1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹیلی مواصلات کرپشن اسکینڈل میں پانچ تاجروں پر مقدمہ

13 دسمبر 2011

بھارت کے وفاقی تفتیشی ادارے نے پانچ تاجروں کے خلاف اربوں ڈالر کے کرپشن اسکینڈل کے حوالے سے مقدمہ قائم کر دیا ہے۔ یہ اسکینڈل دو ہزار آٹھ میں فروخت کیے گئے ٹیلی مواصلات کے لائسنسوں سے متعلق ہے۔

https://p.dw.com/p/13RSh

خبر رساں ادارے ڈی پی کے مطابق سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان پانچ تاجروں کا تعلق ایسر گروپ اور لُوپ ٹیلی کوم پرائیوٹ لمیٹڈ سے ہے اور ان پر دھوکہ دہی اور سازش کے الزامات پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ٹوجی اسپیکٹرم کے حقوق دینے سے متعلق کُل چودہ افراد کو مقدمے کا سامنا ہے، جن میں سابق وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجا بھی شامل ہیں۔ بدعنوانی سے متعلق اسے بھارت کا سب سے بڑا مقدمہ قرار دیا جاتا ہے، جو دوہزار آٹھ میں ٹوجی موبائل فون لائسنسوں کی فروخت کے نتیجے میں سامنے آیا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی پروفٹ ٹیلی وژن کے مطابق سی بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ ایسر نے لُوپ کے ذریعے دوہزار آٹھ میں قانونی طور پر جائز تعداد سے زائد لائسنس حاصل کیے تھے۔

اُدھر ایسر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے خلاف کوئی الزامات سامنے نہیں آئے۔ اس کمپنی نے ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

اے راجا پر دوہزار آٹھ میں ضوابط پورے کیے گئے بغیر اسپیکٹرم لائسنسز کی اونے پونے داموں فروخت کا الزام ہے، جس سے ٹیکس دہندگان کو تقریباﹰ انتالیس ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

Ehemaliger Telekommunikationsminister Indiens Andimuthu Raja
سابق وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجاتصویر: picture-alliance/dpa

اس مقدمے میں الزامات کا سامنا کرنے والوں میں ایک رکن پارلیمنٹ، وزارت ٹیلی مواصلات کے عہدے دار اور مختلف ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کے پانچ ایگزیکٹو اہلکار شامل ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لائسنسوں کی فروخت سے فائدہ اٹھایا۔

بھارت میں حکمران جماعت کو اس ٹیلی کوم اسکینڈل نے پریشان کیے رکھا ہے۔ اس کی وجہ اپوزیشن پارٹیوں کا دباؤ رہا ہے، جو دہلی حکومت سے اس اسکینڈل کے حوالے سے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ اس اسکینڈل کو ملک کے سیاسی حلقوں کی مزید بدنامی کا باعث بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

ایسر گروپ ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے، جو اسٹیل، توانائی، شپنگ اور مواصلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ لُوپ ٹیلی کوم وائرلیس ٹیلی کمیونیکیشنز سروسز کی فراہمی کا بزنس چلاتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں