نوبل انعام برائے ادب جاپانی نژاد برطانوی ناول نگار کے نام

رواں برس کا نوبل انعام برائے ادب جاپانی نژاد برطانوی ناول نگار کازواو اِشیگورو کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اشیگورو کے سب سے معروف ناول ’’دا ریمینز آف دا ڈے‘‘ اور ’’نیور لیٹ می گو‘‘ ہیں۔

نوبل انعام برائے ادب کا اعلان کرتے ہوئے جاپانی نژاد برطانوی ناول نگار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے کہا گیا ہے، ’’ناول نگار کازواو  اِشیگورو کے ناول زبردست جذباتی قوت کے حامل ہیں اور انسان اور دنیا کے درمیان تعلق کی گہرائیوں سے پردے چاک کر دیتے ہیں۔‘‘

بوب ڈلن نوبل انعام وصول کرنے کو تیار ہو گئے

ادب کا نوبل انعام، امریکی گیت نگار بوب ڈلن کے نام

ہنگری کے نوبل انعام یافتہ ادیب امرے کیرٹیش انتقال کر گئے

Nobelpreis für Literatur 2017 Kazuo Ishiguro aus Japan

نوبل انعام برائے ادب کے لیے اس بار جاپانی مصنف ہاروکی موراکامی اور کینیا کے نگوگی وا تھیونگو کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔ موراکامی حقیق اور مجازی دنیاؤں کو ملانے والے زبردست کہانی کار ہے، جب کہ نگوگی وا تھیونگو کو ان کے سیاسی نوعیت کے ادبی کام کی بنا پر اس انعام کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ واتھیونگو کو اسی صورت حال میں کینیا سے امریکا ہجرت کرنا پڑی تھی۔

جمعرات کے روز  اس انعام کے ساتھ گیارہ لاکھ ڈالر کی رقم بھی کازواو  اِشیگورو کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

سیاست

امریکی گیت نگار بوب ڈلن

امریکی گیت نگار اور ادیب بوب ڈلن کو رواں برس کے نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی گیت نگار کو ادب کا یہ اعلیٰ ترین انعام دیا گیا ہے۔ وہ بیک وقت شاعر، اداکار اور مصنف ہونے کے علاوہ ساز نواز بھی ہیں۔ انہوں نے کئی فلموں میں اداکاری کے جوہری بھی دکھائے ہیں۔

سیاست

2015: سویٹلانا الیکسیوچ

نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے بیلا روس کی مصنفہ سویٹلانا الیکسیوچ کو ادب نگاری کے ایک نئے عہد کا سرخیل قرار دیا۔ کمیٹی کے مطابق الیکسیوچ نے اپنے مضامین اور رپورٹوں کے لیے ایک نیا اسلوب متعارف کرایا اورانہوں نے مختلف انٹرویوز اور رپورٹوں کو روزمرہ کی جذباتیت سے نوازا ہے۔

سیاست

2014: پیٹرک موڈیانو

جنگ، محبت، روزگار اور موت جیسے موضوعات کو فرانسیسی ادیب پیٹرک موڈیانو نے اپنے تحریروں میں سمویا ہے۔ نوبل کمیٹی کے مطابق انہوں نے اپنے ناآسودہ بچین کی جنگ سے عبارت یادوں کی تسلی و تشفی کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا اور یادوں کو الفاظ کا روپ دینے کا یہ منفرد انداز ہے۔

سیاست

2013: ایلس مُنرو

تین برس قبل کینیڈا کی ادیبہ ایلس مُنرو کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے اُن کو عصری ادب کی ممتاز ترین ادیبہ قرار دیا۔ مُنرو سے قبل کے ادیبوں نے ادب کی معروف اصناف کو اپنی تحریروں کے لیے استعمال کیا تھا لیکن وہ منفرد ہیں۔

سیاست

2012: مو یان

چینی ادیب گوان موئے کا قلمی نام مو یان ہے۔ انہیں چینی زبان کا کافکا بھی قرار دیا جاتا ہے۔ نوبل انعام دینے والی کمیٹی کے مطابق مو یان نے اپنی تحریروں میں حقیقت کے قریب تر فریبِ خیال کو رومان پرور داستان کے انداز میں بیان کیا ہے۔ چینی ادیب کی کمیونسٹ حکومت سے قربت کی وجہ سے چینی آرٹسٹ ائی وی وی نے اِس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

سیاست

2011: ٹوماس ٹرانسٹرُومر

سویڈش شاعر ٹرانسٹرُومر کے لیے ادب کے نوبل انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ اُن کی شاعری کے مطالعے کے دوران الفاظ میں مخفی جگمگاتے مناظر بتدریج حقیقت نگاری کا عکس بن جاتے ہیں۔ ٹوماس گوسٹا ٹرانسٹرُومر کی شاعری ساٹھ سے زائد زبانوں میں ترجمہ کی جا چکی ہے۔

سیاست

2010: ماریو ورگاس یوسا

پیرو سے تعلق رکھنے والے ہسپانوی زبان کے ادیب ماریو ورگاس یوسا کو اقتدار کے ڈھانچے کی پرزور منظر کشی اور انفرادی سطح پر مزاحمت، بغاوت و شکست سے دوچار ہونے والے افراد کی شاندار کردار نگاری پر ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے لاطینی امریکا کے کئی حقیقی واقعات کو اپنے ناولوں میں سمویا ہے۔ میکسیکو کی آمریت پر مبنی اُن کی تخلیق کو بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔

سیاست

2009: ہیرتا مؤلر

نوبل انعام دینے والی کمیٹی کے مطابق ہیرتا مؤلر نے اپنی شاعری اور نثری فن پاروں میں بے گھر افراد کی جو کیفیت بیان کی ہے وہ ایسے افراد کے درد کا اظہار ہے۔ جیوری کے مطابق جرمن زبان میں لکھنے والی مصنفہ نے رومانیہ کے ڈکٹیٹر چاؤشیسکو کو زوردار انداز میں ہدفِ تنقید بنایا تھا۔ اُن کا ایک ناول Atemschaukel کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

سیاست

2008: ژان ماری گستاو لاکلیزیو

فرانسیسی نژاد ماریشسی مصنف اور پروفیسر لا کلیزیو چالیس سے زائد کتب کے خالق ہے۔ ان کی تخلیقات کے بارے میں انعام دینے والی کمیٹی نے بیان کیا کہ وہ اپنی تحریروں کو جذباتی انبساط اور شاعرانہ مہم جوئی سے سجانے کے ماہر ہیں۔ بحر ہند میں واقع جزیرے ماریشس کو وہ اپنا چھوٹا سا وطن قرار دیتے ہیں۔ اُن کی والدہ ماریشس اور والد فرانس سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیاست

2007: ڈورس لیسنگ

چورانوے برس کی عمر میں رحلت پا جانے والی برطانوی ادیبہ ڈورس لیسنگ نے بے شمار ناول، افسانے اور کہانیاں لکھی ہیں۔ سویڈش اکیڈمی کے مطابق خاتون کہانی کار کے انداز میں جذباتیت اور تخیلاتی قوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان کا شمار نسلی تعصب رکھنے والی جنوبی افریقی حکومت کے شدید مخالفین میں ہوتا تھا۔

سیاست

2006: اورہان پاموک

اورہان پاموک جدید ترکی کے صفِ اول کے مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ اُن کے لکھے ہوئے ناول تریسٹھ زبانوں میں ترجمہ ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو چکے ہیں۔ نوبل انعام دینے والی کمیٹی کے مطابق وہ اپنے آبائی شہر (استنبول) کی اداس روح کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو انتشار کی کیفیت میں کثیر الثقافتی بوجھ برادشت کیے ہوئے ہے۔ دنیا بھر میں وہ ترکی کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب تصور کیے جاتے ہیں۔

سیاست

2005: ہیرالڈ پِنٹر

برطانوی ڈرامہ نگار ہیرالڈ پِنٹر نوبل انعام ملنے کے تین برسوں بعد پھیھڑے کے کینسر کی وجہ سے فوت ہوئے۔ نوبل انعام دینے والی کمیٹی کے مطابق وہ ایک صاحب طرز ڈرامہ نگار تھے۔ ان کے کردار جدید عہد میں پائے جانے والے جبر کا استعارہ تھے اور وہ بطور مصنف اپنے اُن کرداروں کو ماحول کے جبر سے نجات دلانے کی کوشش میں مصروف رہے۔ وہ بیک وقت اداکار، مصنف اور شاعر بھی تھے۔

سیاست

2004: الفریڈے ژیلینک

آسٹرین ناول نگار الفریڈے ژیلینک کو نوبل انعام دینے کی وجہ اُن کے ناولوں اور ڈراموں میں پائی جانے والی فطری نغمگی ہے جو روایت سے ہٹ کر ہے۔ ژیلینک کے نثرپاروں میں خواتین کی جنسی رویے کی اٹھان خاص طور پر غیرمعمولی ہے۔ اُن کے ناول ’کلاویئر اشپیلرن‘ یا پیانو بجانے والی عورت کو انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس نوبل پر فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔

سیاست

2003: جان میکسویل کُوٹزی

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ناول نگار، انشا پرداز اور ماہرِ لسانیات جان میکسویل کُوٹزی کے نثرپاروں میں انتہائی وسیع منظر نگاری اور خیال افرینی ہے۔ کوئٹزے نوبل انعام حاصل کرنے سے قبل دو مرتبہ معتبر مان بکرز پرائز سے بھی نوازے جا چکے تھے۔ ان کا مشہر ناول ’شیم‘ نسلی تعصب کی پالیسی کے بعد کے حالات و واقعات پر مبنی ہے۔

سیاست

2002: اِمرے کارتیس

ہنگری کے یہودی النسل ادیب اصمرے کارتیس نازی دور کے اذیتی مرکز آؤشوٍٹس سے زندہ بچ جانے والوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اِس اذیتی مرکز پر منڈھلاتی موت کے سائے میں زندگی کے انتہائی کمزور لمحوں میں جو تجربہ حاصل کیا تھا، اسے عام پڑھنے والے کے لیے پیش کیا ہے۔ ان کا اس تناظر میں تحریری کام تیرہ برسوں پر محیط ہے۔

سیاست

2001: شری ودیا دھر سورج پرشاد نائپال

کیریبیئن ملک ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو سے تعلق رکھنے والے شری ودیا دھر سورج پرشاد نائپال ایک صاحب طرز ادیب ہیں۔ انہوں نے مشکل مضامین کو بیان کرنے میں جس حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اُن کا خاصا ہے۔ اُن کے موضوعات میں سماج کے اندر دم توڑتی انفرادی آزادی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

سن 2015 میں نوبل انعام بیلاروس کی نان فکشن لکھاری سویتلانا الیگزویچ کو دیا گیا تھا، جب کہ گزشتہ برس یہ انعام امریکی گیت نگار باب ڈائلن کو دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ بحث بھی شروع ہو گئی تھی کہ کیا معروف گیت لکھنے والوں کو ادب کے نوبل انعام دینے کا فیصلہ درست تھا یا نہیں۔

نوبل برائے ادب وہ چوتھا نوبل انعام ہے، جس کا اعلان رواں ہفتے کیا گیا ہے۔ پیر کے روز نوبل انعام برائے طب کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ انعام اس بار حیاتیاتی گھڑی (بائیولوجیکل کلاک) کے افعال اور اثرات پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے نام رہا۔ منگل کے روز نوبل انعام برائے طبیعات سن 2015ء میں تجاذبی موجوں کے پہلے براہ راست مشاہدے پر دیا گیا، جب کہ گزشتہ روز نوبل انعام برائے کیمیا حیاتی سالموں کو قابل مشاہدہ بنانے والے تین سائنس دانوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔