1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹوبیکو انڈسٹری کو قوانین کی پابندی کرنا ہو گی، سپریم کورٹ

افسر اعوان4 مئی 2016

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تمباکو کی صنعت کو صحت کے انتباہ سے متعلق تمام قوانین کی پابندی کرنا ہو گی۔ بھارت میں گزشتہ ماہ سگریٹ کے پیکٹوں پر صحت سے متعلق انتباہ کے حوالے سے نئے قوانین نافذ کیے گئے تھے۔

https://p.dw.com/p/1IhTf
تصویر: CC-BY-SA-3.0 LegalEagle

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں قائم سپریم کورٹ نے آج بدھ چار مئی کو ایک فیصلے میں کہا کہ سگریٹوں کے پیکٹوں پر صحت سے متعلق انتباہ کے بارے میں حکومت نے جو نئے قوانین بنائےہیں ٹوبیکو کمپنیوں کو ان پر عملدرآمد کرنا لازمی ہو گا۔ سپریم کورٹ نے ایک ریاستی ہائیکورٹ کو حکم دیا کہ وہ آئندہ اس بارے میں دائر کی جانے والی درخواستوں کو سنے۔

سپریم کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ کی طرف سے کہا گیا کہ ٹوبیکو انڈسٹری کو ’’آج کے دن جو قوانین موجود ہیں ان کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ بینچ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ تمباکو کی صنعت سے متعلق نئے ملکی قوانین کے خلاف دائر کی جانے والی تمام تر قانونی درخواستوں کی شنوائی آئندہ سے بھارتی ریاست کرناٹکا کی ہائی کورٹ کرے گی۔

گزشتہ ماہ بھارت میں کام کرنے والی ٹوبیکو کمپنیوں نے، جن میں بعض کو غیر ملکی ’بڑی ٹوبیکو کمپنیوں‘ کی پشت پناہی بھی حاصل ہے، نئے قوانین کے خلاف بطور احتجاج اپنی پروڈکشن روک دی تھی۔ ان قوانین کے مطابق یہ لازمی قرار دیا گیا تھا سگریٹ کے پیکٹ کے 85 فیصد حصے پر صحت سے متعلق انتباہ درج ہونے چاہییں۔ قبل ازیں اس کے لیے پیکٹ کا 20 فیصد حصہ مختص تھا۔

بھارت میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر سال 10 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
بھارت میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر سال 10 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔تصویر: AP

تمباکو سے متعلق یہ کمپنیاں حکومت کو یہ کہتے ہوئے عدالت لے گئی تھیں کہ یہ قوانین نا قابل عمل ہیں اور یہ کہ اس سے غیر ملکی سگریٹوں کی ملک میں اسمگلنگ بڑھے گی۔ تاہم حکومت ان سخت قوانین کے حق میں ہے جن کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی میں کمی واقع ہو گی۔

بی ایم جے گلوبل ہیلتھ کے مطابق بھارت میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر سال 10 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق تمباکو کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر بھارت کو 16 بلین امریکی ڈالرز کے برابر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔