1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنسی زيادتی کے واقعات پر خاموشی، مودی تنقید کی زد میں

18 اپریل 2018

بھارت میں انسانی حقوق کے علمبردار ریپ جیسے جرائم پر بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی پر انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مودی نے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔

https://p.dw.com/p/2wEaY
Double von Politikern NEW DELHI INDIA Lookalikes von Baba Ram Dev und Narendra Modi
تصویر: imago/Hindustan Times

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو دو انتہائی افسوس ناک واقعات پر گزشتہ ایک ہفتے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ایک واقعہ بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں پیش آیا جہاں ایک  آٹھ سالہ مسلمان بچی کو ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہفتے تک جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ پھر اس بچی کو قتل کر دیا گیا۔ یہاں صوبائی حکومت میں شامل بی جے پی کے دو وزراء کو اپنے عہدے سے اس لیے استعفی دينا پڑا کیوں کہ انہوں نے اس بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے مشتبہ افراد کی حمایت کی تھی۔

دوسرے کیس میں بھارت میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کے ایک سیاست دان کو ایک نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔

ایک اور ریپ، بھارت میں بڑھتے جنسی جرائم پر عوام کا غم و غصہ

کشمیری بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزم عدالت میں پیش

2014 ء میں اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نے ملک کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے لیکن حقیقت میں وہ یہ وعدے پورے نہیں کر پائے۔ بھارت میں ریپ کے کل متاثرین میں بچوں کی تعداد چالیس فیصد بنتی ہے۔ 2016ء میں ریپ کے چالیس ہزار کیسز درج کیے گئے تھے جو کہ 2012ء کے واقعات سے ساٹھ فیصد زیادہ ہیں۔ 2012ء  وہ سال ہے، جب نئی دہلی کی ایک بس میں ميڈيکل کی ايک طالبہ کے ریپ کے واقعے کے بعد ملک گیر احتجاجی ریلیاں نکالی گئی تھیں اور بعد ازاں سخت قانون سازی بھی کی گئی۔

آصفہ کو سیاسی شطرنج میں مہرے کی طرح استعمال کیا گیا

ناقدین کا کہنا ہے کہ ریپ کے ان حالیہ واقعات پر نریندر مودی کی خاموشی قابل قبول نہیں ہے۔ ان کی رائے میں ان جرائم سے متعلق بھارتی وزیر اعظم کا بیان بہت دیر میں آیا اور وہ ناکافی ہے۔ منگل کے روز بی جے پی کے ایک سینئر رکن یشونت سنھا نے بھارتی وزیر اعظم کو ایک خط میں لکھا، ’’بھارت میں آج خواتین سب سے غیر محفوظ ہیں۔ ریپ جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے بجائے ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ کچھ کیسز میں تو ہمارے اپنے لوگ ایسے ہولناک واقعات میں ملوث ہیں۔‘‘

کچھ ناقدین نے بی جے پی کی خواتین سیاست دانوں پر بھی انگلیاں اٹھائی ہیں۔ ان کی رائے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کے لیے ان خواتین رہنماؤں نے اس لیے آواز نہیں اٹھائی کیوں کہ متاثرہ بچی مسلمان تھی۔

آٹھ سالہ آصفہ کا ریپ اور قتل، بھارت سراپا احتجاج

گجرات، جہاں وزیر اعلیٰ رہنے کے بعد مودی ملک کے وزیر اعظم بنے تھے، وہاں اتوار کو ایک نوجوان لڑکی کی مسخ شدہ لاش ملی۔ اس لڑکی کو قتل کرنے سے قبل جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے بھارت کی معروف کاروباری شخصیت آنند مہندرا نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’پھانسی دینے والے کی نوکری ایسی نہیں جو ہر کوئی کرنا چاہے لیکن ریپ اور قتل کرنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے میں یہ کام کرنے کو تیار ہوں۔‘‘   

ب ج/ ع س ( روئٹرز)