1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان صحافیوں کے لیے کتنا محفوظ؟

شامل شمس / عاطف توقیر12 ستمبر 2015

فوجی آپریشن کے ذریعے ملک کے متعدد بڑے شہروں کو محفوظ بنا دیے جانے کے حکومتی دعووں کے برعکس پاکستان میں دو صحافی حال ہی میں قتل کر دیے گئے۔ صورت حال ایسی کیوں ہے، ڈی ڈبلیو نے اس امر کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔

https://p.dw.com/p/1GVWT
Pakistan P.E.N. Inhaftierter pakistanischer Journalist
تصویر: picture alliance/dpa

صحافیوں کی بین الاقوامی فیڈریشن (IFJ) اور اس سے جڑی پاکستانی فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر کراچی شہر میں دو صحافیوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سینیئر صحافی آفتاب عالم کو پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ان کے گھر کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ماضی میں جیو ٹی وی سے وابستہ رہنے والے آفتاب عالم کو فوجی آپریشن پر ناقدانہ رپورٹنگ کے تناظر میں فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا تھا۔

گزشتہ بدھ ہی کے روز اس واقعے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد 45 سالہ ارشد علی جعفری کو بھی مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جعفری بھی جیو ٹی وی سے بطور سیٹلائٹ انجینیئر وابستہ تھے۔ اسی روز سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی سے وابستہ صحافی عبدالاعظم ملک بھی شمال مغربی شہر پشاور میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے۔

Pakistan - Karachi
حکومت کے مطابق کراچی آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہو رہا ہےتصویر: Getty Images/AFP/R. Tabassum

ان حملوں کی آئی ایف جے اور پی ایف یو جے نے شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اپنے بیان میں ان دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے کتنی غیرمحفوظ جگہ ہے۔ ان تنظیموں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

یہ ہلاکتیں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں، جب پاکستانی حکومت نیم فوجی دستوں کی مدد سے کراچی شہر میں ’دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد‘ کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اعلان کر چکے ہیں کہ کراچی کو ’ٹارگٹڈ حملوں‘ سے نجات دلائی جائے گی۔

ملک کے معروف میڈیا گروپ، جنگ گروپ سے وابستہ سینیئر صحافی غازی صلاح الدین کے مطابق مذہبی انتہا پسند اور سکیورٹی فورسز دونوں صحافیوں کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو انتہائی مشکل حالات میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ ’’بہت سے صحافی خوف زدہ ہیں۔ ان کے لیے یہ انتہائی مشکل ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔‘‘ انہوں نے صحافتی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور میڈیا سے وابستہ افراد کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے کام کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسیفک خطے کے نائب ڈائریکٹر ڈیوڈ گرِفیتھ کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ ایمنسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2008 سے 2014 تک پاکستان میں صحافیوں کے قتل کے 34 واقعات سامنے آئے۔

گرِفیتھ کے مطابق، ’’یہ ایسی صورت حال ہے، جس پر حکام کو فوری توجہ دینا چاہیے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم قدم یہ ہو گا کہ پاکستان اپنی خفیہ ایجنسیوں اور فوج کی ایسے واقعات میں ملوث ہونے کی تفتیش کرے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات میں ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اس سے صحافیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں کو ایک سخت پیغام ملے گا اور صورت حال میں بہتری پیدا ہو گی۔‘‘