حالات حاضرہ

يورپی يونين اور بھارت کی سمٹ، تجارت اہم ترين موضوع

يورپی يونين اور بھارتی رہنماؤں کا سربراہی اجلاس آج سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی ميں شروع ہو گيا ہے۔ اميد کی جا رہی ہے کہ قريقين کے مابين آزاد تجارت کے حوالے سے تعطل کے شکار مذاکرات بحال ہو سکيں گے۔

Kombo-Bild Indien EU Flagge

نئی دہلی کے حيدرآباد ہاؤس ميں جاری اس سمٹ ميں ميزبان ملک کے وفد کی سربراہی وزير اعظم نريندر مودی کر رہے ہيں جب کہ يورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک اور يورپی کميشن کے صدر ژاں کلود ينکر يورپی وفد کے سربراہ ہيں۔ اس سمٹ ميں کاروباری روابط اور تجارت پر بالخصوص توجہ مرکوز رہے گی۔ اسی بات کا تذکرہ ينکر نے بھارتی اخبار ’انڈين ايکسپريس‘ کے ليے اپنے اداريے ميں بھی کيا۔ انہوں نے اميد ظاہر کی کہ يورپی يونين اور بھارت کے درميان آزاد تجارت اور سرمايہ کاری کے حوالے سے مذاکرات جلد بحال ہو سکيں۔

نئی دہلی اور برسلز کے درميان تجارت اور سرمايہ کاری کے وسيع تر معاہدے پر بات چيت سن 2007 ميں شروع ہوئی تھی تاہم 2013ء سے يہ عمل تعطلی کا شکار ہے۔ اس ممکنہ ڈيل کے مقاصد بھارت اور يورپی يونين ميں بننے والی اشياء کے ليے ايک دوسرے کی منڈيوں تک بہتر رسائی اور ٹيکسوں میں کمی لانا بھی ہے۔ اس سلسلے ميں ايک اہم رکاوٹ يورپی يونين کا يہ مطالبہ بھی ہے کہ نئی دہلی حکومت يورپی گاڑيوں اور گاڑيوں کے پرزوں پر لاگو ٹيکس ختم کرے۔ علاوہ ازيں يورپی بلاک بھارت کو برآمد کی جانے والی وائن اور ديگر شرابوں پر بھی ٹيکس نہيں چاہتا۔ فريقين کے مابين ’انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس‘ یا حقوق دانش پر بھی اختلافات ہيں۔

اٹھائيس رکنی يورپی بلاک بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پچھلے سال باہمی تجارت کا مجموعی حجم اٹھاسی بلين ڈالر تھا۔ اس سمٹ ميں تجارت کے علاوہ سلامتی سے متعلق پاليسياں، جزيرہ نما کوريا کا تنازعہ، يوکرائنی تنازعہ اور افغانستان کی صورت حال پر بھی بات چيت متوقع ہے۔

Albanian Shqip

Amharic አማርኛ

Arabic العربية

Bengali বাংলা

Bosnian B/H/S

Bulgarian Български

Chinese (Simplified) 简

Chinese (Traditional) 繁

Croatian Hrvatski

Dari دری

English English

French Français

German Deutsch

Greek Ελληνικά

Hausa Hausa

Hindi हिन्दी

Indonesian Bahasa Indonesia

Kiswahili Kiswahili

Macedonian Македонски

Pashto پښتو

Persian فارسی

Polish Polski

Portuguese Português para África

Portuguese Português do Brasil

Romanian Română

Russian Русский

Serbian Српски/Srpski

Spanish Español

Turkish Türkçe

Ukrainian Українська

Urdu اردو