1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فوج کے بعد اب حکومت بھی سخت تنقید کی زد میں

6 مئی 2011

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے جمعے کے روز ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور خصوصاً صدر آصف علی زرداری کو اس واقعے سے متعلق قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا۔

https://p.dw.com/p/11Ar4
آسامہ کے خلاف آپریشن کرنے والا امریکی بحریہ کا خصوصی دستہSEALSتصویر: picture alliance/abaca

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے خفیہ امریکی آپریشن سے لاعلمی پر فوج کے بعد اب تنقید کا رخ حکومت کی جانب کر دیا ہے۔

چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ اس واقعے کے بعد حکومت نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے جبکہ وزیراعظم بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ملکی سلامتی و خودمختاری کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی، مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد قوم کے لیے دوسرا سنگین ترین واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ'' پوری قوم اس وقت سکتے میں ہے‘‘

چوہدری نثار نے کہا کہ اگر ایسی کارروائی کسی جمہوری ملک میں ہوتی تو اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے دو تین افراد ضرور مستعفی ہو جاتے۔ انہوں نے صدر زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ''وہ پاکستان کے سب سے اونچے اقتدار کے ایوان کی جان چھوڑیں یا پاکستان کے عوام کی جان چھوڑیں یا پھراس اونچے عہدے کی پاسداری کرتے ہوئے واضح طور پر زرداری صاحب اپنا موقف بیان کریں کہ وہ اس سارے واقعے میں کس کے ساتھ تھے۔‘‘

Osama Bin Laden Abbottabad Pakistan
ایبٹ آباد میں اسامہ کے کمپاؤنڈ کے باہر تماشائیوں کا مجمعتصویر: AP

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے دور سے ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ وزیرمحنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 9 مئی کو قومی اسمبلی میں خطاب کے ذریعے اس معاملے پر پارلیمان اور پوری قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

پیپلز پارٹی ہی کے سینیٹر لشکری رئیسانی کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد جیسی کارروائی کو سیاسی الزام تراشی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم خود مختار ملک نہیں ہیں۔ اور یہ کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت فوج کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''جن کا یہ کام ہے، انہوں نے اپنا کام مکمل طور پر نہیں نبھایا۔ آج ہم ملکی خود مختاری کو بھول گئے ہیں، ہم سیاسی الزامات لگا رہے ہیں۔ ریڈار پر جو لوگ بیٹھے ہیں، جن کے ہاتھ میں کلاشنکوف، میزائل اور ایف سولہ ہیں، ان کا فرض بنتا تھا کہ وہ اپنے کمانڈر ان چیف کو بتاتے کہ ان کے بارڈر سے کچھ لوگ داخل ہوئے ہیں اور ملکی سرحدوں کی حفاظت جن کی ذمہ داری ہے، یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ بتائیں یہ ان کی کوتاہی ہے یا پھر وہ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Bin Laden Verfolgung Verfolgungsjagd Versteck USA
امریکہ اپنے آپریشن کو حق بجانب قرار دے رہا ہےتصویر: AP Photo/U.S. Army, Staff Sgt. Stephen Schester

ادھر امریکی حکام کی طرف سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی نگرانی کے لیے سی آئی اے سیف ہاؤس کے قیام کے دعوے نے بھی پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر تنقید کا نیا دروازہ کھول دیا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ کیا بات قابل تشویش ہو گی کہ امریکی نہ صرف ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے ہمارے انتہائی اہم شہروں میں سیف ہاؤسز بھی کھول رکھے ہیں اور متعلقہ حکام اس بات سے بے خبر ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں