1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

آٹھ سو ملين سے زائد افراد خوراک کی کمی کے شکار

عاصم سلیم
15 ستمبر 2017

اقوام متحدہ کی ايک تازہ رپورٹ ميں يہ انکشاف کيا گيا ہے کہ سن 2016 ميں عالمی سطح پر 815 ملين افراد ايسے تھے جنہيں بھوک کا سامنا تھا۔ عالمی ادارے نے خبردار کيا ہے کہ ايسے افراد کی تعداد ميں اضافہ ہو رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/2k3jV
Hunger in Somalia
تصویر: picture alliance/AP Photo/F. A. Warsameh

بھوک يا خوراک کی کمی  کے شکار افراد کی تعداد سن 2015 ميں 777 ملين تھی، جو اضافے کے ساتھ پچھلے سال يعنی سن 2016 ميں 815 ملين رہی۔ يہ بات ’دا اسٹيٹ آف فوڈ انسکيورٹی اينڈ نيوٹريشن ان دا ورلڈ‘ نامی اقوام متحدہ کی جمعے پندرہ ستمبر کو جاری کردہ رپورٹ ميں بتائی گئی ہے۔ عالمی ادارے کی ايجنسيوں نے اس پيشرفت کی ذمہ داری مسلح تنازعات، موسمياتی تبديليوں اور اقتصادی ترقی کی رفتار ميں کمی پر عائد کی ہے۔ رپورٹ ميں جنوبی سوڈان، نائجيريا، صوماليہ اور يمن کی صورتحال پر بالخصوص تشويش کا اظہار کيا گيا ہے۔

جمعے کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کو ورلڈ ہيلتھ آرگنائزيشن، يونيسف اور فوڈ اينڈ ايگريکلچر آرگنائزيشن، انٹرنيشنل فنڈ فار ايگريکلچر ڈيولپمنٹ اور دا فوڈ پروگرام کے اشتراک سے ترتيب ديا گيا ہے۔ ان اداروں کے مطابق تاحال يہ واضح نہيں کہ يہ اضافہ عارضی ہے يا کسی طويل المدتی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم 2030ء تک دنيا بھر سے خوراک کی عدم دستيابی ختم کرنے کے سلسلے ميں بين الاقوامی برادری کے ليے ايک چيلنج ضرور ہے۔

’فوڈ اينڈ ايگريکلچر آرگنائزيشن‘ کے ڈائريکٹر جنرل يوژے گرازيانو کا کہنا ہے کہ ميانمار اور بنگلہ ديش ميں روہنگيا مسلمانوں کو درپيش صورتحال کے باوجود، وہ پر اعتماد ہيں کہ چند مسلح تنازعات کے اثرات آئندہ برس تک ختم ہو جائيں گے۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو خوراک کی عدم دستيابی کے شکار 520 ملين سے زائد افراد براعظم ايشيا ميں ہيں۔ براعظم افريقہ کی کُل بيس فيصد آبادی يا 243 ملين افراد کو بھی يہی صورت حال لاحق ہے۔

روہنگیا مہاجرین کو بنگلہ دیش میں بھوک اور پیاس کا سامنا