1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لیبیا: قذافی کے دستوں اور باغیوں میں شدید لڑائی جاری

28 فروری 2011

دارالحکومت طرابلس سے محض تقریباً 50 کلومیٹر مغرب کی جانب واقع شہر زاویہ بھی باغیوں کے قبضے میں آ چکا ہے تاہم باغیوں کا کہنا ہے کہ قذافی کے وفادار تقریباً 2 ہزار فوجی اِس شہر کو گھیرے میں لے چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/10QaJ
شہر بن غازی کا ایک منظرتصویر: AP

باغیوں کے مطابق معمر قذافی کے وفادار دستے پیر 28 فروری کو کسی بھی وقت زاویہ پر حملے کا آغاز کرنے والے ہیں لیکن یہ کہ باغی بھی اِس حملے کا جواب دینے کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے ساتھ مل جانے والے ایک سرکردہ پولیس افسر نے کہا:’’جب ہم آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں تو ہم اپنی جان بھی دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

بنیادی طور پر لیبیا کے شہر زاویہ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر یوسف مصعب نے طرابلس سے بتایا:’’ہمیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے لیکن قذافی کے وفادار فوجیوں نے زاویہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور ہمارے ڈاکٹروں کو شہر کے اندر نہیں جانے دے رہے۔‘‘

اُدھر مشرقی لیبیا میں، جہاں باغی پہلے ہی شہر بن غازی کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں، ایک فوجی جرنیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اُس کے مسلح ساتھی ملک کے مغرب میں قذافی کے خلاف برسرِ پیکار باغیوں کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ باغی اِسی طرح بتدریج آگے بڑھتے ہوئے بالآخر دارالحکومت طرابلس کو بھی اپنے کنٹرول میں لے آئیں گے۔

Sanktionen gegen Libyen Demonstrationen No FLASH
لیبیا اور مصر کی سرحد کے قریب لیبیا کا ایک شہری قذافی کی تصویر کو گن دکھا رہا ہےتصویر: picture alliance/dpa

دریں اثناء قذافی کی اپنے چار عشروں سے زیادہ عرصے سے چلے آ رہے اقتدار پر گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ ملک کے زیادہ سے زیادہ حصوں پر قذافی کا کنٹرول ختم ہوتا جا رہا ہے تاہم وہ اقتدار چھوڑنے سے بدستور انکار کر رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق قذافی اپنے ہی عوام کے خلاف بدستور بے رحمانہ کارروائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور سفارت کاروں کے اندازوں کے مطابق اب تک تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے امریکی نشریاتی ادارے ABC سے نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں اتوار کو اِن خبروں کی تردید کی کہ مظاہرین کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی ہے:’’ہم نے طاقت استعمال نہیں کی۔ لوگ بدستور ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم طرابلس میں ہیں، جو لیبیا کی نصف آبادی یعنی ڈہائی ملین انسانوں کا مسکن ہے۔ کیا میرے والد کے خلاف صرف پانچ یا دَس ہزار افراد کے مطالبات کو دیکھ کر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ لیبیا کی پوری آبادی ہی قذافی کے خلاف ہو گئی ہے؟‘‘

لیبیا کے حالات پر بین الاقوامی رد عمل

اِدھر ہفتے کو عالمی سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کے بعد آج برسلز میں یورپی یونین نے بھی لیبیا کے حکمران معمر قذافی کی حکومت کے خلاف پابندیوں کے ایک پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس میں اسلحے کی فروخت اور یونین کے رکن ملکوں میں سفر کی پابندی کے ساتھ ساتھ اثاثے منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

مغربی دُنیا کے رہنما اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں طور پر قذافی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فراٹینی نے کہا:’’میرے خیال میں ہم اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا۔‘‘ فراٹینی کے مطابق اب یہ بات ’ناگزیر‘ ہے کہ قذافی اقتدار چھوڑ دیں۔

برطانیہ نے قذافی کوحاصل سفارتی مامونیت منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ قذافی اور اُن کے اہلِ خانہ کے اثاثے منجمد کیے جا رہے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا:’’کرنل قذافی کے لیے جانے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے مطابق اُنہوں نے گزشتہ جمعے کو قذافی کے ساتھ فون پر بات کی تھی اور اُنہیں حکومت چھوڑ دینے کے لیے کہا تھا۔ یہ بلیئر ہی تھے، جو قذافی کی طرف سے بڑے پیمانے پر ہلاکت خیز ہتھیاروں سے دستبرداری کے اعلان کے بعد اُن کی بین الاقوامی تنہائی ختم کرتے ہوئے اُنہیں عالمی منظر نامے پر واپس لے کر آئے تھے۔ اتوار کو برطانیہ کے تین فوجی طیارے لیبیا سے 150 شہریوں کو واپس لے کر آئے۔ ہفتہ 26 فروری کو بھی برطانیہ کی جانب سے ایسی ہی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔

فرانس نے دو طیارے مشرقی لیبیا روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اپنے ساتھ ڈاکٹر، نرسیں اور ادویات لے کر جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز لیبیا کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ لیبیا کے حالات کے باعث تیل کی عالمی منڈی میں کسی قسم کی قلت پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم لیبیا کے حالات کی وجہ سے تیل کی منڈی میں بے چینی کی کیفیت بہرحال نظر آ رہی ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی ممکنہ کمی کو دور کرنے کے لیے اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے۔

NO FLASH Libyen Tripolis Gaddafi Aufstand
طرابلس میں حکومت مخالف مظاہرین پر قذافی کے وفاداروں کی فائرنگ کے بعد شہریوں نے مختلف چیزیں پھینک کر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیںتصویر: AP

لیبیا پر مغربی دُنیا کے ردعمل کے حوالے سے آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جہاں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اقوام متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل سے خطاب کرنے والی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کلنٹن جنیوا میں اپنے یورپی ساتھی ممالک کے ساتھ لیبیا کے مستقبل کے بارے میں کسی سیاسی منصوبے اور قذافی حکومت کے خلاف زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنے کے موضوع پر بھی تبادلہء خیال کریں گی۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں میں عبوری حکومت کا قیام

باغی لیبیا کے مشرقی علاقوں کو پوری طرح سے اپنے کنٹرول میں لا چکے ہیں۔ لیبیا کے سابق وزیر انصاف مصطفیٰ عبدالجلیل ان باغیوں کے ساتھ مل چکے ہیں اور اُنہوں نے ہفتہ 26 فروری کو ایک عبوری حکومت کے قیام کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ دریں اثناء باغیوں کی ایک بڑی تعداد اِس عبوری حکومت کو تسلیم کر چکی ہے۔

اتوار کو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ امریکہ لیبیا کے مشرقی حصے میں خود کو منظم کرنے والی قوتوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم عبوری حکومت کے سربراہ عبدالجلیل نے الجزیرہ ٹیلی وژن کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اُنہیں امریکہ کی جانب سے فوجی یا کسی اور طرح کی امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عبدالجلیل نے کہا:’’ہم نہیں چاہتے کہ یہاں غیر ملکی فوجی آئیں۔‘‘

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں