1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہلاکتیں 560 سے زائد، لیبیا کی اپوزیشن کا دعویٰ

22 فروری 2011

لیبیا میں ملکی اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 560 سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباﹰ 1400 ابھی تک لا پتہ ہیں۔

https://p.dw.com/p/10Lpq
تصویر: abaca

یہ خبر معمر قذافی کی مخالف اپوزیشن کے حوالے سے العربیہ ٹی وی چینل پر نشر ہوئی تاہم لیبیا میں اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

Unruhen in Libyen Dossierbild 1
ہلاک شدگان کے حوالے سے متضاد خبریں مل رہی ہیںتصویر: AP

اس سے قبل لیبیا میں اپوزیشن کی ایک جماعت سے تعلق رکھنے والے اور ملکی دارالحکومت طرابلس کے ایک رہائشی محمد علی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے حکومت مخالف مظاہرین کی لاشیں طرابلس کی مختلف سڑکوں پر پڑی ہیں۔

محمد علی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ معمر قذافی کے وفادار سکیورٹی اہلکاروں نے طرابلس کے متعدد علاقوں میں مظاہرین کے خلاف خودکار ہتھیاروں کا اندھا دھند استعمال کیا اور ’ابھی تک کئی شدید زخمی افراد اور ہلاک شدگان کے لاشے‘ مختلف سڑکوں پر بے یار و مددگار پڑے ہیں۔

محمد علی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایک ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی۔ علی کے بقول شہر کے متعدد علاقوں میں رہائشی اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ اگر کوئی بھی شخص اپنے گھر سے باہر نکلا، تو اسے گولی مار دی جائے گی۔

Libyen Unruhen Gaddafi Tripolis 20.02.2011 NO FLASH
مظاہرین نے کئی حکومتی عمارتیں نذر آتش کر دی ہیںتصویر: picture alliance/dpa

محمد علی منگل کے روز طرابلس سے دبئی پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد زخمی ہسپتال نہ پہنچائے جانے کی وجہ سے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ لیبیا میں بین الاقوامی میڈیا پر پابندیوں اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون رابطوں میں بھی تعطل کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی اصل تعداد کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے۔ ان ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے حکومت اور مظاہرین کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی خاتون سربراہ ناوی پیلائی نے لیبیا میں حکام کو خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال اور بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے زمرے میں بھی لایا جا سکتا ہے۔

ناوی پیلائی نے یہ بھی کہا کہ لیبیا میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں گی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں