1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود غوطہ پر حملے جاری

23 مارچ 2018

شامی علاقے مشرقی غوطہ میں جنگ بندی ڈیل کے باوجود تازہ فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری کے مطابق آج زَمَلکا اور عین تِرما کے علاقوں میں بمباری کی گئی جبکہ شامی فورسز کی حزہ کی طرف پیشقدمی جاری  ہے۔

https://p.dw.com/p/2uqRR
Syrien Luftangriffe auf Ost-Ghuta
تصویر: Getty Images/AFP/H. Al-Ajweh

دوسری جانب مشرقی غوطہ میں باغیوں کے ایک گروہ کی جانب سے جمعہ کی رات سے جنگ بندی کی ڈیل پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد شہریوں کو امدادی سامان کی فراہمی اور باغیوں کے انخلاء کو ممکن بنانا ہے۔

مشرقی غوطہ سے انخلا کرنے والوں کو بسوں کے ذریعے ملک کے شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب روانہ کیا گیا۔ ادلب وہ آخری صوبہ ہے جہاں حکومت ابھی تک کنٹرول حاصل نہیں کر سکی ہے۔ تاہم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جنگ بندی ڈیل کے باوجود ادلب میں ایک مارکیٹ پر تازہ فضائی حملے کیے گئے ہیں جن کی زد میں آکر  11 بچوں سمیت 28 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

Syrien Luftangriffe auf Ost-Ghuta
تصویر: Getty Images/AFP/H. Al-Ajweh

انخلا کے اس معاہدے کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا تھا جس کے مطابق  باغیوں کے زیر قبضہ غوطہ کے تین علاقوں کو باغیوں اور ان کے خاندانوں سے خالی کروایا جائے گا تاکہ حکومت دارالحکومت کے قریب مکمل کنٹرول حاصل کر سکے۔ اس معاہدے کا ایک مقصد اُن باغیوں کو مزید تنہا کرنا اور ایسے ہی معاہدے کے لیے دباؤ میں لانا ہے ، جنہوں نے مشرقی غوطہ کے دو حصوں پر اب بھی کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔

ملکی نیوز ایجنسی SANA کے مطابق غوطہ کے شہر حرستا سے 30 بسوں کے زریعے 413 جنگجووں سمیت 1580 افراد کو ادلب پہنچایا گیا۔ ہراستہ پر قبضہ کیے ہوئے  ایک باغی گروپ احرارالاشام کے ترجمان مُنظر فاریس کے مطابق انخلا کا یہ عمل کئی دن تک جاری رہ سکتا ہے۔

Syrien Abzug Rebellengruppen aus Ghuta
تصویر: Getty Images/AFP

اسد مخالف باغی غوطہ چھوڑنے پر تیار

مشرقی غوطہ میں شامی دستوں کی بڑی کامیابی

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق 18 فروری سے باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حکومتی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں اب تک 1500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مشرقی غوطہ میں مزید تیس روز تک فائربندی کے مطالبے کی تجویز