1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ملائیشیا کا 110 سالہ شخص پھر سے شادی کیلئے تیار

2 جنوری 2011

ملائیشیا کے 110 سالہ احمد محمد عیسیٰ نے، جسے ایک عدد بیوی کی تلاش تھی، کہا ہے کہ وہ ایک بار پھر شادی کے لئے تیار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک 82 سالہ خاتون اُس کے ساتھ شادی پر رضامند ہو گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/zsZn
ملائیشیا کا ایک بزرگ، فائل فوٹوتصویر: dpa

کوالالمپور سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمد محمد عیسیٰ کے بیس پوتے پوتیاں اور چالیس پڑپوتے پڑپوتیاں ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گزرے سال کے آخری دنوں میں اِس بزرگ شخص نے ملائیشیا کی مقامی زبان کے اخبار Utusan کو بتایا تھا کہ وہ کسی ساتھی اور ایک ایسی بیوی کا متمنی ہے، جو اُس کا خیال رکھ سکے۔

اب نئے سال میں شائع ہونے والی اِس رپورٹ کے مطابق اخبار کی یہ خبر ایک 82 سالہ خاتون ثنا احمد کی نظر سے گزری، جو گزشتہ تیس برسوں سے بیوہ اور نو عدد بچوں کی ماں ہے۔ اِس بزرگ خاتون نے کہا ہے کہ وہ اِس مرد سے شادی کے لئے تیار ہے اور اُس نے اپنے بچوں سے کہا ہے کہ وہ احمد محمد عیسیٰ کے خاندان کے ساتھ رابطہ کر کے تمام ضروری انتظامات کریں۔

اتوار کے اخبار میں احمد محمد عیسیٰ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اِس خاتون کی طرف سے شادی پر رضامندی کا سن کر وہ بہت خوش ہے اور اُسے حیرت بھی ہوئی ہے اور یہ کہ اب اُس کی بیٹی ثنا احمد کے خاندان کے ساتھ مل کر سارے معاملات طے کرے گی۔ عیسیٰ کے مطابق ’اگر وہ میرے لئے کھانا پکا سکتی ہے تو پھر اِس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ کون ہے‘۔

احمد محمد عیسیٰ اب تک پانچ شادیاں کر چکا ہے۔ اُس کی چار بیویاں وفات پا چکی ہیں جبکہ پانچویں کو اُس نے طلاق دے دی تھی۔ اُس کی قوتِ سماعت اور بینائی تھوڑی سی کمزور ہے۔ اپنے ایک گزشتہ انٹرویو میں اُس نے کہا تھا کہ ’اکیلے رہنے سے تنہائی کا بہت زیادہ احساس ہوتا ہے اور مجھے اکیلے سونے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ اگر میری کوئی بیوی ہو گی، تو وہ میرا خیال رکھ سکے گی‘۔

اُدھر اُس کی ہونے والی بیوی ثنا احمد نے اخبار کو بتایا کہ اُس کے احمد محمد عیسیٰ کو پسند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف دیکھنے میں حیرت انگیز طور پر اُس کے مرحوم شوہر جیسا نظر آتا ہے بلکہ اُس کا نام بھی وہی ہے، جو کہ اُس کے مرحوم شوہر کا تھا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں