1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت میں لاکھوں سال پرانے پتھر کے اوزاروں کی دریافت

صائمہ حیدر
1 فروری 2018

ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق بھارت میں لاکھوں سال پرانے پتھر کے اوزاروں کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کے آباؤاجداد نے سابقہ  لگائے گئے اندازوں سے کہیں پہلے افریقہ سے ہجرت کی ہو گی۔

https://p.dw.com/p/2rt10
Nachbildung eines Neandertalers
تصویر: picture-alliance/dpa

یہ سائنسی مطالعہ پتھروں کے سات ہزار دو سو سے زائد قدیمی اوزاروں کی جانچ کے بعد کیا مرتب کیا گیا ہے۔ ان اوزاروں کو بھارت کی تامل ناڈو ریاست میں واقع آثار قدیمہ کے مقام  اتی رام پاکم سے جمع کیا گیا تھا جو چنائی سے قریب ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بھارتی اور فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ پتھر کے یہ اوزار تین لاکھ پچاسی ہزار سال قبل سے ایک لاکھ بہتر ہزار سال قبل کے درمیانی عرصے میں بنائے گئے تھے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت میں قدیمی وسطی حجری یا پتھر کے دور کی تہذیب کا آغاز اب تک لگائے گئے اندازوں سے کہیں پہلے ہوا تھا۔ اس سے قبل یہ مانا جاتا تھا کہ قدیمی حجری ثقافت کا یہ دور اب سے ایک لاکھ پچیس ہزار قبل شروع ہوا تھا۔

Afrika Homo sapiens
تصویر: picture-alliance/AP Photo/Sharma Centre for Heritage Education/K. Akhilesh, S. Pappu

محققین کا کہنا ہے کہ پتھر سے بنے لاکھوں سال پرانے ان اوزاروں کی بھارت میں دریافت کے بعد اب ابتدائی دور کے انسان کی افریقہ سے نقل مکانی کے وقت کو دوبارہ جانچا جا سکتا ہے۔ جدید انسانوں سے متعلق ابتدائی ترین ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ ہومو سیپیئنز افریقہ میں کم از کم تین لاکھ سال قبل پیدا ہوئے تھے۔

 بعد میں یہ ابتدائی انسان دنیا میں دوسری نو آبادیاں بنانے کے لیے افریقہ کے بر اعظم سے نقل مکانی کر گئے تھے۔ تاہم سائنسدان اس بات پر منقسم ہیں کہ یہ نقل مکانیاں کب اور کہاں کہاں ہوئیں۔

یہ بھی واضح نہیں کہ یہ ہجرت ایک ساتھ ہوئی یا گروہوں کی شکل میں کی گئی۔ متعدد سائنسدانوں کا ماننا یہ ہے کہ افریقہ سے کئی ایک  نقل مکانیاں ہوئیں جن میں سے محض چند ہی کامیاب ہو سکیں۔