1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت 2030 ء تک گاڑیوں کو الیکٹرک کارز بنانے کا خواہش مند

9 مارچ 2018

بھارت میں لوگوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی ’اولا‘ نے گزشتہ برس 8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ نو ماہ بعد یہ پروگرام کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔

https://p.dw.com/p/2u159
Indien Elektro-Autos (ReutersA. Shah)
تصویر: Reuters/A. Shah

اس کمپنی کے ڈرائیور گاڑیوں کو چارج کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں چلانا عام گاڑیوں کی نسبت مہنگا بھی ہے۔ اسی لیے اب یہ ڈرائیور چاہتے ہیں کہ انہیں پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں چلانے کی اجازت دی جائے۔ بھارت کے مغربی شہر ناگپور میں روئٹرز نے اس کمپنی میں الیکٹرک گاڑیاں چلانے والے بیس ڈرائیوروں سے انٹرویو کیا۔ ان میں سے لگ بھگ درجن ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی الیکٹرک ٹیکسیوں کو کمپنی کو واپس دے دیا ہے اور اب وہ ڈیزل کی گاڑیاں چلا رہے ہیں یا چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اولا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ ناگپور میں اپنی 200 الیکٹرک گاڑیوں کے لیے پچاس مقامات پر چارجنگ یونٹس بنائیں گے لیکن اب تک وہ لگ بھگ 22 چارجنگ یونٹس لگانے میں ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت میں کاروبار شروع کرنا اور اسے چلانا اتنا آسان نہیں ہے اسی وجہ سے  اولا کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس  چارجنگ یونٹس پر ڈرائیوروں کی لمبی قطاروں نے سٹرکوں پر ٹریفک بڑھا دی تھی جس کے باعث اولا کو ایک چارجنگ یونٹ بند کرنا پڑا تھا۔ اولا کو درپیش مشکلات کے پیش نظر یہ مشکل لگتا ہے کہ بھارتی حکومت کا 2030 تک تمام گاڑیوں کو بجلی سے چلانے والا  منصوبہ پایہء تکمیل تک پہنچے گا۔

Indien Elektro-Autos
'ماہندرا اینڈ ماہندرا‘ بھارت کا واحد کارساز ادارہ ہے جو الیکٹرک گاڑیاں بنا رہا ہےتصویر: Reuters/S. Khandelwal

بین الاقوامی کار ساز ادارو‌ں نے کئی مرتبہ خبرادر کیا ہے کہ بھارت ابھی اس قابل نہیں ہے کہ وہاں تمام گاڑیاں بجلی سے چلنے والی ہوں۔ ان کی رائے میں اس جنوبی ایشیائی ملک کو ایک مفصل پالیسی مرتب کرنا ہوگی اور کار ساز اداروں کو الیکٹرک گاڑیاں بنانے کی طرف مائل کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔

بھارت کو گاڑیوں کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ قرار دیا ہے لیکن یہاں سالانہ فروخت ہونے والی 3 ملین گاڑیوں میں صرف0.1 فیصد الیکٹرک کارز تھیں۔ ان کی مانگ میں کمی کی وجہ ان کا بہت مہنگا ہونا اور چارجنگ یونٹس کے انفراسٹرکچر کا کم ہونا ہے۔

Indien Elektro-Autos
الیکٹرک گاڑیوں کے ایک چارجنگ یونٹ لگانے کے لیے 500 سے 25000 ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہےتصویر: Reuters/S. Khandelwal

'ماہندرا اینڈ ماہندرا‘ بھارت کا واحد کارساز ادارہ ہے جو الیکٹرک گاڑیاں بنا رہا ہے لیکن اس کی کم ترین قیمت والی گاڑی بھی ساڑھے سات لاکھ بھارتی روپوں سے زیادہ ہے۔ اس سال فروری میں بھارت کے آٹو شو میں الیکٹرک گاڑیوں کو کافی توجہ ملی تھی لیکن ان میں سے زیادہ تر بین الاقوامی منڈی کے لیے تھیں۔ ہونڈا، ٹویوٹا اور رینالٹ جیسے بڑے کار ساز ادارےبھارت میں الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ بھارت میں ٹویوٹا کے مینجنگ ڈائریکٹر آکیٹو ٹاچھیبانا کا کہنا ہے،’’ یہاں سرمایہ کاری کرنے میں بہت زیادہ رسک ہے۔‘‘

تجزیہ کاروں کی رائے میں الیکٹرک گاڑیوں کے ایک چارجنگ یونٹ لگانے کے لیے 500 سے 25000 ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے اور زمین کی قیمت الگ ہوتی ہے۔ کار ساز اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو کم از کم زمین فراہم کرنی چاہیے اور اسٹیشن بھی بنانا چاہیے۔ مستقبل میں نجی سرمایہ کار ان چارجنگ اسٹیشنز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

ب ج/ ع ا، روئٹرز