں اور یہ لسٹ بھارتی ریاست پنجاب کے ایک دورے کے دوران ان کے حوالے کی گئی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس لسٹ میں شامل نام ان نو افراد کے ہیں، جن پر نئی دہلی کو شبہ ہے کہ وہ بھارتی پنجاب میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مشتبہ افراد سکھوں کی ایک آزاد ریاست خالصتان کے قیام کے حامی قرار دیے جاتے ہیں۔ جسٹن ٹروڈو نے کل امرتسر میں سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل کا دورہ بھی کیا تھا۔

دنیا بھر میں نفرت بھری سیاست میں اضافہ، ایمنسٹی کی رپورٹ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا بھر میں نفرت بھری سیاست میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ایمنسٹی نے اپنی ایک سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر پریشان کن ریاستی رویوں کی وجہ سے پھیلنے والی یہی نفرت انگیز سیاست اقلیتوں کے خلاف مسلسل بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک کی وجہ بنی۔ ایمنسٹی کے سربراہ سلیل شیٹی نے برطانوی دارالحکومت لندن میں اپنی تنظیم کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سال دو ہزار سترہ کے دوران اہم بین الاقوامی سیاسی شخصیات نے اپنے فیصلوں کے ذریعے سماجی نفرت اور خوف کے ماحول کو تقویت دی۔ اس رپورٹ میں دنیا کے قریب ایک سو ساٹھ ممالک میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ گزشتہ برس ستائیس ممالک میں انسانی حقوق کے لیے فعال تین سو بارہ کارکنوں کو قتل بھی کر دیا گیا۔

مونٹی نیگرو میں امریکی سفارت خانے پر ’خود کش حملہ‘

مونٹی نیگرو کے دارالحکومت پوڈگوریچا میں امریکی سفارت خانے پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک شخص نے ایک دستی بم سے حملہ کیا۔ اس حملے میں حملہ آور خود بھی مارا گیا۔ پوڈگوریچا میں حکام نے اسے ایک خود کش بم حملہ قرار دیا ہے۔ امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سفارتی عملہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے اور اولین ترجیح سفارت خانے کے عملے کی سلامتی ہے۔ سفارت خانے نے مونٹی نیگرو میں مقیم امریکی باشندوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی ہے۔

شام میں فائر بندی کے لیے عالمی سلامتی کونسل میں رائے شماری کا مطالبہ

سویڈن اور کویت کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج جمعرات کے روز ایک ایسی قرارداد پر رائے شماری ہونا چاہیے، جس میں جنگ زدہ ملک شام میں ایک ماہ کے لیے فائر بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سویڈن کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کی طرف سے بتایا گیا کہ اس قرارداد کا مسودہ کویت اور سویڈن نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس پر رائے شماری جلد از جلد ہونا چاہیے۔ اس مجوزہ فائر بندی کا مقصد خونریزی کے شکار شامی علاقوں سے محصور شہریوں کے انخلاء اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش بھی ذاتی طور پر مطالبہ کر چکے ہیں کہ شام، خاص کر مشرقی غوطہ میں ہر طرح کی جنگی کارروائیاں فوراﹰ بند کی جائیں۔

آتشیں ہتھیاروں کے خریداروں کی سخت نگرانی، ٹرمپ کی یقین دہانی

امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک اسکول میں سترہ افراد کے قتل کے حالیہ واقعے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آتشیں ہتھیار خریدنے والوں کی آئندہ اور بھی سخت نگرانی کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ یقین دہانی فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ کے مارجوری سٹون مین ڈگلس ہائی اسکول میں خونریزی سے متاثرہ طلبہ اور ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کے دوران کہی۔ اس اسکول کے ایک سابق طالب علم نے گزشتہ ہفتے اندھا دھند فائرنگ کر کے سترہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ آتشیں ہتھیار خریدنے والے افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت کے زیادہ سخت معائنے کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

مشرقی غوطہ میں صورت حال کے ’ذمے دار روس یا روسی اتحادی نہیں‘

روس نے کہا ہے کہ جنگ زدہ شام کے شہر مشرقی غوطہ میں صورت حال کی ذمے داری روس یا روسی اتحادیوں پر عائد نہیں ہوتی۔ کریملن کے ترجمان دیمیتری پَیسکوف نے آج جمعرات کے روز کہا کہ غوطہ میں حالیہ خونریزی کی وجہ وہ عناصر بنے، جو دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں۔ پَیسکوف نے کہا کہ اس کے لیے شامی حکومت، روس یا ایران کو قصور وار ٹھہرانا غلط ہو گا کیونکہ دمشق حکومت اور اس کے اتحادی ’دہشت گردوں کے خلاف‘ لڑ رہے ہیں۔ مشرقی غوطہ میں اتوار سے اب تک ڈھائی سو افراد ہلاک اور ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ باغیوں کے زیر قبضہ یہ شہر ملکی فوج کے محاصرے میں ہے، جہاں شامی فضائیہ کی طرف سے بمباری آج پانچویں روز بھی جاری رہی۔

سلووینیہ کے فوجی دستے نیٹو کے عسکری معائنوں میں کئی بار فیل

سلووینیہ کے فوجی دستے کسی بھی ممکنہ جنگی صورت حال کے لیے اپنی تیاری کے حوالے سے اوسط سے بھی کم عسکری اہلیت کے حامل ہیں۔ سلووینیہ کی فوج کی 72 ویں بریگیڈ کے جن آٹھ سو سپاہیوں نے مغربی دفاعی اتحاد کے اہتمام کردہ عسکری معائنوں اور مشقوں میں حصہ لیا، ان میں وہ اپنی کارکردگی غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے کئی بار فیل ہو گئے۔ ملکی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس کی وجہ لبلیانہ حکومت کی طرف سے دفاع کے لیے مہیا کردہ رقوم کا مسلسل کم ہونا ہے۔ مالیاتی وسائل کی اس کمی کے خلاف کئی برسوں سے حکومت کو خبردار بھی کیا جاتا رہا ہے۔ سلووینیہ 2004ء سے نیٹو کا رکن ملک ہے۔

وینزویلا میں اپوزیشن کا صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان

وینزویلا میں ممکنہ انتخابی دھاندلیوں کے باعث ملکی اپوزیشن نے بائیس اپریل کو ہونے والے صدارتی الیکشن میں اپنی شمولیت کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔ موجودہ صدر نکولاس مادورو کے مخالفین کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان انتخابات کے لیے بین الاقوامی مبصرین کو وینزویلا آنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ ملکی الیکشن کمیشن کی تشکیل غیر جماعتی بنیادوں پر کی جائے اور بیرون ملک رہنے والے وینزویلا کے شہریوں کو بھی ان انتخابات میں ووٹ کا حق دیا جائے۔ مادورو حکومت ملکی اپوزیشن کے یہ مطالبات تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔

ونٹر اولمپکس کی اختتامی تقریب، شمالی کوریائی جنرل بھی شریک ہوں گے

جنوبی کوریا میں جاری سرمائی اولمپک مقابلوں کی آئندہ ویک اینڈ پر ہونے والی اختتامی تقریب میں ہمسایہ لیکن حریف ملک شمالی کوریا کے ایک سرکردہ فوجی جنرل بھی شریک ہوں گے۔ یہ بات سیول میں ملکی حکومت نے آج جمعرات کو بتائی۔ اس تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھی شریک ہوں گی۔ بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریائی جنرل کِم یونگ چَول اس تقریب میں حصہ لینے کے لیے کل جمعے سے اتوار کے دن تک جنوبی کوریا میں ہوں گے۔ وہ شمالی کوریا میں حکمران ورکرز پارٹی میں دونوں کوریائی ریاستوں کے باہمی تعلقات کے نگران عہدیدار بھی ہیں۔

کمبوڈیا کے حکومتی اہلکاروں کو جرمن ویزے جاری نہ کرنے کا فیصلہ

برلن حکومت نے کہا ہے کہ کمبوڈیا کے حکومتی اہلکاروں کو ان کے نجی دوروں کے لیے جرمنی کے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔ ان اعلیٰ حکام میں کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہُن سین بھی شامل ہیں۔ برلن حکومت نے یہ فیصلہ ہُن سین حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے باعث کیا ہے۔ کمبوڈیا کی حکومت نے گزشتہ برس موجودہ وزیر اعظم کے سب سے بڑے سیاسی حریف کی جماعت سی این آر پی کو ملکی سپریم کورٹ کے توسط سے تحلیل کر دیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہُن سین حکومت اپوزیشن کو ڈرانے دھمکانے کے علاوہ عدالتی نظام کا ناجائز استعمال بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

بوکو حرام کے زیر قبضہ بہت سی طالبات کو رہا کرا لیا گیا

نائیجریا کی فوج نے شدت پسند مسلمانوں کی تنظیم بوکو حرام کی طرف سے گزشتہ پیر کے دن اغوا کی گئی درجنوں طالبات میں سے متعدد کو رہا کرا لیا ہے۔ ان طالبان کو شدت پسندوں نے اس وقت اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جب انہوں نے رواں ہفتے کے شروع میں ایک اسکول پر حملہ کر دیا تھا۔ ایک فوجی ترجمان کے مطابق ان طالبات میں سے بہت سی اب واپس اپنے آبائی دیہات میں پہنچ گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک درجن سے زائد مغوی طالبات ابھی بھی بوکو حرام کے شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس حملے کے دوران عسکریت پسند جن طالبات اور نوجوان خواتین کو جبراﹰ اپنے ساتھ لے گئے تھے، ان کی تعداد پچاس اور سو کے درمیان تھی۔

Albanian Shqip

Amharic አማርኛ

Arabic العربية

Bengali বাংলা

Bosnian B/H/S

Bulgarian Български

Chinese (Simplified) 简

Chinese (Traditional) 繁

Croatian Hrvatski

Dari دری

English English

French Français

German Deutsch

Greek Ελληνικά

Hausa Hausa

Hindi हिन्दी

Indonesian Bahasa Indonesia

Kiswahili Kiswahili

Macedonian Македонски

Pashto پښتو

Persian فارسی

Polish Polski

Portuguese Português para África

Portuguese Português do Brasil

Romanian Română

Russian Русский

Serbian Српски/Srpski

Spanish Español

Turkish Türkçe

Ukrainian Українська

Urdu اردو