1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

میرکل غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان میں

18 دسمبر 2010

جرمن چانسلر انگیلا میرکل غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچ گئی ہیں۔ اس مرتبہ ان کے ہمراہ وزیر دفاع کارل تھیو ڈور سو گٹن بیرگ اور چیف آف آرمی سٹاف فولکر وِیکر بھی موجود ہیں۔

https://p.dw.com/p/QfHD
جرمن وزیر دفاع اور چانسلرتصویر: dpa

ہفتے کو چانسلر میرکل نے شمالی افغانستان میں موجود جرمن فوجی اڈے میں اپنے فوجیوں سے ملاقات کی۔ جرمن چانسلر نے اس دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے جرمن فوجیوں کوخراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے قندوز جرمن بیس میں تعینات جرمن فوجیوں سے ملاقات میں ان کی غیر معمولی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اہم مقصد کے حصول میں مصروف عمل ہیں۔

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق ہفتے کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اُن فوجیوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نےگزشتہ ماہ ہی جنوبی افغانستان کے علاقے چار درہ میں ہوئی ایک چار روزہ عسکری کارروائی میں طالبان باغیوں کو پسپا کر دیا تھا۔ جرمن چانسلر نے کہا،’ میرے یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ میں آپ کا شکریہ ادا کر سکوں۔‘ میرکل نے جرمن فوجوں سے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ افغان عسکری مشن دراصل جرمنی کی سلامتی کے لئے بھی بہت اہم ہے۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel besucht Afghanistan NO FLASH
جرمن چانسلر قندوز کے فوجی اڈے میں فوجیوں کے ساتھ ملاقات کے موقع پرتصویر: dapd

جرمن چانسلرانگیلا میرکل نے اس سے قبل 2007ء اور2009ء میں بھی افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ اپنے اس تازہ دورے میں جب میرکل قندوز پہنچیں تو ہمسایہ صوبے بغلان میں طالبان اورافغان سکیورٹی دستوں کے مابین جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے قندوز آمد تک ان کے اس دورے کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

جرمن چانسلر کے افغانستان پہنچنے سے کچھ دیر قبل ایک اکیس سالہ جرمن فوجی ہلاک ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کا ہنگامی طور پر آپریشن کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر ثابت نہ ہوا۔ ہلاک ہونے والے اس نوجوان جرمن فوجی کی ہلاکت کے بارے میں متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ کچھ خبروں کے مطابق وہ بغلان فوجی آپریشن کے دوران زخمی ہوا تھا جبکہ جرمن حکام نے ایسی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

افغانستان کی نوسالہ جنگ کے دوران اب تک 45 جرمن فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے آٹھ اسی سال ہلاک ہوئے۔ جرمن عوام میں افغان مشن کے خلاف سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔ اس وقت قریب 4700 جرمن فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔ حالیہ عرصے میں کروائے گئےعوامی جائزوں کے مطابق جرمن عوام کی اکثریت افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کے خلاف ہے۔ جرمن حکام کا ارادہ ہے کہ 2014ء تک سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں افغان حکام کو منتقل کر دی جائیں گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید