1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کمپیوٹر ہیکنگ برائے تاوان

13 مئی 2017

دنیا کے تقریباً سو ممالک کے چند معروف کاروباری ادارے،سرکاری محکمے اور صارفین کے کمپیوٹرز ہیکرز کے حملے کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہیکرز نے کہا ہے کہ صرف تاوان ادا کرنے کے بعد ہی ان کمپیوٹرز پر دوبارہ سے کام کیا جا سکے گا۔

https://p.dw.com/p/2cuCi
Symbolbild Hackerangriff
تصویر: picture alliance/dpa

 ہیکرز نے اپنے بیان میں دھمکی دے ہی کہ اگر مقررہ وقت پر رقم کا بندوبست نہیں کیا گیا تو کمپیوٹرز سے تمام معلومات مٹا دی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ہیکرز نے اس سلسلے میں تین سو سے لے کر چھ سو ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ اس شعبے کے ماہرین کے مطابق سائبر حملہ آوروں نے اس مقصد کے لیے رینسم ویئر نامی وائرس کا استعمال کیا ہے، یہ وائرس کمپیوٹر میں موجود معلومات کو اینکرپٹ یا انکوڈ کر دیتا ہے تاکہ ہیکرز کے علاوہ اسے کوئی دوسرا پڑھ نہ سکے۔

انٹرنیٹ سکیورٹی کی کاسپیرسکی نامی کمپنی کے کوسٹن راؤ نے بتایا کہ دنیا کے 74 ممالک میں ہیکنگ کے تقریباً 45 ہزار واقعات ہوئے ہیں جبکہ اسی شعبے کی ایک اور کمپنی ’ایوسٹ‘ کے مطابق 99 ممالک میں 75 ہزار سائبر حملے ہوئے ہیں۔

Großbritannien London Krankenhäuser
تصویر: Reuters/S. Wermuth

ان سائبر حملوں سے متاثر ہونے والوں میں برطانیہ کے ہسپتال، مواصلاتی شعبے کی ہسپانوی کمپنی ’ٹیلیفونیکا‘ اور روسی وزارت داخلہ کا دفتر بھی شامل ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کے بقول،’’ کم از کم ایک ہزار کمپیوٹرز پر ہیکرز نے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اس دوران کوئی معلومات ضائع نہیں ہوئی ہے۔‘‘ 

بتایا گیا ہے کہ جرمن ریلوے’ڈوئچے بان‘ بھی ہیکرز کا نشانہ بنی ہے۔ تاہم آج ہفتے کو ڈوئچے بان کے ترجمان نے بتایا کہ ہیکنگ سے ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا، بیلجیم، فرانس، اٹلی اور میکسیکو کے ادارے اور صارفین بھی اس حملے کی زد میں آئے ہیں۔ امریکا میں سامان کی ترسیل کرنے والی کمپنی ’فیڈ ایکس‘ سائبر حملے کی وجہ سے ہونے والی بدانتظامی پر صارفین سے پہلے ہی معذرت کی ہے۔