1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’نواز شریف پارلیمنٹ آ کر الزامات کا جواب دیں گے‘

شمشیر حیدر10 مئی 2016

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف پاناما پیپرز کے حوالے سے خود پر اور اپنے اہل خانہ پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کا جواب دینے کے لیے جمعے کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

https://p.dw.com/p/1IlFc
Islamabad Pakistan neugewählter Präsident Sharif 05.06.2013
تصویر: picture-alliance/dpa

پاناما پیپرز میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے اہل خانہ کا نام آنے کے بعد سے شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے دونوں ایوانوں سے واک آؤٹ کر رکھا تھا۔

پاناما کی لاء فرم موزیک فونسیکا کی جمع کردہ خفیہ معلومات پر مشتمل پاناما پیپرز کے مطابق نواز شریف کے دونوں بیٹوں، حسن اور حسین نواز کے علاوہ ان کی بیٹی مریم نواز بیرون ملک تین آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ نواز شریف نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کو تحقیقاتی کمیشن بنانے کے لیے خط لکھنے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم اپوزیشن کی جماعتوں نے خط کے ٹی او آرز کو مسترد کر دیا تھا۔

حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی نے ایوان زیریں اور ایوان بالا کے اجلاسوں سے پیر اور منگل کے روز واک آؤٹ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ نواز شریف ایوان میں پیش ہو کر اراکین کے سوالوں کے جوابات دیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اراکین اسمبلی کو بتایا، ’’وزیر اعظم جمعے کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور تمام الزامات کا جواب دیں گے۔‘‘ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف اپنے دورہ تاجکستان کی وجہ سے اسمبلی کے اجلاس میں اس سے پہلے شریک نہیں ہو سکتے تھے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ نے وزیر اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعے کے روز شامل ہونے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک نواز شریف پارلیمنٹ میں نہیں آتے، حزب اختلاف دونوں ایوانوں کا بائیکاٹ جاری رکھے گی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے نواز شریف کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ پاناما لیکس میں نواز شریف کے خاندان کا نام سامنے آنے کے بعد عمران خان مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی مبینہ بدعنوانی کے بارے میں شفاف تحقیات ہو سکیں۔

’وزیر اعظم عوامی ہوتے تو عوام کے کہنے پر مستعفی ہو جاتے‘

راحیل شریف نے جو کہا، وہ کر دکھایا

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید