1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نریندر مودی برِکس تنظیم کو توانا کرنے کی کوششوں میں

عابد حسین
13 اکتوبر 2016

ابھرتی ہوئی اقتصادیات کے حامل پانچ ملکوں کی تنظیم برِکس کی آٹھویں سمٹ بھارتی کی میزبانی میں ہو رہی ہے۔ یہ دو روزہ سربراہ اجلاس بھارت کے ساحلی مقام گوا میں پندرہ اور سولہ اکتوبر کو ہو گا۔

https://p.dw.com/p/2RBWu
CMS-TEST Vladimir Putin, Narendra Modi
برکس کی سابقہ سمٹ کے موقع پر مودی اور پوٹنتصویر: AP

برکس تنظیم میں روس، جنوبی افریقہ، چین، برازیل اور بھارت شامل ہیں۔ اس تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوشش میں ہیں کہ اقتصادی مشکلات کا سامنے کرنے والے رکن ملکوں کے درمیان تعاون و رابطے بڑھا کر ایک نئی روح پھونکی جا سکے۔ سن 2011 میں قائم ہونے والا یہ گروپ ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی سیون کے طرز پر اپنی سالانہ سمٹ کا انعقاد بھی کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان پانچ ملکوں میں دنیا کی ترپن فیصد آبادی بستی ہے اور عالمی سطح پر قیمتوں کے گرنے اور طلب کی کمی سے یہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے اہلکار اَمر سِنہا کا کہنا ہے کہ برِکس سمٹ میں لیڈران عالمی شرح پیداوار میں رکن ملکوں کے کردار پر خاص طور پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ سِنہا کے مطابق سمٹ کے ایجنڈے میں علاقائی سکیورٹی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے موضوعات بھی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اِس سمٹ کے دوران کئی دیگر عالمی امور پر بھی گفتگو کا امکان ہے۔

اسی تناظر میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وہ سمٹ میں بین الاقوامی دہشت گردی اور شام میں امن کے موضوع  پر گفتگو کریں گے۔ شام کے شہر حلب پر روسی جنگی طیاروں کی شدید بمباری کے تناظر میں ماسکو حکومت کو بین الاقوامی برادری کی برہمی کا سامنا ہے۔ دو روز قبل پوٹن نے فرانسیسی صدر کے بیانات کی روشنی میں اپنا فرانس کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

Symbolbild Neue BRICS-Bank eröffnet
روس نے ساتویں سمٹ کے موقع پر روبل کا خصوصی سکہ جاری کیا تھاتصویر: picture-alliance/dpa/BRICS/SCO Photohost/K. Kallinikov

کانفرنس کے حاشیے میں بھی برِکس کے لیڈران کے درمیان نجی ملاقاتیں بھی ممکن ہیں۔ گوا میں ہونے والی اِس میٹنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم مودی کی ملاقات کا قوی امکان ہے۔ اسی طرح مودی اور پوٹن بھی روبرو مل سکتے ہیں۔ کانفرنس میں برازیل کے نئے صدر مشیل تیمر اپنی ملک کی معیشت کو سنبھالنے کے لیے رکن ملکوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی فکر میں بھی ہیں۔

کورنل یورنیورسٹی کے اقتصادیات کے پروفیسر ایشور پرشاد کا کہنا ہے کہ برِکس کا مستقبل تابناک دکھائی نہیں دیتا کیونکہ یہ تنظیم اپنے رکن ملکوں کے معاشی بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق برِکس کے رکن ملکوں میں برازیل اور روس اقتصادی مشکلات کی وجہ سے کسادبازاری کا شکار ہو چکے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی معیشت اقتصادی ناہمواریوں کی وجہ سے سست روی کا شکار ہو رہی ہے۔چینی اقتصادیات کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔