1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

قومی ترانہ معيار کے مطابق نہ پڑھنے پر جيل جانا ہو گا

عاصم سلیم
1 ستمبر 2017

آبادی کے لحاظ سے دنيا کے سب سے بڑے ملک چين ميں منظور ہونے والے ايک نئے قانون کے مطابق اگر کوئی شہری قومی ترانے کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ معيار کے مطابق نہيں پڑھتا، تو اسے جيل بھيجا جا سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/2jCKR
China Frauen in Trachten in der Sichuan Provinz
تصویر: Reuters/N. Thomas

بيجنگ حکومت نے اس قانون کو آج يکم ستمبر بروز جمعہ منظور کيا ہے۔ چين کی سرکاری نيوز ايجنسی شنہوا کے مطابق اس قانون کا مقصد يہ ہے کہ قومی ترانے اور اس کی دھن کو درست طور پر استعمال کيا جائے۔ قانون پر عملدرآمد يکم اکتوبر سے شروع ہو گا۔

قبل ازيں اسی ہفتے چينی حکومت نے اعلان کيا تھا کہ جو لوگ قومی ترانے کے الفاظ ميں دانستہ طور پر اور بد نيتی سے ترميم کريں گے، انہيں پندرہ ايام تک کے ليے جيل بھيجا جا سکتا ہے۔ اگرچہ چند ممالک ميں فنی سطح پر قومی ترانے ميں ترميم کی گنجائش ہے تاہم چين اس سلسلے ميں سخت موقف رکھتا ہے۔

اس نئے قانون کی منظوری سے ہانگ کانگ ميں تشويش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سابق برطانوی کالونی ميں ’پيروڈی‘ کے ذريعے اظہار رائے اور مخالفت عام ہے۔ يہ بھی اہم بات ہے کہ ہانگ کانگ ميں چين کے مقابلے ميں آزادی اظہار رائے کا معيار بہتر ہے۔ تاہم ہانگ کانگ چونکہ بيجنگ کے زير انتظام ہے، وہاں بھی يہ قانون کسی نہ کسی صورت متعارف کرايا جائے گا۔

نئے قانون کے مطابق کسی کی آخری رسومات، کاروباری اشتہاری تقريبات، عوامی مقامات پر پس منظر ميں چلنے والے ميوزک اور ديگر ’غير مناسب‘ سمجھی جانے والی تقريبات پر قومی ترانہ بجانا يا گانا اب ممنوع قرار دے ديا گيا ہے۔ اب ترانہ سياسی اجتماعات، کھيلوں کی تقريبات اور ديگر ’درست‘ قرار ديے جانے والے ايونٹس پر ہی سنا جا سکے گا۔