1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مصر میں مبارک دور کے خاتمے کے لیے ’یوم رخصت‘

4 فروری 2011

مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف مسلسل عوامی مظاہروں کے گیارھویں دن قاہرہ کے التحریر چوک میں تا حال ہزار ہا شہری جمع ہیں، جو تین عشروں سے حکمران مبارک کو اقتدار چھوڑنے پر مجبورکرنے کے لیے آج جمعہ کو ’یوم رخصت‘ منا رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/10B1R
التحریر چوک میں ’یوم رخصت‘ کے موقع پر احتجاجی اجتماع کا ایک منظرتصویر: AP

حسنی مبارک کے مخالف اپوزیشن مظاہرین نے انہیں اقتدار سے رخصتی کے لیے آج جمعہ تک کا وقت دے رکھا تھا۔ اسی لیے اس ’یوم رخصت‘ کے نقطہ عروج پر قاہرہ کے التحریر چوک میں دن کے آغاز ہی سے مظاہرین بہت بڑی تعداد میں جمع ہیں، جنہوں نے آج جمعہ کی نماز بھی وہیں پڑھی۔

صدر مبارک اب تک یہ کہتے ہیں کہ وہ صدارت سے مستعفی ہو تو سکتے ہیں مگر فوری طور پر ان کے ایسا کرنے سے ملک مزید انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ مصر میں ان مظاہروں کے دوران اب تک سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے صرف گزشتہ دو روز کے دوران ہلاک شدگان کی تعداد آٹھ اور زخمیوں کی تعداد 800 سے زیادہ رہی۔

مبارک انتظامیہ کی طرف سے نائب صدر عمر سلیمان اپوزیشن کے سب سے بڑے گروپ اخوان المسلمین کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، جو اس گروپ نے مسترد کر دی ہے۔ اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اس کا مطالبہ صدر مبارک کا استعفیٰ ہے، اور جیسے ہی یہ واحد مطالبہ پورا ہوا، مذاکرات شروع کر دیے جائیں گے۔

Flash-Galerie Ägypten Demonstration in Kairo Frau mit Kindern
التحریر چوک میں جمعہ کے روز احتجاج کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ آنے والی ایک اپوزیشن خاتون کارکنتصویر: AP

التحریر چوک میں آج جمعہ کی نماز سے پہلے اور بعد میں بھی مظاہرین مسلسل یہ نعرے لگاتے رہے کہ مبارک انتظامیہ کو ہر حال میں ختم ہونا ہو گا، قاتلوں پر مقدمے چلائے جائیں اور مصری فوج اور عوام متحد ہیں۔

دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر بہت سے رہنما حسنی مبارک کی طرف سے عوامی مطالبات تسلیم کیے جانے سے متعلق جو بیانات دے رہے ہیں، ان پر اپنے رد عمل میں مصر میں حکمران جماعت این ڈی پی کے سیکریٹری جنرل ابراہیم کمال نے آج مغربی میڈیا پر بھی بہت کھل کر تنقید کی۔

ایک یورپی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ابراہیم کمال نے کہا، ’’مجھے افسوس ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ مصر کے خلاف ایک گندی مہم چلا رہے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ جب حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے، تو آپ مصری عوام سے معافی مانگیں گے، کیونکہ جو کچھ التحریر چوک میں ہو رہا ہے، مصری شہریوں کی اکثریت اسے مسترد کرتی ہے۔ شکر ہے کہ صدر مبارک عوام کی اکثریت کو سڑکوں پر نکلنے سے روکے ہوئے ہیں۔‘‘

Genaralsekretär der Arabischen Liga Amr Mussa
قاہرہ میں جمع ہزار ہا اپوزیشن کارکنوں کو پر امن رہنے کی تلقین: امر موسیٰ بھی التحریر چوک پہنچ گئے تھےتصویر: AP

اسی دوران مصری اپوزیشن کے نوبل امن انعام یافتہ رہنما محمد البرادعی نے آج قاہرہ میں ایک بار پھر کہا کہ حسنی مبارک کو عزت اور وقار کے ساتھ مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ مصر ہی سے تعلق رکھنے والے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ بھی آج اس لیے قاہرہ کے التحریر چوک میں پہنچ گئے کہ وہاں جمع مظاہرین کو مشتعل ہونے اور یوں مزید خونریزی سے روک سکیں۔

برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جرمن حکومت نے مصر میں اسی داخلی بدامنی کے باعث قاہرہ کو جرمن ہتھیاروں کی برآمدات روک دی ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق تنظیم کی خاتون سربراہ ناوی پیلائی نے جنیوا میں کہا کہ مصری باشندے قومی تبدیلی کے اسی تجربے سے گزریں گے جیسا پچھلے مہینے تیونس میں بھی عوامی احتجاج کے نتیجے میں دیکھنے میں آیا تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: افسر اعوان

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں