1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کون ہوگا پاکستانی فوج کا نیا سربراہ ؟

بینش جاوید
22 نومبر 2016

پاکستانی عوام کے ایک بڑے حلقے میں مقبول اورعسکریت پسندوں کے عزائم کو زوردار دھچکا دینے والے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف رواں ہفتے اپنے طاقت ور عہدے کو خیر باد کہہ دیں گے۔

https://p.dw.com/p/2T4r8
Pakistan Armee General Raheel Ahareef
تصویر: ISPR

تجزیہ کار حسن عسکری نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا،’’ پاکستان میں صرف فوج وہ واحد ادارہ ہے جس میں نظم و ضبط قائم ہے لہذا پاکستانی فوج اس بات کا فائدہ اٹھاتی ہے اور سیاست میں کھل عام اور کبھی خفیہ طور پر اپنا کردار ادا کرتی ہے۔‘‘

گزشتہ روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فوج کے سربراہ نے ریٹائر ہونے سے قبل الوداعی دوروں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اعلان نے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کی جانے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر جنرل راحیل شریف کو سراہا بھی جا رہا ہے۔ جب کہ کچھ کی رائے میں پاکستان میں جمہوریت تب ہی پروان چڑھے گی جب فوجی سربراہ کا اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ کروانا ایک معمول کا عمل بن جائے گا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جو کوئی بھی جنرل راحیل شریف کی جگہ لے گا اس کو جس بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا اور وہ ہے پاکستانی عوام کو یہ تسلی دینا ہوگی کہ پاکستان کو روایتی حلیف بھارت سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد نواز شریف کی حکومت کو بدعنوان  تصور کرتی ہے جبکہ فوج کو ملک میں استحکام پیدا کرنے والے ایک ادارے کے طور پر دیکھتی ہے۔

اگلے آرمی چیف کے انتخاب کا فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے رواں ہفتے کے دوران ہی کرنا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات اس فہرست میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں۔ جنرل حیات ماضی میں پاکستان کے جوہری پروگرام کی سکیورٹی کے ذمہ دار رہ چکے ہیں۔ جنرل حیات کے بعد لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کا نام لیا جا رہا ہے جو ملتان کور کے کمانڈر ہیں۔ پاکستان کے اس انتہائی اہم عہدے کی دوڑ میں لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے بھی شامل ہیں۔

Pakistan Raheel Sharif in Rawalpindi
پاکستان کے اس انتہائی اہم عہدے کی دوڑ میں لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے بھی شامل ہیںتصویر: ISPR

اگلے آرمی چیف کو پاکستان کے روایتی حریف بھارت اور مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا سامنا ہوگا۔ ملک میں جاری عسکریت پسندی کے حوالے سے بھی نئے آرمی چیف کو چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں جنرل راحیل شریف نے اہم کردار ادا کیا ہے۔  سوشل میڈیا پر کافی عرصے تک ’ہیش ٹیگ تھینک یو راحیل شریف‘ مہم جاری رہی تھی۔ اس مہم میں کچھ افراد جنرل راحیل شریف کو سویلین حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بھی مشورے دیتے تھے۔ نئے آرمی چیف کو فوج اور سول حکومت کے درمیان قائم تناؤ کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ملک میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جنھوں نے موجودہ فوجی سربراہ کے کچھ فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کی رائے میں فوجی عدالتوں کا قیام غیر آئینی ہے۔ وہ ملک میں پھانسی کی سزا پر چھ برس سے جاری پابندی کو ہٹا کر اب مجرموں کو پھانسیاں دیے جانے کے بھی خلاف ہیں۔ 

پاکستان میں نواز شریف کی حکومت ہے لیکن وزیر اعظم کی انتظامیہ کو مالی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج ایک خاموش بغاوت کر رہی ہے۔  تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے اے ایف پی کو بتایا،’’ جنرل شریف فوج کو ریاست کے اندر ایک اور ریاست کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے یاد کیا جائے گا۔‘‘

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نئے آرمی چیف کو دیکھنا ہو گا کہ امریکا میں ٹرمپ کی حکومت اسلام آباد سے کیسے تعلقات رکھنا چاہتی ہے۔ امریکا نے سن 2002 سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان کو اربوں روپے فراہم کیے ہیں۔ نو منتخب امریکی صدر نے اب تک پاکستان کے بارے میں کچھ بھی واضح طور پر نہیں کہا تاہم مسلمانوں کے خلاف ان کے بیان، بیرون ملک امداد کو کم کرنے اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی بات نئے آرمی چیف کے لیے واضح اشارے ہونے چاہیں۔