1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’اس مسجد میں ان ناموں کا تو ہم اعلان ہی نہیں کرتے‘

24 اپریل 2022

میرے ساتھ ایک لمحہ کے لیے صرف تصور کیجیے۔ 14 برس کی ایک بچی گھر نہیں لوٹی، اس کے پریشان والدین ہزار وسوسوں اور امید کے درمیان جھولتے اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے کے لیے در بدر بھٹک رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4ALlX
Unbreen Fatima
تصویر: Privat

خاندان کی خواتین مصلے بچھائے آنسوؤں کے سائے میں بچی کے صحیح سلامت مل جانے کی دعائیں مانگ رہی ہیں اور مرد محلے کی گلی کے چپے چپے کو کھوج رہے ہیں۔ شہر بھر کے ہسپتالوں اور مردہ خانے میں اپنے لخت جگر کی تلاش میں قدم رکھنا کس قدر اذیت ناک احساس ہے! یہ تو صرف وہی سمجھ سکتے ہیں، جن پر یہ قیامت گزری ہو۔

 اپنی اولاد، اپنی بیٹی کی تلاش میں سرگرداں ایک باپ کی بے بسی کتنے لوگ محسوس کر سکتے ہیں؟ باپ جو اپنی بیٹیوں کے محافظ ہوتے ہیں، وہ کس طرح اس احساس کو جھیل پاتے ہیں کہ ان کی کم سن بیٹی لاپتہ ہو گئی ہے۔ ایک باپ اپنی لرزتی روح اور کانپتے دل کے ساتھ ہر وہ دروازہ کھٹکھاتا ہے، جہاں سے اسے مدد کی امید ہوتی ہے۔

ایسے وقت میں اپنے پرائے سب یک جان ہوتے ہوئے اس باپ کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ بیٹیاں تو 'سب کی سانجھی‘ ہوتی ہیں۔ کبھی ہمارے معاشرے کی خوبصورتی ایسے لمحوں میں پنہاں تھی، جب مذہب، مسلک، ذات پات اور سماجی رتبہ سب ایک طرف ہوتا تھا اور بے بس باپ کی مدد ایک طرف۔ لیکن یہ کیسا وقت ہم پر آگیا کہ ایک باپ بڑی امید کے ساتھ خدا کے گھر خدا کے بندوں سے صرف اعلان کی صورت میں مدد طلب کرنے گیا اور اسے یہ کہہ کر لوٹا دیا گیا کہ ’’اس مسجد میں ان ناموں کا تو ہم اعلان ہی نہیں کرتے۔‘‘

 ایک لمحے کے لیے ذرا سوچیے! دعا زہرا، چودہ سال کی دعا زہرا، جس کے اہلخانہ کی زبانیں اپنی دعاؤں میں اس کا نام لیتے نہیں تھک رہیں، بقول دعا کے والد، اس دعا کا نام لینے اور گمشدگی کا اعلان کرنے سے علاقے کی مساجد انکار کر دیتی ہیں۔  

میں یہ نہیں کہتی کہ مسلکی تفریق کی بنیاد پر ایک بے بس اور مجبور پاب کو یہ پیغام دیا گیا۔ لیکن میں صرف اتنا جاننا چاہتی ہوں کہ جواب دینے والے نے پریشان حال باپ کے چہرے پر کیسے نظر ڈالی ہو گی اور کیسے یہ کہتے ہوئے لوٹا دیا کہ ''ان ناموں کا تو ہم اعلان نہیں کرتے۔‘‘ خدا کی بارگاہ میں پانچ وقت خدا کی جانب پکارنے والے آخر یہ کون لوگ ہیں، جو بے بس اور مجبور مخلوق کو اس کی ہی بارگاہ سے خالی ہاتھ لوٹا دیتے ہیں؟

کراچی کے علاقے الفلاح گولڈن ٹاؤن سے چودہ سال کی دعا زہرہ چند دن قبل گھر کا کوڑا باہر پھینکنے نکلی اور تاحال لاپتہ ہے۔ اس بچی کے والدین اپنی بیٹی کی تلاش میں ہر متعلقہ دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ دعا کی تلاش میں اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی نہیں بلکہ کئی صاحب دل افراد بھی مصروف ہیں۔

اس وقت لاکھوں افراد سماجی رابطوں کی تمام ویب سائٹس پر دعا کی تلاش کے لیے پیغام پھیلا رہے ہیں بلکہ اس کی باحفاظت واپسی کے لیے بھی دعاگو ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ وہ کیا وجہ ہے کہ کسی کی گمشدہ بیٹی کی تلاش میں مدد کے لیے اس کا نام مساجد کی در و دیوار سے پکارنے کے بجائے یہ کہہ کر نامراد لوٹا دیا گیا کہ ’’ان ناموں کا تو ہم اعلان ہی نہیں کرتے۔‘‘

 گوکہ سوشل میڈیا کے دور میں مساجد سے گمشدگیوں یا اموات کا اعلان کروانا وہ معنیٰ نہیں رکھتا، جو اب سے چند برس پہلے رکھتا تھا لیکن کسی پریشان حال شخص کو مساجدوں سے یہ جواب دینا نہ صرف انسانیت کی تذلیل ہے بلکہ ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔