1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اس برس جرمن کمپنیوں میں زیر تربیت مہاجرین کی تعداد دگنی

20 مارچ 2018

جرمنی میں سن 2017 کے دوران مختلف مقامی کمپنیوں میں ہنر سیکھنے والے (یا آؤس بلڈُنگ کرنے والے) مہاجرین کی تعداد اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا رہی۔

https://p.dw.com/p/2udmN
Deutschland Studentenjobs | Schwarzes Brett
تصویر: picture alliance/Bildagentur-online/Schoening

جرمنی وفاقی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ملک بھر میں مختلف جرمن کمپنیوں میں فنی تربیت حاصل کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی مجموعی تعداد نو ہزار تین سو رہی جو اس سے پچھلے برس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

’شام کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے‘

اس سے پچھلے برس مجموعی طور پر انتالیس سو مہاجرین جرمن کمپنیوں میں انٹرنشپ (یا جرمن زبان میں آؤس بلڈُنگ) کر رہے تھے۔ یہ اعداد و شمار جرمنی کے ’فُنکے میڈیا گروپ‘ نے وفاقی چیمبر آف کامرس و انڈسٹری (ڈی آئی ایچ کے) کے حوالے سے آج بییس مارچ بروز بدھ جاری کیے ہیں۔

فُنکے میڈیا گروپ کے مطابق زیر تربیت تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں طور پر اضافے کے باجود اگر ان کا تقابل ملک میں آنے والے نوجوان  بے روزگار تارکین وطن سے کیا جائے تو یہ شرح انتہائی کم ہے۔ وفاقی جرمن دفتر روزگار کے مطابق سن 2017 کے اختتام تک ملک میں دو لاکھ ایسے بے روزگار تارکین وطن تھے جن کی عمریں پچیس برس سے کم ہیں۔

اس صورت حال کے حوالے سے ڈی آئی ایچ کے کے سربراہ آشیم ڈیرکس کا کہنا تھا، ’’موجودہ اور آئندہ آنے والے برسوں کے دوران مہاجرین اور تارکین وطن کو فنی تربیت کی فراہمی میں نمایاں طور پر اضافہ کیا جائے گا۔‘‘

ڈیرکس نے تربیت فراہم کرنے والی جرمن کمپنیوں کے مہاجرین کے ساتھ تجربات کے حوالے سے بتایا کہ عام طور پر انہیں جرمنوں کی نسبت مہاجرین اور تارکین وطن کو ہنر سکھانے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس حوالے سے مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑی رکاوٹ جرمن زبان سے ناواقفیت ہے۔

جرمن چیمبر آف کامرس و انڈسٹری کے سربراہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاجرین کو تربیت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے کاروباری اداروں کو مالی معاونت فراہم کریں۔

مہاجرین کی حقیقی عمر کا تعین ممکن نہیں، جرمن حکومت

ش ح/ا د (ڈی پی اے، اے ایف پی)