صحت

کینسر ادویات کو متعارف کرانے میں یورپی ادارے کی جلد بازی

ایسا تاثر ابھرا ہے کہ نئی ادویات کو منظور کرنے والے یورپی ادارے نے کینسر کی نئی دواؤں کی منظوری میں جلد بازی دکھائی ہے۔ اس مناسبت سے برطانوی اور لٹوین سائنسدانوں نے ايک تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے۔

Symbolbild Arzneimittel (picture-alliance/dpa/D. Reinhardt)

گزشتہ چند برسوں کے دوران یورپی میڈیسن ایجنسی نے سرطان کے علاج کے لیے جو نئی ادویات منظور کی تھیں، ان میں سےصرف نصف دواؤں کے استعمال سے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ بقیہ دوائیں کوئی شافی اثر ظاہر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس حوالے سے برطانیہ اور بالٹک ریاست لٹویا کے طبی محققین نے تجزیہ کر کے رپورٹ کیا ہے کہ سن 2009 اور سن 2013 کے درمیان یورپی ادارے نے کینسر دواؤں کو مارکیٹ کرنے کی توثیق محض ابتدائی اندازوں کی بنیاد پر کی تھی۔

بھارتی خواتین کی کینسر کے خلاف جنگ سینیٹری پیڈز کی مدد سے

اب جین تھراپی کے ذریعے کینسر کا علاج ممکن

تمباکو کے باعث پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ ہلاکتیں

انسانی دودھ سے کینسر کا علاج

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ رپورٹ بقیہ طبی ریسرچ کی نگرانی کرنے والے اداروں سے منظور ہو جاتی ہے تو یہ ایک بڑا اسکینڈل ہو گا اور یورپی میڈیسن ادارے کے کئی اہم اہلکاروں کو مشکل حالات کا سامنا ہو سکے گا۔ سرطان مرض کے انسداد کے لیے جن ادویات کی منظوری دی گئی تھی، اُن میں سے بیشتر کا تعلق سرطانی رسولی کے سکڑنے سے تھا۔ بعض دوائیں بريسٹ کینسر اور پراسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھی تجویز کی جاتی رہی ہیں۔

England Hauptquatier der Europäischen Arzneimittelagentur EMA in London (REUTERS/H. McKay
)

لندن میں قائم یورپی میڈیسن ایجنسی کا ہیڈکوارٹرز

رپورٹ کے مطابق سن 2009 اور سن 2013 کے درمیانی عرصے میں یورپی میڈیسن ایجنسی نے کُل اڑتالیس ادویات کی منظوری دی تھی اور ان کو مختلف قسم کے اڑسٹھ کینسر اقسام کے لیے استعمال کرنے کے لیے جائز قرار دیا گیا تھا۔ نئی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان دواؤں کو کرائے کے مریضوں پر ابتدائی استعمال کی رپورٹ پر منظوری دی گئی تھی جبکہ ایسے مہلک امراض کے لیے منظور کی جانے والی دواؤں کے لیے مثبت اور ٹھوس طبی شواہد درکار ہوتے ہیں۔

لندن اسکول آف اکنامکس اور پولیٹیکل سائنسز کے شعبے سے منسلک حسین ناجی نئی تجزیاتی رپورٹ کے مرتبین میں سے ایک ہیں۔ ناجی کے مطابق یورپی ایجنسی کی منظوری کے عمل نے ریسرچرز کو حیران کر دیا کہ مارکیٹ میں ایسی دوائیں عام کر دی گئی ہیں جن کے حوالے سے مضبوط اور مثبت شواہد دستیاب ہی نہیں ہیں۔ ریسرچر ناجی کے مطابق ادویات ساز اداروں کو دوا کی منظوری کے لیے اپنی ریسرچ میں محنت و لگن ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ناجی نے بتایا کہ یورپ کے بعض ملکوں میں نئی دواوں کے مارکیٹ کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی معیارت کے تناظر میں سخت قوانین کا نفاذ ضروری ہے۔

 اس رپورٹ پر یورپی میڈیسن ایجنسی نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:34

پراسٹیٹ کینسر کا علاج

DW.COM

Audios and videos on the topic

Albanian Shqip

Amharic አማርኛ

Arabic العربية

Bengali বাংলা

Bosnian B/H/S

Bulgarian Български

Chinese (Simplified) 简

Chinese (Traditional) 繁

Croatian Hrvatski

Dari دری

English English

French Français

German Deutsch

Greek Ελληνικά

Hausa Hausa

Hindi हिन्दी

Indonesian Bahasa Indonesia

Kiswahili Kiswahili

Macedonian Македонски

Pashto پښتو

Persian فارسی

Polish Polski

Portuguese Português para África

Portuguese Português do Brasil

Romanian Română

Russian Русский

Serbian Српски/Srpski

Spanish Español

Turkish Türkçe

Ukrainian Українська

Urdu اردو