1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پٹھان کوٹ ایئر بیس حملہ: مسعود اظہر کی بطور ملزم نامزدگی

مقبول ملک
19 دسمبر 2016

بھارتی فضائیہ کے پٹھان کوٹ اڈے پر اس سال جنوری میں کیے گئے خونریز حملے کے سلسلے میں بھارتی حکام نے ممنوعہ شدت پسند پاکستانی تنظیم جیش محمد کے بانی عسکریت پسند رہنما مسعود اظہر کو باقاعدہ طور پر ملزم نامزد کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/2UWd3
Indien Angriff auf einem Luftwaffenstützpunkt
تصویر: Getty Images/AFP/N. Nanu

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے پیر انیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس سال جنوری میں انڈین ایئر فورس کے پٹھان کوٹ میں واقع اڈے پر عسکریت پسندوں کا خونریز حملہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں شدید کشیدگی کی وجہ بنا تھا اور اسی حملے کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں کے باہمی تعلقات میں تعطل اور کشیدگی پیدا ہو گئے تھے، جو ابھی تک جاری ہیں۔

پٹھان کوٹ حملہ، پاکستانی تفتیشی ٹیم بھارت میں

پٹھان کوٹ حملہ ، ٹیلی فون نمبر کا تعلق جیش محمد سے

بھارتی ایئر بیس حملے میں جیش محمد ملوث نہیں، پاکستانی حکام

مبینہ طور پر اس حملے کا مرکزی منصوبہ ساز ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اب نئی دہلی نے پاکستانی عسکریت پسند رہنما مولانا مسعود اظہر کو اس واقعے میں باقاعدہ طور پر ملزم نامزد کر دیا ہے۔ پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے میں سات بھارتی فوجی مارے گئے تھے اور نئی دہلی حکومت کہہ چکی ہے کہ بظاہر صرف عسکریت پسندوں کی طرف سے کیا جانے والا یہ حملہ اسلام آباد حکومت کی مبینہ مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔

Moulana Masood Azhar
مولانا مسعود اظہرتصویر: picture-alliance / dpa

بھارتی حکومت اس حملے کا براہ راست الزام پاکستان میں موجود لیکن ممنوع قرار دی جا چکی عسکریت پسند تنظیم جیش محمد پر عائد کرتی ہے، جس کی بنیاد مولانا مسعود اظہر نے رکھی تھی۔ مسعود اظہر کو 1999ء میں ہائی جیک کیے جانے والے انڈین ایئر لائنز کے ایک طیارے کے مسافروں کے بدلے ایک بھارتی جیل سے رہا کروایا گیا تھا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی طرف سے پیر انیس دسمبر کے روز مولانا مسعود اظہر پر باقاعدہ طور پر پٹھان کوٹ حملے کا مرکزی ملزم ہونے کا الزام عائد کر دیا گیا۔ این آئی اے نے اس حملے سے متعلق اپنی طویل اور بہت مفصل چھان بین پوری کرنے کے بعد پیر کے روز مولانا مسعود اظہر کے علاوہ ان کے بھائی رؤف اصغر اور جیش محمد کے دو دیگر ارکان کو بھی ملزم نامزد کرتے ہوئے ان پر باقاعدہ الزامات عائد کر دیے ہیں۔

NIA کے ایک اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے ان ملزمان پر عائد کردہ الزامات سے متعلق چارج شیٹ جمع کرا دی ہے اور اس سلسلے میں مزید چھان بین جاری رہے گی۔‘‘ بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اس اہلکار نے مزید کہا، ’’ہمارے پاس ان ملزمان کے خلاف مادی شواہد موجود ہیں۔‘‘

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے متنازعہ خطے سے باہر بھارتی مسلح افواج میں سے ملکی فضائیہ کے ایک اہم اڈے پر یہ خونریز حملہ ایک ایسا واقعہ تھا، جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت ہی کم نظر آنے والے واقعات میں سے ایک تھا۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کے تمام ملزم ’پاکستان میں‘ ہیں۔

Indien Angriff auf Luftwaffenstützpunkt in Punjab
پٹھان کوٹ ایئر فورس پر یہ حملہ دو جنوری کو کیا گیا تھاتصویر: Reuters/M. Gupta

پاکستان نے عسکریت پسند گروپ جیش محمد کو 2002ء میں ممنوع قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی تھی۔ اسلام آباد حکومت نے یہ قدم اس واقعے کے ایک سال بعد اٹھایا تھا، جب 2001ء میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمان پر ایک مسلح حملہ کیا گیا تھا۔ بھارتی حکام نے اس حملے کا ذمے دار جیش محمد کو قرار دیا تھا اور انڈین پارلیمنٹ پر اس حملے کےنتیجے میں دونوں ہمسایہ ملک تب ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ پاکستانی حکام نے ممبئی میں 2008ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس ممنوعہ گروپ کے رہنما مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں اسے رہا کر دیا گیا تھا۔

این آئی اے کے تفتیشی ماہرین کے مطابق مسعود اظہر کے بھائی رؤف اصغر نے پٹھان کوٹ حملے کے بعد پوسٹ کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی۔ این آئی اے نے اپنی چھان بین کے بعد اب کہا ہے کہ دو جنوری کو کیے گئے اس حملے میں شریک چاروں ’پاکستانی عسکریت پسند‘ مارے گئے تھے۔ اس کے برعکس اس حملے کے فوری بعد بھارتی حکام نے ان حملہ آوروں کی مجموعی تعداد چھ بتائی تھی۔