1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ: چین نے ٹریلین ڈالر سے زائد قرضے دیے

7 نومبر 2023

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق چین نے سن دو ہزار سے دو ہزار اکیس تک کے درمیان اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے قرضے دیے۔

https://p.dw.com/p/4YWqw
Boten | China Investition in laotischer Stadt
تصویر: Oliver Raw/DW

ایک تازہ رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ سن دو ہزار سے دو ہزار اکیس تک کے درمیان چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو 1.34 ٹریلین ڈالر کے قرضے دیے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح چین دنیا کا سب سے بڑا قرض دہندہ ملک بن گیا ہے۔

چین کےبیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور اس پر بیجنگ حکومت کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کو دیے جانے والے قرضوں کے بارے میں یہ تفصیلات امریکہ میں قائم ایڈ ٹرانسپیرنسی انسٹیٹیوٹ AidData کے لیے امریکی محققین نے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ میں چین کو دنیا کے سب سے بڑے دو طرفہ قرض دہندہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔  اندازے کے مطابق چین کی طرف سے اس منصوبے کے سلسلے میں دیے گئے 80 فیصد قرضے مالی پریشانی میں مبتلا ممالک کی مدد کر رہے ہیں۔

Boten | China Investition in laotischer Stadt
چین ہر شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہےتصویر: Oliver Raw/DW

AidData کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، ''بیجنگ دنیا کے سب سے بڑے سرکاری قرض وصول کنندہ کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘

امریکی ریاست ورجینیا کے کالج آف ولیم اینڈ میری میں ترقیاتی مالیات پر نظر رکھنے والے اس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کہا ہےکہ ترقی پذیر دنیا کے قرض لینے والوں ممالک کی طرف سے چین سے لیا گیا کل بقایا قرض سود کو چھوڑ کر اب 1.1 ٹریلین ڈالر بنتا ہے۔

چین کا بیلٹ اینڈ روڈ فورم اور موضوع حماس اور اسرائیل

 

چین کے مطابق 2013 ء میں صدر شی جن پنگ کی طرف سے شروع کیے گئے اس بہت بڑے عالمی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے BRI پر 150 سے زائد ممالک نے دستخط کیے ہیں۔

Boten | China Investition in laotischer Stadt
چین کا BRI میں مزید 100 بلین ڈالر سے زیادہ کے نئے فنڈز لگائے کا وعدہتصویر: Oliver Raw/DW

قریب 165 ممالک میں تقریباً 21,000 منصوبوں کی چینی فنانسنگ سے متعلق  جمع کیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر AidData نے کہا ہے کہ بیجنگ نے اب کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے ''تقریباً 80 بلین ڈالر سالانہ‘‘ کی امداد اور کریڈٹ کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مغرب اور کچھ قرض وصول کنندہ ممالک کی طرف سے چین پر تنقید بھی کی گئی ہے، جیسے کہ سری لنکا اور زیمبیا کا کہنا ہے کہ کہ ان کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے جن کے لیے  چین نے مالی اعانت کی تھی، ان کے ذریعے ان پر قرضوں کا اتنا زیادہ بوجھ ڈالا گیا جس کی ادائیگی وہ نہیں کر پائے۔

پچھلے مہینے ایک سربراہی اجلاس میں اس منصوبے کی نقاب کشائی کے ایک دہائی مکمل ہونے پر  صدر شی نے کہا تھا کہ چین BRI میں مزید 100 بلین ڈالر سے زیادہ کے نئے فنڈز لگائے گا۔ تاہم اس سال جاری کی گئی عالمی بینک اور دیگر اداروں کی مشترکہ رپورٹ ،بشمول AidData، میں کہا گیا ہے کہ چین حالیہ برسوں میں BRI ممالک کو بیل آؤٹ قرضوں میں اربوں ڈالر دینے پر مجبور ہو گیا۔

ک م/ م م (اے ایف پی،روئٹرز)