1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایک مہاجر کی کہانی، کن فلم فیسٹیول میں

عاطف توقیر
29 مئی 2017

ایک سرحدی باڑ پر ٹانگ پر گولی لگنے کے باوجود اپنی منزل تک پہنچنے کی ایک غیرمعمولی تگ و دو کرنے والے مہاجر کی کہانی کن فلم فیسٹول میں پیش کی گئی۔

https://p.dw.com/p/2djVJ
Cannes Palme d'Or Goldene Palme Trophäe
تصویر: Getty Images/AFP/V. Hache

دنیا کے مشہور ترین فلمی میلوں میں سے ایک شمار ہونے والے کن فلم فیسٹیول میں اتوار کے روز ایک مہاجر کی منزل تک پہنچنے کی تگ و دو کی کہانی پر مبنی فلم کو ایک ایوارڈ بھی دیا  گیا۔ ہنگری سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹر کورنل مُنڈروچزو کی اس فلم میں یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران کا احوال پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم کی کہانی ایک مہاجر سے متعلق ہے، جسے سرحدی باڑ کے قریب ٹانگ میں گولی لگنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ غیرمعمولی قوتوں کا حامل ہے۔

Berlinale 2010 Photocall "Renn, wenn Du kannst"
یہ رنگا رنگ فلمی میلی فرانسیسی شہر کن میں منعقد ہوتا ہےتصویر: picture alliance/dpa

کن فلم فیسٹیول میں اس کے علاوہ ٹوڈ ہائنس کی فلم بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی ، جس میں سن 1920 اور 1970 کے حلات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس فلم کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ ہائنس کی گزشتہ فلم ’کیرول‘ کے مقابلے میں یہ فلم کم معیاری ہے۔ ہائنس کی پچھلی فلم چھ شعبوں میں آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی تھی۔

اس فلم فیسٹیول میں اس کے علاوہ متعدد آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’دی آرٹسٹ‘ کے ہدایت کار مائیکل ہازانا ویسیوس اور دیگر اہم ہدایات کار اور فلمی ستارے بھی شریک ہوئے، جب کہ دنیا بھر سے کئی فلموں کا پریمیر بھی اس فلمی میلے کا حصہ تھا۔