1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستانی پہاڑوں میں سرگرم ماحول دوست کارکن عائشہ خان

بینش جاوید16 فروری 2016

1997ء میں پہلی بار سکردو جانے والی عائشہ خان گزشتہ 18 سال سے پاکستان کے برف پوش پہاڑوں اور سر سبز وادیوں میں قدرتی ماحول کے تحفظ اور وہاں کے جفاکش انسانوں کی زندگیاں آسان بنانے کے لیے بے پناہ خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔

https://p.dw.com/p/1Hw8e
Local heroes Urdu
تصویر: DW

پہاڑوں پر ہائیکنگ کی شوقین عائشہ خان تقریباً دو عشرے پہلے ایک بیگ پیک کے ساتھ ایک مقامی بس پر سوار ہو کر سکردو کے سفر پر روانہ ہوئی تھیں۔ سکردو کے دلفریب مناظر اور پر کشش سر سبز پہاڑوں نے عائشہ کو اس جگہ کا اسیر بنا لیا۔ اپنے قیام کے دوران عائشہ نے مقامی پورٹرز کے ساتھ تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دیوسائی پلیٹو پر بھی گئیں، جو کہ تبتان پلیٹو کے بعد دنیا کا بلند ترین پلیٹو ہے۔ اس کے بعد عائشہ نانگا پربت کے دیا میر، روپل اور فیری میڈوز بیس کیمپوں پر بھی گئیں۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عائشہ نے بتایا کہ وہ اس علاقے کی خوبصورتی سے بے حد متاثر ہوئیں اوراگلے سال ان کی منزل کے ٹو بیس کیمپ بن گیا۔

عائشہ خان بتاتی ہیں کہ 15000 فٹ کی بلندی پر جب انہوں نے کے ٹو بیس کیمپ سے دنیا کے خطرناک ترین اوردوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو دیکھا تو ان پر اُس کی ہیبت سی طاری ہو گئی اور انہیں قدرت کی طاقت کا احساس ہوا۔ کے ٹو بیس کیمپ سے واپسی پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ دن یہاں کے مقامی افراد کے ساتھ گزاریں گی اور دیکھیں گی کہ وہ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں۔

Pakistan Aisha Khan MGPO
عائشہ خان مقامی افراد کی مشاورت کے ساتھ کام کرتی ہیںتصویر: MGPO

یہ موقع اُنہیں کے ٹو بیس کیمپ سے اترائی کے بعد نیچے واقع ایک چھوٹے سے گاؤں اسکولے میں میسر آیا، جہاں انہوں نے کچھ دن مقامی آبادی کے ساتھ گزارے۔ اس دوران انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کوہ پیماؤں کے دو سو سے لے کر تین سو تک مختلف گروپ اس علاقے میں آ کرکیمپنگ کرتے ہیں، اپنا کچرا یہیں پھینک دیتے ہیں اور انسانی فضلے کی بدبو خوبصورت ماحول میں آلودگی پیدا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔

وہ بتاتی ہیں:’’ان لوگوں کے ساتھ رہ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ کتنے مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ مقامی پورٹرز کے ساتھ کتنی زیادتی ہوتی ہے۔ ان کی زندگیوں کا سارا دار و مدار قدرتی ماحول پر ہے اور یہی افراد ماحول کے پاسبان اور محافظ ہیں، ایک ایسے ماحول کے، جس کو ہزاروں سیاح اور کوہ پیما ہر سال خراب اور آلودہ کر دیتے ہیں۔‘‘

اسلام آباد واپس پہنچ کرعائشہ نے کئی وزارتوں کے ساتھ ملاقاتوں میں کوشش کی کہ اس علاقے کے لیے کام کیا جائے لیکن کسی نے اُن کی باتوں پر کان نہ دھرے۔ اُس طرف سے مایوس ہو کر انہوں نے ان لوگوں کے لیے کچھ کرنے کی غرض سے سن 2000ء میں اپنا ایک ادارہ قائم کیا:’’میں پھر اس علاقے میں چلی گئی اور تین مہنیے ان کے ساتھ رہی اور میں نے فیصلہ کیا کہ انہیں ’کیمپنگ سائٹس‘ بنا کر دیتی ہوں، جس سے نہ صرف انہیں معاشی فائدہ ہو گا بلکہ ماحول بھی کم متاثر ہو گا۔‘‘

Pakistan Aisha Khan MGPO
کیمپنگ سائٹتصویر: MGPO

یہ کیمپنگ سائٹس تین دیہات اسکولے، ٹیسٹے اور کورسے کی زمینوں پر بنائے گئے۔ وہاں عائشہ نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر چاروں طرف درخت لگائے، پینے اور نہانے کے لیے صاف پانی کا انتظام کیا اور کوہ پیماؤں کے لیے ٹائلٹس بھی بنائے۔ مقامی افراد کو ان کیمپنگ سائٹس سے ہر سیزن میں ڈھائی سے تین لاکھ روپے کی آمدنی ہونا شروع ہو گئی۔ عائشہ بتاتی ہیں کہ اس آمدنی کو دیکھ کر باقی دیہات کے لوگ بھی ان کے پاس آئے، ہر گاؤں کی الگ ضرورت تھی۔ کسی کے پاس سیلاب سے بچنے کے لیے دیوار نہیں تھی، کسی کے پاس صاف پانی نہیں تھا۔ عائشہ نے ایک مرتبہ پھر پیسے جمع کیے اور باری باری ان 14 دیہات کی ضروریات پوری کر دیں۔ پھر علاقے کے افراد کے ساتھ مل کر انہوں نے سنٹرل قراقرم نیشنل ہائی وے کے ان تمام دیہات کو ایک قدرتی پارک کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، جس سے مقامی آبادی کی آمدنی مزید بڑھ گئی۔

گلگت بلتستان کا 94 فیصد علاقہ پہاڑوں جبکہ دو فیصد دریاؤں اور پانی کے دیگر ذرائع پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کی صرف چار فیصد زمین کاشت کاری کے لیے موزوں ہے اور اس خطے کے لوگوں کا ذریعہٴ معاش کاشت کاری اور ان کے مال مویشیوں سے منسلک ہے۔ اس علاقے میں مویشیوں کے چرنے کی وجہ سے ’اوور گریزنگ‘ ہو رہی ہے، جس سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں درجہٴ حرارت منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے اور سردی میں ایندھن کے طور پر لکڑی حاصل کرنے کے لیے مقامی لوگوں کو درخت کاٹنا پڑتے ہیں۔

عائشہ کے مطابق اگر اتنی غربت اور مشکلات کے حامل علاقے میں آپ لوگوں کو سہولیات نہیں دیں گے تو وہ کیسے قدرتی ماحول کا تحفظ کریں گے۔ عائشہ بتاتی ہیں کہ دس سال پہلے تک ان علاقوں میں نومبر میں برف پڑتی تھی، جو اپریل میں پگھلتی تھی، جس کی وجہ سے پانی کی کمی نہیں ہوتی تھی لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کہیں فروری میں برف پڑتی ہے، جو مارچ یا اپریل میں جا کر پگھلتی ہے، اس لیے اب ان کے پاس پانی کی کمی ہوتی ہے۔ عائشہ کے ادارے نے چند دیہات میں پینے کا صاف پانی بھی فراہم کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب بنجر زمین بھی زیر کاشت آ رہی ہے۔

Pakistan Aisha Khan MGPO
عائشہ خان کے مطابق اب بہت سے دیہاتوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہےتصویر: MGPO

عائشہ کی قیادت میں گاؤں کے گھرانے قابلِ کاشت زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک حصہ کاشت کاری کے لیے گاؤں والوں کو دے دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے حصے پر درخت لگائے جاتے ہیں۔ دس پندرہ سال میں ایک درخت 40 ہزار روپے تک فروخت ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ قدرتی جنگلات میں درخت کاٹنے میں بھی کمی آتی ہے۔ زمین کے تیسرے حصے میں مویشیوں کے لیے چارہ اگایا جاتا ہے۔ ہر گاؤں میں ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے، جس میں 40 فیصد نمائندگی خواتین کی ہوتی ہے۔

عائشہ خان کا ادارہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تربیت بھی کرتا ہے۔ گلگت بلتستان کے چالیس تا پچاس دیہات میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ اب ان کا ادارہ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔