1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اردن میں تھری ڈی ٹیکنالوجی سے مصنوعی اعضاء کی پروڈکشن

عابد حسین
22 فروری 2018

اردن میں اعضاء سے محروم ہونے والے شامی اور عراقی مہاجرین کے لیے مصنوعی اعضاء کی پروڈکشن شروع ہو گئی ہے۔ ان اعضاء کی تیاری میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/2t7Yj
Afghanistan ICRC Orthopädie
تصویر: DW/S. Tanha

طبی امداد فراہم کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اردن میں مقیم ایسے شامی اور عراقی مہاجرین کو مصنوعی اعضاء کی فراہمی شروع کر دی ہے، جو اپنے اپنے ملکوں کے جنگی حالات کے دوران معذور ہو چکے ہیں۔ یہ تنظیم یمن کی خانہ جنگی میں معذور ہونے والے افراد کو بھی مصنوعی اعضاء فراہم کرے گی۔

نمک کے ذرے جتنا کیمرہ سرنج کے ذریعے جسم میں، نتائج ہوشربا

’تھری ڈی‘ پرنٹنگ کے ذریعے بنایا گیا پہلا ہوائی جہاز

دنیا کا پہلا تھری ڈی پرنٹڈ دفتر

تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے اپنے من پسند بسکٹ بنائیے

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق تھری ڈی ٹیکنالوجی نے انسانی جسم کے اوپری دھڑ کے بعض اعضاء کی مصنوعی پروڈکشن میں خاصی مدد کی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک عضو کو مصنوعی طور پر تیار کرنے کی لاگت میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ مصنوعی طور پر اعضاء کی پروڈکشن میں پروستھین کا استعمال کیا گیا ہے۔

VR virtual Reality Brillen in der Medizin
ایک ریسرچر تھری ڈی چشمے کے ذریعے انسانی سر کی ہڈیوں کی ڈرائنگ کرتے ہوئےتصویر: Getty Images/NASA

عراق کے کرد علاقے کے شہر اربیل سے تعلق رکھنے والے ایک عراقی فوجی کا ہاتھ موصل میں اسلامک اسٹیٹ کے قبضے کے دوران ایک نصب شدہ بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ضائع ہو گیا تھا۔ ہاتھ سے محروم ہونے والے عراقی فوجی عبداللہ کو اردن میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا سب سے پہلا عضو یعنی مصنوعی ہاتھ اُس کے بازو کے ساتھ پیوند کاری کے ذریعے جوڑ دیا گیا ہے۔ 

تھری ڈی پرنٹر کیسے کام کرتے ہیں؟

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اردن کے تیسرے بڑے شہر اربد میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی اعضاء کی تیاری کا ریسرچ اور پروڈکشن یونٹ گزشتہ برس جون میں قائم کیا تھا۔ اس سلسلے میں ماہر ریسرچرز کی خدمات حاصل کی گئیں۔

اعضاء سے محروم ہونے والے افراد کی تصاویر کے ذریعے تھری ڈی پروڈکشن کا سلسلہ پہلے آزمائشی طور پر شروع کیا گیا تھا۔ اربد کا مرکز شام، عراق اور یمن کے جنگی حالات سے متاثرہ افراد کے ساتھ ساتھ پیدائشی طور پر اعضاء سے محروم افراد کو بھی خصوصی توجہ فراہم کرتے ہوئے اُن کی جسمانی محرومی ختم کرنے کی منصوبہ بندی کیے ہوئے ہے۔