1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فلسطينی، اسرائيلی کشيدگی کی تازہ لہر، اکتوبر ميں 76 ہلاکتيں

عاصم سليم31 اکتوبر 2015

اسرائيلی سکيورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے ایک چاقو سے مسلح ایک فلسطینی حملہ آور کو ہلاک کر دیا ہے۔ یوں اکتوبر ميں فلسطينی، اسرائيلی کشيدگی کی اس تازہ لہر کے سبب ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد 76 ہو گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/1Gxcc
تصویر: picture-alliance/dpa

نيوز ايجنسی روئٹرز کی يروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائيلی پوليس کی ترجمان لُوبا سامری نے بتايا کہ ہفتہ اکتیس اکتوبر کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے ميں ايک چيک پوائنٹ پر ايک فلسطينی نوجوان ہاتھ ميں چاقو ليے ايک اسرائيلی سکيورٹی آفيسر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ رکنے کی ہدايت نہ سننے کے نتيجے ميں سکيورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر ديا۔ فلسطينی طبی ذرائع کے مطابق حملہ آور کی عمر اٹھارہ برس تھی۔

فلسطينيوں اور اسرائيليوں کے مابين يکم اکتوبر سے شروع ہونے والی کشيدگی کی اس تازہ لہر ميں اب تک 65 فلسطينی ہلاک ہو چکے ہيں۔ ان ميں سے 38 ہلاک شدگان چاقوؤں سے مسلح تھے جبکہ بقيہ کو اسرائيل مخالف پر تشدد مظاہروں ميں مارا گيا۔ ہلاک ہونے والے اکثريتی طور پر نوجوان تھے۔ اس دوران چاقوؤں سے حملوں اور فائرنگ کی وارداتوں ميں گيارہ اسرئيلی بھی ہلاک ہو چکے ہيں۔

اکتيس اکتوبر ہی کو اسرائيلی پوليس نے بتايا کہ سوشل ميڈيا پر نمودار ہونے والی ايک ايسی ويڈيو کے حوالے سے تحقيقات جاری ہيں، جس ميں ايسا معلوم ہوتا ہے کہ چاقو سے حملہ کرنے کے بعد زخمی حالت زمين پر پڑے ايک فلسطينی کو ايک اسرائيلی فوجی افسر گولی مار رہا ہے۔ يہ واقعہ مبينہ طور پر مغربی کنارے کے شہر ہيبرون ميں پيش آیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کسی آزاد ذرائع سے تاحال اس ويڈيو کی تصديق نہيں ہو پائی ہے۔ اسرائيلی پوليس کے مطابق اس فلسطينی نے ايک فوجی پر چاقو سے حملہ کيا تھا، جس کے بعد اس آفيسر نے فلسطينی سے نہ ہلنے کا کہا۔ ليکن جب حملہ آور ہدايت کے باوجود اسرائيلی فوجی کی طرف بڑھا، تو فوجی نے اسے خطرہ قرار ديتے ہوئے اپنے دفاع ميں کارروائی کی۔

حالات ميں خرابی مسجد الاقصٰی کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات کے نتيجے ميں ہوئی
حالات ميں خرابی مسجد الاقصٰی کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات کے نتيجے ميں ہوئیتصویر: Getty Images/AFP/A. Gharabli

ايک مختلف واقعے ميں اسرائيلی بارڈر پوليس کے ايک گارڈ کو معطل کر ديا گيا۔ يہ محافظ مغربی کنارے ميں مہاجرين کے ايک کيمپ سے گاڑی ميں گزرتے وقت لاؤڈ اسپیکر پر چلا رہا تھا کہ ’اگر تم لوگ ہم پر پتھر برساتے رہو گے، تو ہم بھی اس وقت تک کارروائی کرتے رہیں گے جب تم ہلاک نہ ہو جاؤ۔‘

قبل ازيں جمعے کو فلسطينی وزارت صحت کی طرف سے اعلان کيا گيا کہ اسرائيل کی جانب سے مغربی کنارے کے ايک علاقے ميں آنسو گيس کے شیل برسانے کے سبب ايک آٹھ ماہ کا بچہ ہلاک ہو گيا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق یہ بچہ پہلے سے بيمار تھا اور يہ بات حتمی طور پر نہيں بتائی جا سکتی کہ اس کی ہلاکت کس سبب ہوئی۔ اسرائيلی فوج کی ترجمان کے مطابق اس واقعے کی بھی تفتيش جاری ہيں۔

سن 2014 کی غزہ جنگ کے بعد اسرائيل اور فلسطين کے مابين يہ کشيدگی کی سب سے بدتر لہر ہے۔ حالات ميں خرابی مسجد الاقصٰی کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات کے نتيجے ميں ہوئی۔ الاقصٰی مسجد کے کمپاؤنڈ ميں مذہبی رجحانات رکھنے والے يہوديوں کے دوروں ميں اضافے پر فلسطينی يہ الزام عائد کرتے ہيں کہ اسرائيل اس پرانی روايت کے خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کے تحت مسجد کے احاطے ميں غير مسلمانوں کی عبادت ممنوع ہے۔ اسرائيل کی جانب سے ايسے الزامات کو مسترد کيا جاتا رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ کشيدگی کا سبب سوشل ميڈيا پر گردش کرنے والے فلسطينی رہنماؤں کے متنازعہ بيانات ہيں۔